فاتحِ قسطنطنیہ” سلطان محمد فاتح“ کے مزار پرحاضری!

تاریخ سے لگاﺅ اور تاریخی مقامات سے شغف ہمیشہ آپ کو زندہ رکھتا ہے.... آپ تاریخ سے بہت کچھ سیکھتے بھی ہیں، سبق بھی حاصل کرتے ہیں، فیصلہ سازی میں بھی آپ کو معاونت ملتی ہے، اور سب سے اہم آپ کو بین الاقوامی سیاست سمجھنے میں مدد ملتی ہے،،، اور یہ شوق آپ کے اندر کوئی ڈالتا نہیں ہے، بلکہ یہ یا تو آپ کو وراثت میں ملتا ہے، یا قدرتی طور پر آپ کے اندر موجود ہوتا ہے کہ آپ چیزوں کو Exploreکرتے رہیں،،، لہٰذایہی شوق مجھے بھی ترکی لے آیا،،، صرف اسی نیت سے کہ اس عظیم الشان تاریخ رکھنے والے ملک کے تاریخی مقامات کو دیکھا جائے ، جن سے ہزاروں سال کی تاریخ جڑی ہے،،، کیوں کہ دنیا میں تین شہر ہی ایسے ہیں جن کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے،،، یہ شہر روم، دہلی اور استنبول ہیں،،، ان شہروں کی تواریخ سے تمام تاریخ دان متفق ہیں،،، اور بغیر کسی مفروضے کے ان شہروں کو آپ یکساں طور پر ہر مصنف کے قلم سے پڑھ سکتے ہیں،،، لہٰذااپنی فیملی کے ہمراہ ترکی کے دارلحکومت استنبول کا رخت سفر باندھا تو ذہن میں یہی سب کچھ تھا کہ میں کم از کم سلطان محمد فاتح جنہوں نے قسطنطنیہ فتح کیا تھا ،،، اُن کا مقبرہ دیکھ سکوں،،، وہ جگہیں دیکھ سکوں کہ جن پر مسلمانوں نے خشکی پر بہری جہاز دوڑانے کا عظیم کارنامہ سرانجام دیا تھا،،، یعنی 857ہجری کو مسلمانوں کو ایک عظیم الشان فتح ہوئی جس کی خوشخبری صدیوں پہلے آپ نے دی تھی ، صحابہ کرام ؓکے دور سے ہی آپ کی اس مبارک حدیث پاک کو پورا کرنے اور اس عظیم فتح کو حاصل کرنے کے لیے مختلف ادوار میں معرکے ہوتے رہے۔ لیکن یہ فتح ایک نو جوان سلطان کا مقدر تھی جو ارادہ پختگی، عزم و ہمت، جرات و بہادری اور استقلال کا پہاڑ تھا۔ خیر ہم استنبول پہنچے اور اگلے ہی دن ہوٹل سے ”سلطان محمد فاتح“ کے مزار کے لیے نکلتے ہی ایک عجیب سی خوشی ، ہلکی سی گھبراہٹ اور عجیب سی کیفیت نے آن گھیرا، ،، کیوں کہ ہم اُس شخصیت کے مزار پر حاضری کے لیے جا رہے تھے جس نے آپ کی قسطنطنیہ کے بارے میں حدیث کو سچ ثابت کیا،،، یعنی اس حوالے سے آپ کی حدیت کا مفہوم یہ ہے کہ ”ضرور بالضرور قسطنطنیہ فتح ہوگا، اس کو فتح کرنے والا امیر بہترین امیر ہو گا اور وہ لشکر بہترین لشکر ہوگا“۔ جی ہاں! یہ سلطان محمد فاتح ہی تھے جنہوں نے آپ کی ایک اور پیش گوئی کو سچ کر دکھایا تھا،،،خیر ہمارا سفر شروع ہوچکا تھا، راستے میں جس عمارت پر نظر پڑتی وہ اپنے اندر ایک تاریخ سموئے ہوئے تھی ،، ، اور ویسے بھی استنبول قدیم اور جدید زمانوں کے امتزاج کا ایک طلسمی شہر ہے۔ جو براعظم ایشیا اور براعظم یورپ کے سنگم پر واقع ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں کے مقامی افراد کے طرز زندگی پر یورپ کی چھاپ نظر آتی ہے۔ تاریخ میں قسطنطنیہ کے نام سے مشہور ترکی کا شہر استنبول،کئی دوسرے ناموں سے بھی جانا جاتا ہے۔یہ ملک کا سب سے بڑا شہر اور اس کا ثقافتی و اقتصادی مرکز ہے۔ شہر صوبہ استنبول کا صدر مقام بھی ہے۔ استنبول تاریخ عالم کا واحد شہر جو 3 عظیم سلطنتوں کا دار الحکومت رہا ہے۔ جن میں 330ء سے 395ءتک رومی سلطنت، 395ءسے 1453ءتک بازنطینی سلطنت اور 1453ءسے 1923ءتک سلطنت عثمانیہ شامل ہیں۔ جس کے باعث ہمیشہ اس عظیم تاریخی شہر کو اہمیت حاصل رہی۔ خیر جیسے جیسے ہم سلطان محمد فاتح کے مقبرے کے قریب ہو رہے تھے یہ احساس غالب آ رہا تھا کہ ہمیں اس تاریخی جگہ کو دیکھنے کا موقع مل رہا ہے جس کے ساتھ مسلمانوں کی عظمت کا خاصہ جڑا ہے،،، سلطان محمد فاتح سلطنت عثمانیہ کے ساتویں سلطان تھے جو 1444ءسے 1446ءاور 1451ءسے 1481ءتک سلطنت عثمانیہ کے سلطان رہے۔ انھوں نے محض 21 سال کی عمر میں قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) فتح کرکے عیسائیوں کی بازنطینی سلطنت کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کر دیا۔ اس عظیم الشان فتح کے بعد انھوں نے اپنے خطابات میں قیصر کا اضافہ کیا۔ انھیں سلطان محمد الفاتح یا سلطان الفاتح کے القابات سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ یہ فتح انہوں نے کیسے حاصل کی، اس کی تاریخ تو بہت طویل ہے مگر مختصراََ اگر بیان کروں تو 21سال کی عمر میں مسند خلافت سنبھالتے ہی سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ پر حملے کی تیاریاں شروع کردیں۔ قسطنطنیہ اس زمانے میں بازنطینیوں کا سب سے مضبوط شہر تھا اور ناقال تسخیر سمجھا جاتا تھا۔ فاتح سے پہلے بھی کئی حکمران قسطنطنیہ فتح کرنے کی کوشش کرچکے تھے، ،،آپ یوں کہہ لیں کہ کم و بیش مسلمانوں نے قسطنطنیہ پر 8مرتبہ حملے کیے اور ناکام رہے،،، ان میں 669ءمیں حضرت معاویہؓ کے دور میں پہلی بڑی مہم۔جبکہ دوسری مہم 674ءمیں اموی خلافت کے دور میں ہوئی، جس میں طویل بحری محاصرہ کیے رکھا، تیسری مہم 717ءمیں حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ کے دور میں مسلمة بن عبدالملک کی قیادت میں ہوئی ، اُس وقت بھی عظیم محاصرہ کیا گیا، لیکن ناکام رہا۔پھر عباسی دور میں بھی کئی سرحدی مہمات اور حملے ہوئے، تاہم شہر فتح نہ ہو سکا۔پھر 1394سے 1402تک عثمانی سلطان بایزید اول نے قسطنطنیہ کا طویل محاصرہ کیا، مگر تیمور کے حملے کی وجہ سے محاصرہ اٹھانا پڑا۔پھر 1422ءمیں سلطان مراد ثانی نے شہر کا محاصرہ کیا، لیکن داخلی مسائل کے باعث کامیابی نہ مل سکی۔پھر 1453ءمیں سلطان محمد فاتح نے 53 روزہ محاصرے کے بعد 29 مئی 1453ءکو شہر فتح کر لیا۔ مسلمانوں کے علاوہ بھی کئی غیر مسلم نے بھی یہاں کئی مرتبہ حملے کیے مگر وہ ناکام رہے،،، جیسے 626ءمیں ساسانی ایران نے آوار (Avars) کے ساتھ مل کر قسطنطنیہ کا محاصرہ کیا۔