ایک بار پھر ،نئے صوبے بنانے کی سیاست!

گزشتہ روز ہر کوئی اُس وقت حیرت زدہ ہوگیا ، جب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں ہونے والی اہم ”اکنامک سمٹ“ میں کاروباری طبقہ، صنعت کار اور پالیسی سازوں کے سامنے تین بنیادی نکات پر بات کی،،، کہنے لگے، ’جس نظام میں ہم رہ رہے ہیں یہ گرچکا ہے، اس میں مسائل حل نہیں ہوسکتے۔ یہی نظام چلتا رہا تو دس برس بعد بھی ہم بیٹھ کر انہی مسائل پر بات کر رہے ہوں گے۔ ایڈمنسٹریٹو یونٹس کہیں یا صوبے، جو بھی نام دیں، ہمیں ان کی طرف جانا ہوگا اور یہ معاملہ عوام کے پاس لے کر جانا ہوگا۔ بھارت میں آزادی کے وقت چودہ صوبے تھے، آج 29ہیں جبکہ ہم وہیں کھڑے ہیں۔‘ پھر فرمایا کہ ’کون سا گھر ہے جو مہینہ شروع ہوتے ہی لاکھوں کا مقروض ہو اور پھر بھی چلایا جائے؟ ہم اپنا بجٹ ہی نیگیٹو میں بناتے ہیں کہ اس سال کتنا قرضہ لینا ہے‘۔ اس حوالے سے ایک اہم بات کہی کہ ’وزیراعظم شہباز شریف بارہ چودہ گھنٹے کام کرتے ہیں، اٹھارہ گھنٹے بھی کرلیں تو کیا فرق پڑے گا، وہ صرف فائر فائٹنگ کررہے ہیں‘۔پھر اپنی ہی حکومت پر مزید تنقید کرتے ہوئے فرمایا کہ ، ’دو چار ہزار ٹیبلٹس (لیپ ٹاپ) بانٹنے یا چند ہزار روپے وظیفہ دینے سے یہ نظام ٹھیک نہیں ہوسکتا۔ نوجوانوں سے پوچھیں تو سہی کہ وہ چاہتے کیا ہیں۔ وہ ایک ہی چیز مانگتے ہیں، اپنا نظام درست کرلیں، ہمیں انصاف مل جائے، میرٹ مل جائے، جائز طریقے سے ملازمت کے مواقع مل جائیں‘۔پھر اسی تقریر میں وزیر داخلہ نے وہ جملہ بھی کہہ دیا جو غالباً پوری تقریر سے زیادہ وائرل ہوا۔ کہا کہ آپ انہیں نوجوان کہیں یا کاکروچ، اگر یہ اکٹھے ہوگئے تو ہر چیز الٹ سکتے ہیں۔ اب جو باتیں وزیر داخلہ نے کہیں ،،، ہمارے تو ہر کالم میں اسی چیز کا واویلا ہوتا ہے،،، کہ سسٹم ٹھیک کریں، میرٹ پر توجہ دیں، نوجوانوں کو ہلکا نہ لیں، نئے صوبے بنائیں وغیرہ،،، دنیا میں کہیں 13کروڑ کا صوبہ نہیں ہے،،، اس سے کہیں کم آبادی والے تو پورے پورے ملک ہیں،،، جیسے یورپ کو دیکھ لیں، ایران کو دیکھ لیں،،ایران کے 9کروڑ کے ملک میں 30انتظامی یونٹس ہیں،،، اس لیے وطن عزیز بھی کے بھی مزید صوبے بننے چاہییں،،، مگر 18صوبے نہیں بلکہ اسے مرحلہ وار تقسیم ہونا چاہیے،،، کیوں کہ زیادہ یونٹس بننے سے فائدہ کسی اور کو نہیں بلکہ سیدھا فیصلہ کرنے والوں کو ہوگا،،،یعنی چھوٹی چھوٹی اسمبلیوں سے نمٹنا زیادہ آسان ہوتا ہے ، بنست بڑی اسمبلیوں کے ۔ اور پھر جس مقصد کے لیے ہم صوبے چھوٹے کر رہے ہیں،،، وہ واحد مقصد تو عوام کو ریلیف دینا ہے،،، مگر یہ سب کچھ سیاست زدہ ہوجاتا ہے،،، ویسے ہم نے اس حوالے سے کئی سیمینارز بھی کروائے ہیں،،، کہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لینا چاہیے،،، اور صوبہ پنجاب کو دو یا تین انتظامی حصوں میں تقسیم کرنا چاہیے،،، کیوں کہ اس سے زیادہ تقسیم کریں گے تو ان صوبوں میں ”چودھری“ زیادہ بن جائیں گے،،، ہر صوبے کی نئی اسمبلی بنے گی، اخراجات بڑھ جائیں گے،، ہر صوبے کے وزیر الگ سے مراعات لیں گے،،، نئے نئے سیکرