مایوس نوجوانوں کو ہلکا مت لیں!

نوجوانوں(جین زی) کو نیپال نے بھی بہت ہلکا لیا تھا، بنگلہ دیش نے بھی بہت ہلکا لیا تھا، سری لنکا نے بھی اور پھر بھارت نے بھی بہت ہلکا لیا۔ لیکن انہوں (نوجوانوں) نے جیسا چاہا ویسا ہوگیا اور سسٹم منہ دیکھتا رہ گیا،،،یہاں تک کہ بنگلہ دیش میں طلبہ کی جانب سے حسینہ واجد کی برسوں سے قائم مضبوط حکومت کا تختہ الٹنے کا واقعہ ابھی دنیا کی یادداشت میں تازہ ہی تھا کہ بھارت میں جین زی نے اپنے حقوق کی خاطر سڑکوں پرآ کر یہ ثابت کر دیا کہ یہ نسل کسی بھی خطے میں ناانصافی کے خلاف سب سے متحرک اور ناقابلِ تسخیر قوت بن چکی ہے۔اور ویسے بھی یہ جوان خون ہوتا ہے، جذباتی ہوتا ہے، اس میں برداشت کا مادہ کم سے کم ہوتا ہے،،، انہیں کم تر سمجھنا، ہلکا لینا ایسے ہی ہے جیسے آپ شیر کی کچھار میں ہاتھ ڈال رہے ہیں ،،، جیسے آپ کو ابھی بھارت کی مثال دی ، رواں سال مئی میں بھارت کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک عدالتی سماعت کے دوران ایسے ریمارکس دیے کہ تنازع شدت اختیار کرگیا،،، انہوں نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران کہا تھا: ”کچھ نوجوان کاکروچوں کی طرح ہوتے ہیں۔ انہیں روزگار نہیں ملتا، پیشے میں جگہ نہیں ملتی، پھر ان میں سے کچھ میڈیا میں چلے جاتے ہیں، کچھ سوشل میڈیا پر، کچھ آر ٹی آئی کارکن بن جاتے ہیں اور ہر ایک پر حملے شروع کر دیتے ہیں۔“یہ بیان سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا، وکلا، طلبہ اور اپوزیشن حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کی گئی۔ بہت سے لوگوں نے اسے بے روزگار نوجوانوں کی توہین قرار دیا۔ اسی تنازع کے بعد ”کاکروچ“ کا لفظ بہت سے نوجوانوں نے احتجاجی علامت کے طور پر اپنا لیا، اور یہ سوشل میڈیا مہم بعد میں بڑے احتجاجی بیانیے میں تبدیل ہوگئی۔بھارت میں اس احتجاج کی چنگاری قومی امتحانات میں ہونے والی بدعنوانی، بے ضابطگیوں اور پیپر لیک سکینڈل سے بھڑکی۔ لاکھوں محنتی طلبہ کا مستقبل جب مٹھی بھر رشوت خوروں اور تعلیمی مافیا کے ہاتھوں داﺅ پر لگا تو غصے کا ایک طوفان امڈ آیا۔ لیکن نریندر مودی اور ان کے وزرا نے شاید خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ طلبہ کی یہ وقتی ناراضی دیکھتے ہی دیکھتے ایک ایسی ملک گیر تحریک میں بدل جائے گی جو اُن کی حکومت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دے گی۔ حکومتوں کا وتیرہ رہا ہے کہ وہ عوامی لاوے کو معمولی سمجھنے کی غلطی کرتی ہیں‘ تاہم جب سوسائٹی بالخصوص نوجوانوں میں ناانصافی کے خلاف لاوا پک رہا ہو تو اسے ایک بڑے عوامی احتجاج میں بدلنے کیلئے کسی بڑے سبب کی نہیں بلکہ صرف ایک چنگاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ طلبا تحریک کی سب سے دلچسپ اور منفرد بات اس کا اندازِ احتجاج ہے۔ نئی دہلی کے تاریخی مقام جنتر منتر پر جب طلبا جمع ہوئے تو انہوں نے تشدد کی جگہ ناچ گانے‘ دف‘ گٹار کی دھنوں‘ طنزیہ نعرے بازی اور فنکارانہ انداز کو اپنا ہتھیار بنایا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ پُرامن اور تخلیقی احتجاج پ±رتشدد مظاہروں سے کہیں زیادہ اثر انگیز اور کامیاب ہو سکتا ہے۔ طلبا تحریک کی سب سے بڑی کامیابی روایتی بھارتی میڈیا کے خلاف تصور کی جا رہی ہے۔ وہی میڈیا جو برسوں سے عوام کے مسائل سے آنکھیں چرا کر صرف حکومتی بیانیے کو فرضی سچ بنا کر بیچتا رہا‘ جب گودی میڈیا کے اینکرز اور نمائندے مظاہرین کی کوریج کیلئے جنتر منتر پہنچے تو نوجوانوں نے ان کا استقبال پھولوں سے نہیں بلکہ شدید تنقید‘ سخت نعرے بازی اور بائیکاٹ سے کیا۔ بین الاقوامی سطح پر بھی نیویارک ٹائمز اور الجزیرہ جیسے معتبر عالمی اداروں نے اپنی رپورٹس میں نہ صرف بھارتی میڈیا کے بارے گودی میڈیا کی اصطلاح کو نمایاں کر رہے ہیں بلکہ بھارتی میڈیا اور حکومتی گٹھ جوڑ کی تلخ حقیقت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر رہے ہیں۔ طلبا کا موقف تھا کہ جو میڈیا عوام کی آواز بننے کے بجائے اقتدار کا ترجمان بن جائے وہ ان کی کوریج کا حقدار نہیں ہے۔ جب روایتی میڈیا کے راستے بند ہوئے تو جین زی نے اپنے سمارٹ فونز کو ہی اپنا ہتھیار بنا لیا۔ انسٹاگرام‘ ایکس (ٹوئٹر) ٹک ٹاک اور لائیو سٹریمز کے ذریعے میمز‘ ریلز اور طنزیہ پوسٹس کا ایک ایسا سیلاب آیا جس کے سامنے مودی سرکار ٹھہر نہ سکی۔ جب دہلی پولیس نے جنتر منتر پر موجود پرامن طلبا پر تشدد کیا اور انہیں حراست میں لیا تو گودی میڈیا نے اس خبر کو دبانے کی کوشش کی لیکن نوجوانوں کی بنائی ہوئی لائیو وڈیوز چند ہی منٹوں میں دنیا بھر کے کروڑوں فونز تک پہنچ گئیں۔ اس ڈیجیٹل پیش قدمی نے ثابت کر دیا کہ اب عوامی تائید کی جنگیں محض روایتی سٹوڈیوز میں نہیں بلکہ سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر بھی جیتی جا سکتی ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر بے اختیار خیال آتا ہے کہ ہمارے ہاں ایسا کیوں نہیں ہوتا؟ ہمارے نوجوان بھی بے روزگاری، مہنگائی، غیر یقینی مستقبل اور محدود مواقع کا سامنا کر رہے ہیں۔ مگر انکی توانائیاں اکثر ایک دوسرے کیخلاف استعمال ہو جاتی ہیں۔ کوئی فرقے کے نام پر تقسیم ہے، کوئی جماعت کے نام پر، کوئی زبان اور نسل کے نام پر اور کوئی شخصیتوں کی اندھی عقیدت میں اس قدر گم ہے کہ اسے اپنے اصل مسائل ہی دکھائی نہیں دیتے۔ ہماری اجتماعی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہمیں سوچنے سے زیادہ ماننے کی عادت ڈالی گئی۔ دلیل سے زیادہ نعرے پسند آئے، سوال سے زیادہ خاموشی اور اصولوں سے زیادہ شخصیتیں۔میری نسل نے بہت سے موسم دیکھے ہیں۔ ہم نے روٹی، کپڑا اور مکان کے خواب بھی دیکھے۔پھر ’نظامِ مصطفیٰ‘ کے نام پر ایک نئی صبح کا انتظار کیا۔1977ءکے بعد ایک ایسا دور آیا جس نے سیاست، معاشرت اور قومی مزاج پر گہرے اثرات چھوڑے۔ افغان جنگ، اسلحے اور منشیات کا پھیلاﺅ، مذہبی تقسیم، سیاسی پابندیاں اور عدم برداشت کی فضا نے آنیوالی نسلوں تک اپنا سایہ پھیلایا۔ تاریخ کے یہ ابواب آج بھی ہمارے قومی رویوں میں جھلکتے ہیں۔پھر ”قرض اتارو، ملک سنوارو“ کا نعرہ بلند ہوا۔ بعدازاں ”صادق اور امین“ کی اصطلاح نے سیاست کا رخ بدلا۔پھر”ووٹ کو عزت دو“ قومی بیانیے کا حصہ بنا۔ہر دور میں ایک نیا نعرہ آیا، ایک نئی امید پیدا ہوئی، ایک نیا خواب بیچا گیا، مگر عام آدمی کی زندگی میں بنیادی تبدیلی نہ آ سکی۔ پاکستان کئی مرتبہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے پروگراموں میں گیا، بیرونی قرضوں کا بوجھ بڑھتا رہا، مہنگائی نے قوتِ خرید کو کمزور کیا، اور بے روزگاری نوجوانوں کیلئے سب سے بڑا سوال بنتی گئی۔ یہ محض سیاسی موقف نہیں، بلکہ معاشی اعداد و شمار اور سرکاری رپورٹس میں بارہا بیان ہونیوالی حقیقت ہے۔ آج ایک سرکاری یا نجی ملازم کی تنخواہ مہینے کے اختتام سے پہلے جواب دے دیتی ہے۔چھوٹا تاجر غیر یقینی حالات میں کاروبار کر رہا ہے۔کسان اپنی محنت کا مناسب معاوضہ نہ ملنے کی شکایت کرتا ہے۔تعلیم یافتہ نوجوان ڈگری ہاتھ میں لئے روزگار کی تلاش میں سرگرداں ہے۔لیکن اس سب کے باوجود ہم آج بھی اپنے اصل مسائل پر ایک قوم بننے کے بجائے ایک دوسرے سے برسرِپیکار ہیں۔ شاید یہی ہمارا سب سے بڑا المیہ ہے۔ہم نے شخصیتوں کو اداروں پر ترجیح دی۔ نعروں کو پالیسیوں پر ترجیح دی۔جذبات کو شعور پر ترجیح دی اور اختلافِ رائے کو دشمنی سمجھ لیا۔ بہرحال سوال یہ ہے کہ نوجوان اب ایسا کیوں سوچ رہے ہیں، کہ اُن کا مستقبل تابناک ہے؟ کیا وہ مایوس ہیں؟ کیا وہ اس لیے سوچ رہے ہیں کہ حکومت اُنہیں سننے سے گریزاں ہے،،، شاید وہ اس لیے سوچ رہے ہیں کہ حکمران طبقہ اُنہیں کچھ سمجھتا ہی نہیں،،، شاید وہ اس لیے سوچ رہے ہیں کہ اُن کے خوابوں کے قائد کو اس وقت جیل میں بند کیا ہوا ہے،،، شاید وہ اس لیے سوچ رہے ہیں کہ اُن کی کہیں شنوائی نہیں ہورہی،،، شاید وہ اس لیے سوچ رہے ہیں کہ ملک میں اُنہیں اپنا مستقبل نظر نہیں آرہا،،، شاید وہ اس لیے سوچ رہے ہیں کہ اُنہیں ملک میں اب جاب سکیورٹی نہیں مل رہی،،، نہ ہی اُنہیں جاب گارنٹی مل رہی ہے،،، یعنی آج جاب ہے، کل نہیں ہوگی،،، شاید وہ اس لیے بھی سوچ رہے ہیں کہ اُن کا ملک ،،، اُن کے ساتھ آزاد ہونے والے باقی ملکوں سے پیچھے کیوں رہ گیا ہے،،، شاید وہ سخت مایوسی کا شکار ہیں یا شاید وہ بیرون ملک بھاگنے کی کوشش میں ہیں لیکن وہ بھاگ بھی نہیں پا رہے،،، خیر جوبھی ہے،،، سچ تو یہ ہے کہ ہم اُن کے ساتھ مکالمہ کر ہی نہیں رہے،،، اگر کسی مکالمے میں ڈی جی آئی ایس پی آر سے نوجوان معیشت کے بارے میں سوال کرتا ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ آپ کو معیشت کا علم ہی نہیں ہے،،، حالانکہ اُنہیں یہ علم نہیں ہوتا کہ وہ یونیورسٹی کے طلبہ سے مخاطب ہیں،،، اس لیے نوجوانوں میں مایوسی بڑھنا شاید فطری عمل ہے،،، لیکن جو بھی ہے،،، سچی بات تو یہ ہے کہ ہم نے نوجوانوں کے ساتھ مکالمہ نہیں کیا، ہم نے نئی نسل کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی، ہم نے نوجوانوں کو مایوس کیا، برسوں سے ایک نسل خود کو کوس رہی ہے۔ جبکہ سرکار اعتراضات کے جواب میں سزا یافتہ مجرم کی طر ح خاموش ہے۔اور ہر اُس بولنے والے کو اپنا دشمن سمجھتی ہے جو ”حق“ کی بات کرتا ہے،،، اور جو حق کی بات کرتا ہے اس کے بارے میں قیاس آرائیاں پیدا کی جاتی ہیں کہ یہ پاکستان کے قومی اداروں کے خلاف ہیں،،، یا یہ ملک کے خلاف ہے، ،، میرے خیال میں یہ تاثر ختم ہونا چاہیے،،، اور پھر اگر ایک شخص کہتا ہے کہ ملک میں منصفانہ الیکشن ہونے چاہیے،،، وہ سمجھتے ہیں کہ یہ بندہ پی ٹی آئی کا ہے ،،، حالانکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے،،، بلکہ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ نوجوانی میں انسان کی جسمانی قوت اور جبلی تقاضے عروج پر ہوتے ہیں۔ ہر عہد کی نوجوان نسل ان کے زیرِ اثر ہوتی ہے۔ جبلی تقاضے اور فطری مطالبات اگر پورے نہ ہوں تو نوجوان نسل احتجاج کی طرف مائل ہو جاتی ہے۔ یہ احتجاج پرانی نسل کی عائد کردہ ان پابندیوں کے خلاف ہوتا ہے جو اسے گزشتہ نسل سے منتقل ہوتی ہیں اور وہ ان کی حفاظت پر مامور ہوتی ہے۔ روایتی معاشروں میں یہی ہوتا ہے۔ روایت رسم ورواج اور مذہب کے نام پر خود کو منواتی ہے۔ اس لیے نوجوانی میں لوگ عام طور پر مذہب بیزار اور آزاد خیال ہوتے ہیں۔ لبرلزم اور اشتراکیت جیسے رومانوی نظریات کے لیے سب سے سازگار دور یہی ہوتا ہے۔یہی وہ عمر ہے جب لوگ مغربی ممالک کو جانے کی خواہش کرتے ہیں۔ اس کا سبب مغرب کا وہ تصور ہے جو لبرل اقدار سے عبارت ہے اور جس کی جھلکیاں انہیں فلموں میں دکھائی دیتی ہیں۔لیکن ہم نے ان کے لیے کچھ نہیں کیا۔ لہٰذاہمیں ہمارے نوجوان کو جذباتی کرنے کے بجائے اُنہیں سمجھنے کی ضرورت ہے،،، آج پاکستانی معاشرے کو تشکیلِ نو کی ضرورت ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ان جین زی نوجوانوں کا خیال کرے،،، انہیں Opportunitiesدے،،، اور یہ بھی ذہن میں رکھے کہ اس وقت پاکستان کی آبادی کا سب سے بڑا حصہ آج Gen-Zپر مشتمل ہے، وہ نسل جو انٹرنیٹ کے ساتھ پلی بڑھی، دنیا کو قریب سے دیکھتی ہے اور سوال پوچھنے سے نہیں گھبراتی۔ لیکن یہی نسل آج سب سے زیادہ مایوسی، بے یقینی اور اضطراب کا شکار بھی ہے۔ یہ مایوسی کسی عیاشی سے نہیں، ٹوٹتے خوابوں سے پیدا ہوئی ہے۔جین زی نے آنکھ کھولی تو ملک قرضوں، سیاسی افراتفری اور معاشی بحران میں گھرا ہوا تھا۔ انہوں نے وعدے بہت سنے، نتائج کم دیکھے۔ تعلیم حاصل کی مگر روزگار نہ ملا۔ میرٹ پڑھا مگر سفارش دیکھی۔ انصاف کی کتابیں دیکھیں مگر انصاف کہیں اور بکتا ہوا پایا۔ بہرکیف ریاست کا پہلا فرض یہ ہے کہ نوجوان کو قابلِ بھروسا مستقبل دے۔ محض اسکیمیں نہیں، مستقل نظام دے ورنہ انہیں کمزور سمجھنے والے آج گھٹنے ٹیکے ہوئے ہیں!