آزاد کشمیر کے فیصلے مظفر آباد میں ہونے چاہیے!

آزادکشمیر پہلے جیسا نہیں رہا؟ یہ سوال مجھے اندر ہی اندر سے کھائے جا رہا ہے،،، کہ ہمارے لیے پہلے بلوچستان کے دروازے بند ہوئے،،، پھر کے پی کے اور گلگت کے حالات کو بمشکل سنبھالا ملا،،، اور پھر اب کشمیر کے عوام کو باغی کر دیا گیا ہے،،، اور پھر جب آپ باغی ہو جائیں تو پھر وہاں جانے والے کاروباری حضرات، سیاح اور دوسرے لوگ غیر محفوظ ہوجاتے ہیں،،، بلکہ پورا خطہ غیر محفوظ ہو جاتا ہے،،، آزاد کشمیر کے حالات گزشتہ ڈیڑھ دو ماہ سے خراب ہیں، وہاں سیاحت بند ہے، جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی لگائی جا چکی ہے،،، جبکہ آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات تین مرحلوں میں کرائے جا رہے ہیں، جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ سکیورٹی صورتحال اور انتظامی وجوہات کی بنا پر تقسیم کیے گئے ہیں۔یعنی پہلا مرحلہ 27 جولائی 2026 کو مکمل ہوا جس میں میرپور ڈویژن کی نشستوں پر پولنگ ہو چکی ہے، جس کے مطابق غیر سرکاری طور پر ن لیگ 9نشستیں اور پیپلزپارٹی 4نشستوں پر کامیاب ہوچکی ہے،،، جبکہ دوسرا مرحلہ: 2 اگست کو ہے جس میں مظفرآباد ڈویژن کی نشستوں کے ساتھ 12 مہاجر (ریفوجی) نشستوں پر بھی پولنگ ہوگی۔اور تیسرا مرحلہ 10 اگست 2026 کو پونچھ ڈویژن کی نشستوں پر ووٹنگ کے ساتھ مکمل ہوگا،،، جبکہ کالعدم عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مطالبات کے برعکس اس وقت بھی 12 نشستیں بدستور برقرار ہیں اور انہیں ختم نہیں کیا گیا۔ان نشستوں پر پاکستان کے مختلف علاقوں میں آباد ان کشمیری مہاجرین کے نمائندے منتخب ہوتے ہیں جو بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے۔یعنی آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں 12 مہاجر نشستیں بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر سے 1947 اور 1965 کے دوران ہجرت کرکے پاکستان کے مختلف علاقوں میں آباد ہونے والے کشمیری مہاجرین کی نمائندگی کے لیے مختص ہیں۔ ان میں سے 6 نشستیں جموں ڈویژن کے مہاجرین اور 6 نشستیں وادی کشمیر کے مہاجرین کے لیے مخصوص ہیں۔ ان نشستوں کے حلقوں میں کراچی، لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، گجرات، منڈی بہاو¿الدین، جہلم، سرگودھا، ملتان اور خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع شامل ہیں، جہاں مقیم مہاجرین اپنے ووٹ کے ذریعے ان نمائندوں کا انتخاب کرتے ہیں۔ یہ نشستیں آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کا حصہ ہیں، تاہم ان پر ووٹنگ پاکستان کے مختلف شہروں میں قائم پولنگ اسٹیشنوں پر ہوتی ہے، کیونکہ ان حلقوں کے ووٹرز آزاد کشمیر کے بجائے پاکستان کے مختلف علاقوں میں مقیم ہیں۔جبکہ کشمیری یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ سرکار ان سیٹوں کو استعمال کرکے اپنی مرضی کی حکومت ان پر مسلط کرتی ہے،،، جبکہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) نے بھی یہی مطالبہ کیا تھا کہ یہ 12 نشستیں ختم کی جائیں کیونکہ ان کے بقول آزاد کشمیر سے باہر کے ووٹرز اسمبلی پر غیر متناسب اثر رکھتے ہیں۔ لہٰذااب دوسرے مرحلے کے الیکشن 2اگست بروز اتوار کو ہوں گے،،، جن میں متنازعہ 12نشستوں پر مقابلے ہوں گے،،، بہرحال یہ سچ ہے کہ ہمارے ہاں انتخابات بدقسمتی سے ہمیشہ مشکوک تصور ہوتے رہے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ غلط یا صحیح بنیادوں پر عوام کی اکثریت میں یہ تاثر بیٹھ چکا ہے کہ انتخاب کے انعقاد سے قبل مقتدر ادارے یہ فیصلہ کرلیتے ہیں کہ کس کو جیتنا چاہیے اور کس کو ہارنا،،، تبھی تو 2013ءمیں الیکشن کے دن ہی ،،، صبح 11بجے نواز شریف ”وکٹری سپیچ“ کھڑکا دیتے ہیں،،، اور 2018ءمیں جب ساری ن لیگ قید ہوتی ہے تو عمران خان کو پہلے ہی علم ہوچکا ہوتا ہے کہ اس بار اقتدار کا ”ہما“ اُن کے سر پر سجایا جائے گا،،،جبکہ 2024ءکے الیکشن میں بھی آپ دیکھ لیں،،، کہ ”نگرانوں“ کو علم تھا کہ اقتدار اُنہیں ہی سونپا جانا ہے ،، تبھی انہوں نے ریاست کے من پسند فیصلے کرکے عوام کو مشکل میں ڈالے رکھا۔ اور فارم 47والے بلنڈرز کے ذریعے عوام پر حکومت بنائی۔ بہرحال پیر کو ہونے والے پہلے مرحلے کے الیکشن میں کشمیر سے کچھ اچھی خبریں نہیں آرہی تھیں،،، جبکہ دونوں جانب (پولیس اور احتجاج کرنے والوں) سے ہلاکتوں کے متضاد دعوے کیے جا رہے تھے،،، سوشل میڈیا پر بتائی جانے والی خبروں کے مطابق پولیس نے عوام پر ایک بار پھر سیدھے فائر کھولے ہیں،،، جبکہ مین اسٹریم میڈیا مکمل خاموش دکھائی دے رہا تھا،،، اور دوسری جانب پولیس اور حکومتی ذرائع ہر طرف امن و امان کی خبریں دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اگر کوئی گڑ بڑ کر رہا ہے تو وہ صرف اور صرف بھارتی ایما ءپر چند لوگ ہیں جو حالات خراب کررہے ہیں،،، یعنی کہا جا رہا ہے کہ یہ بھارت کا کام ہے، ،،بلوچستان کے بارے میںبھی کہا جا رہا ہے کہ وہاں بھی افغانستان اور بھارت کھیل کھیل رہے ہیں،،، اگر یہ باتیں درست ہیں تو ہم نے ایسے خطرات ہی کیوں مول لیے ہیں کہ دشمن اب ہمارے اندر تک گھس آیا ہے؟ بلوچستان کی آگ ابھی ٹھنڈی نہیں ہورہی، کے پی کے کے بعض علاقے سرکار کے لیے علاقہ غیر بنے ہوئے ہیں، گلگت کے حالات پر بمشکل قابو پایا ہے، اور رہ گئی کشمیر کی بات تو وہاں کے عوام کو حکومتی اقدامات نہ صرف باغی کر رہے ہیں، بلکہ اُنہیں بغاوت پر مجبور بھی کر رہے ہیں،،، جبکہ حکومت بدلے میں کہہ رہی ہے کہ یہ سب بھارت کروا رہا ہے،،، لیکن میں ابھی کچھ دن پہلے خود بھی راولا کوٹ گیا، وہاں میں اپنے تئیں عوام سے جنہیں میں ذاتی طور پر جانتا تھا، جو وہاں کے دہائیوں سے رہائشی تھے،،، اُن سے بات کی، لیکن اُن کے جو الفاظ تھے وہ یہاں بیان کرنے کے قابل تو نہیں ہیں،،، مگر جو کچھ بھی ہو رہا ہے، وہ یقینا غلط ہو رہا ہے،،، وہ پرامن مگر ضدی لوگ ہیں،،، اگر آپ اُن سے پیار کی زبان میں بات کریں گے تو وہ سر جھکائیں گے، لیکن اگر آپ اُنہیں ڈنڈے کی زبان سمجھانے کی کوشش کریں گے ،،، تو وہ آپ کابھی گریبان پکڑیں گے،،، اور اس سے بھی بڑھ وہ آپ سے زیادہ مزاحمت کریں گے۔ لہٰذاوہاں کے عوام کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ کشمیر کے فیصلے مظفرآباد میں ہونے چاہیے، ناکہ اسلام آباد میں ۔ اگر یہ جائز مطالبہ ہے تو پھر آخر کیوں؟ ان کے الیکشن تین مراحل میںکروائے جا رہے ہیں؟ کیا ایسا صرف اپنی مرضی کے نتائج لینے کے لیے کر رہے ہیں؟ ہم نے کشمیر کا چکر لگایا، وہ لوگ اس بات کو پسند نہیں کر رہے، کشمیری عوام کسی بھی ایسے فیصلے کو پسند نہیں کر رہے جو اسلام آباد میں ہو رہے ہیں،،، وہ کہتے ہیں کہ یہ فیصلے مظفرآباد میں ہونے چاہیے،،، جب آپ کی مرضی ہوتی ہے تو مشترکہ الیکشن کروا دیتے ہیں، اور جب آپ کی مرضی ہوتی ہے،،، اسے حصوں میں تقسیم کر دیتے ہیں،،، کیا مرحلہ وار الیکشن کا فیصلہ آزاد کشمیر اسمبلی نے کیا ہے؟ یا اُن چند لوگوں نے کمروں میں بیٹھ کر کشمیر کے بارے میں فیصلے کیے ہیں؟ لوگ ان چیزوں کو برا محسوس کر رہے ہیں،، اور رہی بات 12سیٹوں کی تو اس حق میں کوئی ایک سنگل کشمیری بھی نہیں ہے،،، بلکہ میری وہاں موجود پولیس افسران سے بات ہوئی تو وہ کہتے ہیں،،، کہ ہم نے تو حکم کی تعمیل کرنی ہوتی ہے، ہمارے لیے یہ ضروری نہیں کہ لوگ کیا کہتے ہیں؟ بلکہ یہ جاننا ضروری ہے کہ ہمارے افسران کیا کہتے ہیں؟ بہرحال میرے خیال میں مرحلہ وار انتخابات آزادکشمیر میں پہلے سے موجود ہیجان کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے اسے مزید بھڑکانے کا سبب ہوسکتے ہیں۔ مرحلہ وار انتخابات کا چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے اعلان کروانے سے قبل میری ناقص رائے میں لازمی تھا کہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں گرم جوشی سے حصہ لینے والی تمام سیاسی جماعتوں کا ایک اجلاس ہوتا۔ مذکورہ اجلاس کے دوران مرحلہ وار انتخابات کے ہر مثبت اور منفی پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے ایسا لائحہ عمل تیار کیا جاسکتا تھا جو مرحلہ وار ہوئے انتخابات کی شفافیت کو یقینی بناتا۔ اس تاثر کو کافی حد تک ناقص ثابت کرتا کہ انتخابات کے انعقاد سے قبل ہی مقتدر قوتیں یہ فیصلہ کرچکی ہیں کہ ”اب کی بارکس سیاسی جماعت کو اقتدار میں لانا ہے“۔ تبھی تو نتائج کا پولنگ ختم ہونے کے بعد اعلان مگر شک وشبہ میں برسوں سے مبتلا عوام کو یہ سوچنے کو مجبور کرسکتا ہے کہ میرپور کے لئے مختص نشستوں کے جو نتائج آئے ہیں ان میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت ہی کو اقتدار دینے کا ”فیصلہ“ ہوچکا ہے۔ خواہ بے بنیاد وجوہات کے نتیجے میں ابھری اس سوچ کا اثرہم ہر صورت مظفر آباد کے لئے مختص نشستوں کے دوران ڈالے ووٹوں اور ان کے نتائج میں بھی دیکھیں گے۔ میرپور، مظفر آباد اور مہاجرین کی نشستوں پر انتخابی عمل مکمل ہوجانے کے بعد آزادکشمیر اسمبلی کی اکثریتی نشستوں پر انتخابی عمل مکمل ہوجائے گا۔ اس کے بعد فقط پونچھ کے لئے مختص چند نشستیں ہی رہ جائیں گی جہاں عوامی جذبات فی الوقت بہت بھڑکے ہوئے ہیں۔ میرپور، مظفر آباد اور مہاجرین کے لئے مختص نشستوں پر انتخابی عمل مکمل ہوجانے کے بعد پونچھ میں عوامی جذبات مزید بھڑکائے جاسکتے ہیں۔ انتظامیہ انہیں ذہن میں رکھتے ہوئے 10اگست کے انتخابات ملتوی کرنے کا اعلان بھی کرسکتی ہے۔ پونچھ کے باسیوں کو یہ اعلان انتخابی عمل سے باہر رکھتا محسوس ہوگا۔ بہتر تو یہی تھا کہ انتخابی شیڈول کا اعلان کرنے سے قبل احتجاجی تحریک کو مذا کرات کے ذریعے ٹھنڈا کیا جاتا۔ مذاکرات کے ذریعے حل ڈھونڈنے کے بعد ہی انتخابی شیڈول کا اعلان ہونا چاہیے تھا۔ احتجاجی تحریک کا مناسب حل ڈھونڈے بغیر انتخابی شیڈول کا اعلان ہوگیا تھا تو آزادکشمیر کی ہر نشست پر پولنگ ایک ہی روز کروائے جانا یقینی بنانا چاہیے تھا۔ آخری لمحات میں انتخابات کو مرحلہ وار کروانے کا فیصلہ آزادکشمیر میں جاری ہیجان کو مزید سنگینی کی جانب دھکیل سکتا ہے۔ لہٰذامیرے خیال میں کشمیر کے مسئلے کو وہاں کی عوام کی اُمنگوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے،،، حالانکہ ہم اقوام متحدہ میں بھی تو یہی کہتے ہیں کہ کشمیری عوام کا فیصلہ کشمیری ہی کریں گے،،، پوری دنیا میں ہماری جگ ہنسائی ہو رہی ہے،،، کہ ایک طرف آپ یہ کہتے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کا فیصلہ اُن کی اُمنگوں کے عین مطابق ہونا چاہپیے،،، جبکہ دوسری طرف کہتے ہیں کہ آزاد کشمیر کا فیصلہ عوام نہیں بلکہ اسلام آباد میں ہونا چاہیے۔ لہٰذافیصلہ کرنے والے ہوش کے ناخن لیں اور فیصلے وہیں ہونے دیں جہاں کے عوام ہیں،،، ورنہ یہ خطہ بھی ہم سے متنفر ہو جائے گا!