بازنطینیوں نے یہ حملہ ناکام بنا دیا۔پھر 860ءمیں روس حملہ کیا مگر وہ بھی ناکام رہا، پھر روس ہی نے 941اور 1043ءمیں حملے کیے مگر وہ ناکام رہے،،، پھر 1204ءمیں چوتھی صلیبی جنگ بھی بڑا حملہ کیا گیا، یہ قسطنطنیہ کی تاریخ کا سب سے اہم غیر مسلم حملہ تھا۔مغربی یورپ کے صلیبی عیسائی لشکروں نے، جو ابتدا میں مسلمانوں کے خلاف مہم پر نکلے تھے، راستہ بدل کر خود عیسائی بازنطینی سلطنت کے دارالحکومت قسطنطنیہ پر حملہ کر دیا۔انہوں نے شہر پر قبضہ کیا، بڑے پیمانے پر لوٹ مار کی اور لاطینی سلطنت قائم کر دی، جو 1261ءتک قائم رہی۔بعد میں بازنطینیوں نے شہر دوبارہ حاصل کر لیا۔ بہرحال بات ہو رہی تھی کہ سلطان محمد فاتح نے قسطنطنیہ پر فتح کیسے حاصل کی، تو دراصل قسطنطنیہ درہ باسفورس، بحیرہ مرمرہ اور گولڈن ہارن نامی سمندر میں گھرا ہوا تھا صرف اس کے مشرقی جانب خشکی تھی۔اس لیے اس پر کامیاب حملوں کے لیے ایک طاقتور بحری بیڑہ ناگزیر تھا۔اس کے لیے سلطان فاتح نے 140 کشتیوں پر مشتمل ایک بحری بیڑہ تیار کیا، اس کے ساتھقسطنطنیہ کی مضبوط دیواروں کو توڑنے کے لیے پیتل کی ایک ایسی توپ تیا رکی جس کے برابر اس وقت روئے زمین کوئی اور توپ نہ تھی۔ اس توپ سے ڈھائی فٹ قطر کا وزنی گولہ ایک میل دور پھینکا جا سکتا تھا۔ان تیاریوں کے بعد سلطان نے قسطنطنیہ کے مشرقی خشکی والے جانب سے شہر کا محاصرہ کرلیا مگر قسطنطنیہ کی جنوبی دیوار اوربندر گاہ کا محاصرہ کرنا بھی ضروری تھا۔قسطنطنیہ کا محل وقوع کچھ ایسا تھا کہ یہاں کی بندرگاہ تک پہنچنے کے لیے گولڈن ہارن نامی سمندر سے گزرنا پڑتا تھا، لیکن اہل قسطنطنیہ نے اس سمندر کے راستے پر لوہے کی ایک ایسی زنجیر باندھ رکھی تھی کہ کوئی جہاز گولڈن ہارن میں داخل نہ ہو سکتا تھا۔ سلطان فاتح کی خواہش و کوشش یہی تھی کہ کسی طرح اس کے کچھ جہاز آبنائے باسفورس کے گولڈن ہارن میں داخل ہو جائیں، تاکہ شہر پر بندرگاہ کے راستے سے بھی حملہ کیا جاسکے، مگر ایسا ممکن نہیں تھا۔اہل قسطنطنیہ نے گولڈن ہارن کے دہانے پر آہنی زنجیریں باندھ رکھی تھیں اور ان کے حفاظت ومدافعت کے لیے ان کے بحری جہاز اور توپیں بھی وہاں موجود تھیں۔ سلطان فاتح نے اس صورت حال پر غور وفکر کرکے ایک ایسا فیصلہ کیا ، جو دنیا کی عسکری تاریخ کا سب سے منفرد، یادگار اور زندہ جاوید فیصلہ بن گیا۔ تدبیر یہ تھی کہ بحری جہازوں کو دس میل خشکی پر چلا کر گولڈن ہارن تک پہنچایا جائے۔یہ دس میل سخت ناہموار اور دشوار گزار راستوں پر مشتمل تھا، مگر سلطان کی عالی ہمتی دیکھیں کہ اس نے یہ عجوبہ صرف ایک رات میں کر دکھایا۔ اس نے خشکی کے راستے پر لکڑی کے تختے بچھوائے، ان کو چکنا اور ملائم کرنے کے لیے ان پر چربی ملوائی اور پھر 70 جہازوں کو باسفورس سے یکے بعد دیگرے ان تختوں پر چڑھادیا۔ ہر کشتی میں دو ملاح تھے۔ ہوا کی مدد لینے بادبان کھول دیے گیے۔ان جہاز نما کشتیوں کو رات کے اندھیرے میں بیل اور آدمی تختوں پر کھینچتے رہے اور بالآخر صبح سے پہلے یہ تمام جہازنماکشتیاں چربی کے تختوں پر سفر کرتے گولڈن ہارن کے بالائی علاقے تک پہنچ گئیں۔دشمن کو خبر ہی نہیں ہوئی کہ سلطان فاتح راتوں رات اپنی 70 کشتیاں اور بھاری توپ خانہ لے کر گولڈن ہارن اتار چکا ہے۔پھر سلطان نے قسطنطنیہ کی بندرگا ہ محاصرہ کرکے ایک فیصلہ کن جنگ لڑی، جس میں بالآخر قسطنطنیہ فتح ہوا، سلطان فاتح کا خشکی پر جہاز چلانا اتنا حیرت انگیز ہے کہ مغربی مورخ بھی حیران ہوتے ہیں۔ نامور تاریخ دان ”ایڈورڈگبن“ نے تو اس واقعہ کو معجزہ قرار دیا ہے۔الغرض یہ مسلمانوں کی شاندار تاریخ کی جھلک دکھاتا ہے، جب کبھی ہم دریاو¿ں میں گھوڑے دوڑادیتے تھے تو کبھی خشکی پر جہاز چلا دیتے تھے۔ خیر سلطان محمد فاتح جیسی عظیم شخصیت کے مزار پر ہم پہنچ چکے تھے،،، اور ذہن میں وہی ساری تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی تھی،،، ایسے لگ رہا تھا جیسے ہم پانچ چھ صدیاں پیچھے چلے گئے ہیں،،، ہم نے اُن کے مزار پر دعا مانگی کہ اے اللہ ہمارے ملک کو بھی ان جیسے مخلص لیڈر عطا فرما جو بے لوث ایسا کام کر جائیں کہ ہم بھی اُنہیں صدیوں تک بلکہ تاقیامت یاد رکھیں،،، ویسے میں نے سلطان محمد فاتح کا واحد مزار دیکھا ہے، جس میں لوگ عقیدت سے آتے ہیں، ہر وقت وہاں پر قرآن پاک کی تلاوت ہوتی ہے، اس کے علاوہ میں نے جتنے بھی بادشاہوں (ماسوائے اولیائے کرام)کے مزار دیکھے ہےں کسی پر اتنی رونق اور قرآن پاک کی تلاوت ہوتے نہیں دیکھی ، ،، لاہور میں جہانگیر بادشاہ یا قطب الدین ایبک مدفن ہیں،،، وہاں جا کر آپ خود یکھ لیں، وہاں کہیں نماز نہیں پڑھی جاتی، کہیں تلاوت نہیں ہو رہی ہوتی،،، حتیٰ کہ میں نے بھارت میں اکبر کا مزار دیکھا ہے، ہمایوں کا مزار دیکھا ہے، اور قطب مینار پر بادشاہ کے مزار دیکھے ہیں،،، کہیں آپ کو ایسی رونق نہیں ملے گی، جیسی بادشاہ سلطان محمد فاتح کے مزار پر ملے گی۔ خیر دعا کے بعد ہم نے مقبرہ کے گردو نواح کی سیر کی، ،،، یقین مانیں کہ یہ شہر ترکی کا اہم تجارتی ، سیاحتی اور ثقافتی مرکز صدیوں پرمحیط انمول تاریخی ورثے سے مالامال ہے جس نے ہمیشہ ہی ہمیں متاثر کیا۔ جبکہ یہ شہر تو ویسے بھی سمندر کے ساتھ ساتھ حسین پہاڑوں پر بنے خوبصورت مکانات، بحیرہ مرمرہ اور بحیرہ اسود کے سنگم پر واقع آبنائے باسفورس بھی ہماری توجہ کا مرکز رہا،،،واپس آنے کو جی تو نہیں چاہ رہا تھا ، کیوں کہ یہ علاقہ رات کے اندھیرے میں بھی آپ کو اپنے سحر میں مبتلا رکھتا ہے،،، لیکن مجبوری کہہ لیں یا ہلکی پھلکی تھکان کا احساس ہمیں واپس اپنے ہوٹل میں لے آیا،، ، لیکن ایسی تاریخی جگہوں کے نقوش ذہن سے نکالنے سے بھی نہیں نکلتے!