ہاکی : بھارت 7-0 سے شکست ،ناقابل برداشت !

کیا آپ کو علم ہے کہ ہم یعنی سابقہ ورلڈ چیمپئن ہاکی میں لگاتار 16بار مختلف ٹیموں سے شکست کھا چکے ہیں،،، ویسے تو ٹیم کی کارکردگی کے حوالے سے ہمارے ذہن بنے ہوئے تھے، مگر بھارت کے ہاتھوں7-0سے شکست کے بعد دل خون کے آنسو رویا ،،، کیوں کہ مجھے یاد ہے کہ ایک وقت تھا جب ہم بھارت کو سات سات گول سے شکست دیا کرتے تھے،،، جیسے آپ 1982ءکا سال دیکھ لیں، جب ہم ورلڈ کپ جیتے اور پھر دہلی میں ہم نے ایشین گیمز بھی جیتی تھیں،، اُس وقت ہم نے بھارت کو 7-1سے شکست دی تھی،،، اُس وقت مجھے یاد ہے کہ زمانہ طالب علمی میں ہاکی کا اتنا Crazeہوا کرتا تھا کہ ہم چند دوستوں نے گھر والوں کی اجازت کے بغیر دہلی میں جا کر میچ دیکھا تھا،،،اس میچ میں ہمیں (پاکستانیوں کو) اسٹیڈیم میں الگ انکلوژر دیا گیا تھا،،، اور جب پہلا گول ہمارے خلاف ہوا تو بھارتی تماشائیوں نے ہمارا جینا محال کر دیا،،، لیکن اُس کے بعد یکے بعد دیگرے 7گول اسکور کیے تو ہمارا شور پورے گراﺅنڈ میں گونج رہا تھا،،، جبکہ بھارتی تماشائی اس قدر مشتعل ہو رہے تھے کہ صورتحال کو دیکھ کر اُس وقت کی وزیرا عظم اندرا گاندھی کو میچ ادھورا چھوڑ کر واپس جانا پڑا تھا،،، آپ یقین مانیں کہ ہمارے کھیل کی دنیا اس قدر دیوانی تھی کہ پاکستان ہاکی کے عظیم کھلاڑی اصلاح الدین صدیقی بتاتے ہیں کہ 1978ءکی فٹ بال ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم ارجنٹائن نے ورلڈ کپ سے پہلے پاکستان ہاکی ٹیم سے ملاقات کی تھی،،، ہوا کچھ یوں تھا کہ یہ ورلڈ کپ ارجنٹائن میں ہی ہو رہا تھا اور ارجنٹائن فٹبال ٹیم کے شہرہ آفاق کوچ سیسر لوئس مینوٹی اپنی ہوم گراو¿نڈ پر ورلڈ کپ جیتنے کے لیے شدید دباو¿ میں تھے اور ایک بہترین فارمیشن کی تلاش میں تھے۔ پاکستان ہاکی ٹیم کا شاندار دفاع اور جارحانہ حملہ دیکھ کر وہ دنگ رہ گئے اور انہوں نے پاکستانی کوچنگ اسٹاف اور اصلاح الدین سے خصوصی ملاقات کی۔ اصلاح الدین صدیقی نے ارجنٹائن کے کوچ کو پاکستان کی مشہور 1,2,3,5فارمیشن کا فلسفہ سمجھایا (5 فارورڈز، 3 ہاف بیکس، 2 فل بیکس اور 1 گول کیپر)۔ انہوں نے بتایا کہ کیسے یہ سسٹم دفاع کو مضبوط رکھتے ہوئے طوفانی حملوں کی سہولت دیتا ہے۔مینوٹی نے اس حکمتِ عملی کو غور سے سنا اور اسے فٹبال ٹیم پر لاگو کیا۔ نتیجہ یہ رہا کہ ارجنٹائن نے فائنل میں ہالینڈ کو ہرا کر اپنی تاریخ کا پہلا فٹبال ورلڈ کپ جیت لیا!سب سے خوبصورت بات یہ تھی کہ ورلڈ کپ جیتنے کے بعد کوچ مینوٹی نے پبلک پلیٹ فارم پر کھلے دل سے اعتراف کیا کہ”پاکستانی ہاکی ٹیم کی تکنیک نے ارجنٹائن کو چیمپئن بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔“لیکن اب میرے خیال میں ہاکی اور کرکٹ سے کھلواڑ ہو رہا ہے،،، جو ہاکی ٹیم دنیا کی کامیاب ترین ہاکی ٹیموں میں شمار ہوتی تھی،وہ آج مسلسل 16شکست کا مزہ چکھ چکی ہے،،، نہیں یقین تو آپ خود دیکھ لیں کہ یہ ریکارڈ آج بھی ہمارے پاس ہے کہ ہم سب سے زیادہ چار مرتبہ ورلڈ کپ (1971 (اسپین)، 1978 (ارجنٹینا)، 1982 (بھارت)، 1994 (آسٹریلیا)) فاتح رہے،،، جبکہ 2مرتبہ ورلڈ کپ رنر اپ رہے،،، پھر ہم تین مرتبہ اولمپک گولڈ میڈلسٹ (1960 (روم)، 1968 (میکسیکو سٹی)، 1984 (لاس اینجلس)) رہے جبکہ ہم 3مرتبہ ہی اولمپک رنر اپ بھی رہے،،، پھر ہم 3مرتبہ ایشن گیمز چیمپین رہے،،، اور آٹھ مرتبہ ایشین گیمز میں ہم نے گولڈ میڈل بھی جیتا۔ لیکن اب نہ جانے ہمیں کوئی نظر کھا گئی یا یہاں بھی مافیا آکر بیٹھ گیا ہے،،، اب اس خراب کارکردگی میں کوئی کہہ رہا ہے کہ ہمارے کوچز سب سے بڑا مسئلہ ہیں،،، کوئی کہہ رہا ہے کہ جدید سہولیات نہیں ہیں،،، اور کوئی کہہ رہا ہے کہ فنڈز کی کمی ہے،،، لیکن اگر ہم کوچز ٹیم کی بات کریں تو اس وقت جو کوچنگ ٹیم کوچنگ کر رہی ہے، اُن میں آپ ہیڈ کوچ منظور الحسن کو دیکھ لیں، جن کی عمر اس وقت 74سال ہے،،، اسسٹنٹ کوچ خواجہ جنید کی عمر 61سال سے زائد ہے، ،، جبکہ باقی کوچز میں سے بھی اگر کسی کی کوالیفیکیشن ہے تو یہ ہے کہ وہ سابقہ کھلاڑی رہا ہے،،، جبکہ شاید ہی کسی نے کوئی کوچنگ کورس کیا ہو۔ ہمارے کوچز ٹیم پر یقینا محنت کر رہے ہوں گے،،، مگر تب کے اولپمئنز آج کی فاسٹ ہاکی کو شاید نہیں سمجھ پا رہے ہیں،،، یا یہ جدید ہاکی کے بارے میں اتنا نہیں جانتے ہوں گے،،،جتنا دنیا کی مضبوط ٹیموں کے کوچ جانتے ہیں،،، اس لیے میرے خیال میں اولمپئن خود ہی اس ٹیم پر رحم کریں اور اگر کارکردگی بہتر نہیں ہو رہی تو اس کام سے ہی دستبردار ہو جائیں تاکہ عزتِ سادات بچی رہے،،، جبکہ دوسری طرف پھر آپ وومن کرکٹ کا حال دیکھ لیں، اس وقت ورلڈ کپ میں لگاتار پانچ میچ ہار کر ورلڈ کپ سے باہر ہو چکی ہے، جبکہ انہوں نے آخر ی میچ اپنے سے کمزور ٹیم ہالینڈ سے جیتا ہے، جس نے ایک بھی میچ نہیں جیتا۔ جبکہ مقابلے میں جو ٹیمیں ورلڈ کپ کھیلنے آئی ہیں،،، اُن کی کارکردگی دیکھ کر لگتا ہے، کہ انہوں نے بہت زیادہ محنت کی ہے،،، آپ آسٹریلیا کی خواتین کرکٹ ٹیم کو دیکھ لیں،،، اُن کی باﺅلرز یقین مانیںہمارے لڑکوں سے بہتر باﺅلنگ کرتی ہیں،،، اسے آپ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ اگر پاکستان کی مرد کرکٹ ٹیم اور آسٹریلیا کی ویمن کرکٹ ٹیم کے درمیان ٹی20 میچ کھیلا جائے، تو میرے خیال میں آسٹریلیا کی خواتین یہ مقابلہ جیت جائیں گی۔الحمد اللہ ! اس وقت جس طرح مردوں کی ٹیم میں تین چار گروپس نے جنم لیا ہوا ہے،،، اور مینز کرکٹ ٹیم کا بیڑہ غرق ہوچکا ہے،،، آپ یقین مانیں کہ خواتین کرکٹ ٹیم کے حوالے سے مختلف رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ٹیم کے اندر دو گروپس سامنے آ چکے ہیں۔ ایک گروپ کا تعلق فاطمہ ثناءسے ہے جب کہ دوسرے گروپ کو چند سینئر کھلاڑیوں سے جوڑا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق ٹیم کے ڈریسنگ روم کے ماحول میں اختلافات کی خبریں منظر عام پر آ رہی ہیں اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کپتانی اور ٹیم سلیکشن سے متعلق معاملات پر کچھ کھلاڑیوں کے درمیان اختلافات ہیں۔اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جب سے وہاب ریاض نے بطور ہیڈ آف ویمن کرکٹ کا عہدہ سنبھالا ہے تب سے معاملات زیادہ بگڑ رہے ہیں،،، اور حالیہ عالیہ ریاض اور اُن کے منگیتر علی یونس (وقار یونس کے چھوٹے بھائی) کا معاملہ بھی سب کے علم میں ہے،،، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے، کہ ٹیم میں سب اچھا نہیں ہے،،، میرٹ کی خلاف ورزیاں پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ اور پھر سب سے اہم بات کہ وہاب ریاض کا اس حوالے سے نہ کوئی تجربہ ہے اور نہ ہی کوئی نیشنل یا انٹرنیشنل کورس کیا ہوا ہے،، جس کی بنیاد پر وہ ٹیم کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ اس ”ہارڈ اسٹیٹ “ میں ،،، میں یہ نہیں کہتا کہ آپ اپنی مرضیاں نہ کریں،،، بلکہ ضرور کریں،،، یہ آپ کا ”حق“ ہے لیکن ہمیں اعتراض آپ سے یہ ہے، کہ آپ نالائق لوگوں کو چنتے ہیں۔۔۔ جبکہ اگر وہاب ریاض کو آپ وزیر کھیل لگا سکتے ہیں، یا اُنہیں وومن ٹیم کا ہیڈ بنا رہے ہیں،،، یا آپ اُنہیں مزید کوئی عہدہ دینا ہی چاہتے ہیں تو کوئی ایسا عہدہ دے دیں جس میں اُن کی Expertiesہوں،،، اگر آپ اُن سے ادھر اُدھر کے تجربے کروائیں گے تو وہ میرے خیال میں سب کو خراب کرے گا۔ ہم یہ بھی نہیں کہہ رہے کہ وہاب ریاض کوئی کرپشن کر رہے ہیں، یا کوئی اور لالچ ہے،،، لیکن مسئلہ صرف competency کا ہے،،، ہمارے پاس ثبوت نہیں ہیں کہ ہم کوئی کرپشن ثابت کر سکیں ان پر،،، لیکن ہمارے پاس اس بات کے ثبوت ضرور ہیں کہ یہ نالائق ہیں،،، لہٰذااس ملک پر رحم کریں، ہماری مینز ٹیم پہلے ہی برا کھیل پیش کر رہی ہے، ٹیسٹ میں ہم آٹھویں پوزیشن پر ہیں، بنگلہ دیش ہم سے اوپر ہے، صرف ویسٹ انڈیز اور زمبابوے ہم سے پیچھے ہیں، ورنہ ہم آخری نمبر پر ہوتے۔ پھر ٹی ٹونٹی اور ون ڈے میں ہم چھٹی پوزیشن پر ہیں،،، ہم اپنے بہترین کھلاڑیوں کو اس طرح ضائع کرتے ہیں جیسے ہم اُن سے بدلا لے رہے ہوں،،، بابر اعظم، فخر زمان، رضوان، امام الحق ، نسیم شاہ ، شاہین وغیرہ،،، انہیں ٹیم سے باہر نکال کر اور پھر اندر لا کر ہم نے اُنہیں اس قدر پزل کر کے رکھ دیا ہے کہ وہ وکٹ پر کھڑے ہوتے بھی ڈر رہے ہوتے ہیں کہ اگر سکور نہ کیا یا وکٹ نہ لیا تو کوئی پتہ نہیں اگلے میچ میں کھلایا جائے گا یا نہیں! بہرحال بات ہو رہی تھی، پاکستان خواتین کرکٹ ٹیم کی تو یہ ٹیم آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں مسلسل ناکامیوں کی سب سے بڑی وجہ خراب سلیکشن ہے۔اور صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کی ٹیم 2009 سے اب تک دسویں مرتبہ پہلے راو¿نڈ سے باہر ہو رہی ہے۔ سابق کرکٹرز، جو ماضی میں اس ٹیم کے ساتھ وابستہ رہے، وہ اب وہاب ریاض کی مینٹورشپ اور ٹیم کی کارکردگی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ ہم ٹیم کے بجائے انفرادی کارکردگی پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔ لہٰذااگر ہم نے ہاکی اور وومن کرکٹ کو آگے لے کر چلنا ہے تو اسکولوں اور کالجوں کی سطح پر لڑکیوں کے لیے کرکٹ ٹورنامنٹس کا انعقاد کیا جائے تاکہ نیا اور باصلاحیت ٹیلنٹ سامنے آ سکے۔ خواتین کے لیے فرسٹ کلاس اور پی ایس ایل (PSL) طرز کے زیادہ سے زیادہ میچز کروائے جائیں تاکہ دباو¿ میں کھیلنے کی عادت پڑے۔پھربین الاقوامی معیار کے کوچز، نیوٹریشنسٹ اور فزیکل ٹرینرز کی خدمات حاصل کی جائیں تاکہ کھلاڑیوں کی فٹنس اور فیلڈنگ کا معیار بہتر ہو سکے۔اور بڑی ٹیموں (جیسے آسٹریلیا یا انگلینڈ) کے خلاف زیادہ سے زیادہ دوطرفہ سیریز کھیلی جائیں تاکہ کھلاڑیوں کا خوف ختم ہو اور وہ بڑے میچز جیتنا سیکھیں۔ ہاکی میں بھی زیرو ٹالرینس پالیسی کا نفاذ کیا جانا چاہیے،،، میرٹ ، فٹنس اور ڈسپلن کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھا جانا چاہیے،،، اور پھر یہ کیسی بات ہے کہ ہم گزشتہ دو دہائیوں سے ہر ناکامی کے بعد ”نئے آغاز“کی بات کرتے ہیں،، مگر چند ماہ بعد سب کچھ دوبارہ پرانے نظام کی نذر ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ بھی شائقین کے ذہن میں امید کے ساتھ ساتھ شکوک و شبہات موجود ہے، اس حوالے سے اس مرتبہ بھی پاکستان ہاکی فیڈریشن نے نئے اعلانات کیے ہیں،،، جو یقینا وقت گزاری کے لیے ہیں،،، لہٰذااگر سنجیدگی سے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو میرے خیال میں سب سے پہلے اس کے لیے فٹنس، طاقت اور سائنسی منصوبہ بنائیں ،،، ورنہ یہ سب کچھ کھوکھلے نعروں کے سوا کچھ نہیں لگے گا!