زیارت ، جو کبھی امن کا گہوارہ تھا!

میں نے پچھلے کالم میں بلوچستان کے علاقے زیارت میں ہونے والے دلخراش واقعے کا ذکر کیا تھا جس میں ہمارے درجنوں جوان شہید ہوگئے تھے،،، یہ واقعہ اب عمومی یادداشت کا حصہ بن گیا ہے۔ اب تک تو لوگ شدت پسندی یا جعلی پولیس مقابلوں میں مارے جانے والوں کی لاشیں لے کر دھرنا دیتے تھے، لیکن پہلی بار یہ منظر بھی دیکھنا پڑ رہا ہے کہ مقتول پولیس والوں کے ورثا کوئٹہ میں دھرنا دے کر اس ریاست سے ہی عزتِ نفس کے تحفظ کا مطالبہ کر رہے ہیں جس ریاست کے لیے یہ پولیس اہل کار فرسٹ ڈیفنس لائن کا کام کر رہے تھے اور انتہائی نامساعد حالات میں آخری وقت جو بھی اسلحہ یا تھوڑا بہت ایمونیشن میسر تھا، استعمال کرتے رہے۔ایک مقتول کے وارث کے بقول جو ہیلی کاپٹر اب ’آپریشن شعبان‘ میں اڑ رہے ہیں وہی ہیلی کاپٹر بر وقت کمک پہنچانے یا کم ازکم اپنے ہی اہلکاروں کی لاشیں عزت سے منتقل کرنے میں کیوں استعمال نہیں ہو سکے۔اگر یہ سرکاری بیانیہ تسلیم کر بھی لیا جائے کہ صوبے کی اکثریت شدت پسندی سے تنگ ہے تو پھر زیارت میں جو کچھ ہوا اور اس کے بعد سرکار نے جو کیا یا نہیں کیا، یا جو تاویلات پیش کی جا رہی ہیں، ان سے ریاستی رٹ، حکمتِ عملی اور ریاست کی خاطر جان دینے والے اہلکاروں کے ورثا کی بے چینی سے صوبہ چھوڑ پورے پاکستان میں کیا پیغام گیا؟ اور پھر اگر بلوچستان کے حالات صرف ایک ایس ایچ او کی مار ہیں یا آخری شدت پسند کے خاتمے تک جنگ جاری رہے گی یا اس بارے میں مولانا فضل الرحمان کے ایک متنازعہ بیان کی پانچ آٹھ وفاقی وزرا کی جانب سے مذمت جیسے کاموں سے حالات قابو میں آ سکتے ہیں تو پھر اسی حکمتِ عملی کو جاری رکھیے!پریس کانفرنسوں میں بتاتے رہیے کہ آج مزید کتنے شدت پسند مارے۔ آئین کے دائرے میں جدوجہد کرنے والوں اور مسلح شدت پسندوں کو ایک ہی دوربین سے دیکھتے رہیے۔ بیرونی آلہ کاری کا روزانہ حوالہ دیتے رہیے مگر اجلے لباس پر خود احتسابی کے چھینٹے ہرگز ہرگز پڑنے نہ دیجیے۔ 1970 میں جو اردو ڈائجسٹ بتا رہا تھا کہ مشرقی پاکستان میں محبت کا زمزمہ بہہ رہا ہے، اسی اردو ڈائجسٹ میں دو برس بعد یہ ادارتی سیریز چل رہی تھی کہ ’ہم کہاں کھڑے ہیں۔‘ جبکہ آج بھی ہم آوازیں لگا رہے ہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں،،، کیوں کہ بلوچستان میں پہلے، براھوی لوگوں کومارا جاتا تھا، اس وقت آنکھوں کے سامنے پورا قبرستان آرہا ہے۔ پھر باری آتی ہے پنجابیوں کی۔حیران کن بات یہ کہ باقاعدہ پوچھ کر آپ پنجابی ہو فوراً مار دیا جاتا ہے۔ یہ قاتلانہ کھیل زیارت تک پہنچ گیا ہے۔ اب زیارت کے لوگ اپنے علاقے کے30سکیورٹی فورسز کے لوگوں کو قتل کرنے کی وجوہات مانگ رہے ہیں۔ زیارت قائد اعظم اور صنوبر کے درختوں کے باعث، بہت سیاحوں اور جڑی بوٹیاں زمین کھود کر نکالنے والے غیر ملکی لوگوں کا مرکز نگاہ رہا ہے۔یہ علاقہ پاکستان کے سردترین شہر کا اعزاز بھی رکھتا ہے، جو سطح سمندر سے لگ بھگ 2400 میٹر بلند ہے۔ 11 فروری 2009ءکو اس شہر کا درجہ حرارت منفی 50 ڈگری کو چھورہا تھا جو پاکستان کہ کسی بھی شہر کا اب تک کا ریکارڈ کیا گیا سب سے کم درجہ حرارت ہے۔زیارت بنیادی طور پر پشتونوں کا علاقہ ہے۔ زیارت میں سارنگزئی، پانیزئی، کاکڑ، ترین اور دوتانی پشتون آباد ہیں جب کہ سنجاوی میں، دمڑ، غلزئی، پیچئی، ونیچئی، سید اور تارن مقیم ہیں۔ یہاں کے بیشتر لوگ نوکری، زراعت اور سیاحت کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ یوں تو زیارت کی پیداوار میں سیب، انار، چیری خوبانی، آڑو اور بادام شامل ہیں لیکن لال چیری سے لدے خوب صورت باغ خاص طور پر دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔ زیارت کا شمار بلوچستان کے سرسبز ترین علاقوں میں ہوتا ہے جہاں صنوبر کے وسیع جنگلات ملتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں چلغوزہ بھی پایا جاتا ہے۔ زیارت میں جمعیت العلما اسلام (ف) کا زیادہ اثر رسوخ ہے اور اکثر نمائندے ان ہی کے منتخب ہو کر پارلیمان میں آتے ہیں۔ جگہ جگہ دیواروں پر ”زیارت کا ضلع جمیعت کا قلعہ۔“ کے نعرے لکھے ملتے ہیں۔ یہاں پر دوسری بڑی سیاسی جماعت پختونخوا ملی عوامی پارٹی ہے۔امن کے دنوں میں میں یہاں اکثر آیا کرتا تھا،،، اُس وقت علم ہی نہیں تھا کہ یہاں کے حالات گھمبیرترین شکل اختیار کر جائیں گے،،، حالات یہ ہیں کہ پورے بلوچستان میں معدنیات سے بھرے ٹرکوں پر بھی دہشت گرد حملے کررہے ہیں ۔کیا ان سب کی وجہ یہ تو نہیں کہ ماہ رنگ بلوچ کو عمر قید کی سزا دے دی گئی ہے،،، کیوں کہ وہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ہیں، اسی لیے بھی لوگوں میں اس حوالے سے غم و غصہ زیادہ پایا جا رہا ہے،،، اور اب ان کی کارروائیوں کا دائرہ کار بڑھ رہا ہے،،، کیوں کہ گذشتہ چند دنوں میں جن علاقوں میں یہ واقعات رونما ہوئے ان علاقوں میں کالعدم ٹی ٹی پی کی سرگرمیاں کم رہی ہیں لیکن ان کا زیادہ اثر پشتون علاقوں میں ژوب، شیرانی، قلعہ سیف اللہ اور لورالائی میں رہا کیونکہ یہ علاقے خیبرپختونخوا میں وزیرستان اور ڈیرہ اسماعیل خان کے قریب ہیں۔ بہرحال بلوچستان کو ہمیشہ پاکستان کا سب سے حساس صوبہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔ یہاں دہشت گردی، شورش، علیحدگی پسند سرگرمیوں اور سرحدی چیلنجز نے کئی دہائیوں سے امن و امان کو متاثر کیا ہے۔ تاہم اس تمام عرصے میں چند علاقے ایسے ضرور رہے جنہیں نسبتاً پرامن سمجھا جاتا تھا۔ ان میں زیارت کا نام ہمیشہ نمایاں رہا۔ لیکن آج وہاں عجیب کیفیت ہے، لوگ دھرنا دیے بیٹھے ہیں، ایسے لگتا ہے ، جیسے سب کچھ رُک گیا ہے، یہ صرف ایک احتجاج نہیں بلکہ ریاست کے لیے ایک سنجیدہ پیغام ہوتا ہے۔لواحقین کے احتجاج کو صرف ایک وقتی ردعمل سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطالبات میں انصاف، مناسب معاوضہ، شہداءکے اہلِ خانہ کی کفالت، ذمہ داروں کے تعین اور سکیورٹی اہلکاروں کو بہتر وسائل کی فراہمی جیسے بنیادی نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ اگر یہ مسائل بروقت حل نہ کیے جائیں تو اس سے فورسز کے مورال پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب دہشت گردی صرف سکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ معاشی اور سماجی مسئلہ بھی ہے۔ زیارت جیسے سیاحتی مقام میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہونے سے سیاحت متاثر ہوگی، مقامی کاروبار نقصان اٹھائیں گے، سرمایہ کاری کم ہوگی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع مزید محدود ہو جائیں گے۔ یوں دہشت گرد اپنے مقصد میں جزوی طور پر کامیاب ہو جاتے ہیں، کیونکہ ان کا ہدف صرف جانی نقصان نہیں بلکہ خوف اور غیر یقینی کی فضا پیدا کرنا بھی ہوتا ہے۔بلوچستان پہلے ہی ترقیاتی اعتبار سے کئی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ اگر امن و امان مزید متاثر ہوتا ہے تو ترقیاتی منصوبوں، تعلیم، صحت اور نجی سرمایہ کاری پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کو صرف فوجی کارروائی تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ایک جامع قومی حکمت عملی کا حصہ بنانا ہوگا۔اس حکمت عملی میں کئی پہلو شامل ہونے چاہییں۔ سب سے پہلے انٹیلی جنس کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ کسی بھی منصوبہ بند کارروائی کو بروقت ناکام بنایا جا سکے۔ دوسرے، پولیس اور لیویز کو جدید تربیت، بہتر سازوسامان اور ٹیکنالوجی فراہم کی جائے تاکہ وہ بدلتے ہوئے خطرات کا مو¿ثر مقابلہ کر سکیں۔ تیسرے، مقامی آبادی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان اعتماد کو فروغ دیا جائے، کیونکہ دہشت گردی کے خلاف سب سے مو¿ثر معلومات اکثر مقامی سطح سے ہی حاصل ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کے لیے تعلیم، ہنر مندی اور روزگار کے مواقع بڑھانا بھی ناگزیر ہے۔ اگر ریاست ترقی، انصاف اور بہتر حکمرانی کے ذریعے عوام کا اعتماد مضبوط کرے گی تو شدت پسند عناصر کے لیے جگہ خود بخود محدود ہوتی جائے گی۔یہ بھی ضروری ہے کہ شہداء کے خاندانوں کے مسائل کے حل کے لیے ایک شفاف اور مو¿ثر نظام قائم کیا جائے۔ معاوضوں کی بروقت ادائیگی، بچوں کی تعلیم، صحت کی سہولتیں اور مستقل فلاحی پیکج صرف ہمدردی کا اظہار نہیں بلکہ ریاست کی ذمہ داری ہیں۔ جب ریاست اپنے محافظوں اور ان کے خاندانوں کے ساتھ کھڑی نظر آئے گی تو عوام کا اعتماد بھی مضبوط ہوگا۔ زیارت کے حالیہ واقعات ایک تلخ یاد دہانی ہیں کہ امن کو کبھی بھی مستقل اور یقینی نہیں سمجھنا چاہیے۔ بدلتے ہوئے خطرات کے مطابق حکمت عملی بھی بدلنی پڑتی ہے۔ اگر نسبتاً پرامن علاقے بھی دہشت گردی کی زد میں آنا شروع ہو جائیں تو اس کا مطلب ہے کہ سکیورٹی پالیسی میں نئے تقاضوں کو شامل کرنے کی ضرورت ہے۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ بلوچستان کے عوام نے دہائیوں سے دہشت گردی، بے یقینی اور مشکلات کا سامنا کیا ہے، لیکن انہوں نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلق اور امن کی خواہش کا اظہار بھی کیا ہے۔ اب ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس اعتماد کو مزید مضبوط کرے، شہداء کے خاندانوں کی داد رسی کرے، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی صلاحیت میں اضافہ کرے اور ایسی جامع حکمت عملی اختیار کرے جو نہ صرف دہشت گردی کا مقابلہ کرے بلکہ اس کے اسباب کو بھی کم کرے۔ بہرکیف زیارت کا واقعہ صرف ایک ضلع کا سانحہ نہیں بلکہ ایک قومی تنبیہ ہے۔ اگر اس سے سبق سیکھ کر مو¿ثر اقدامات کیے گئے تو شاید آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ لیکن اگر اسے ایک معمول کا واقعہ سمجھ کر نظر انداز کیا گیا تو خدشہ یہی ہے کہ عدم تحفظ کا دائرہ مزید وسیع ہوگا، جس کی قیمت بلوچستان ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کو چکانی پڑ سکتی ہے!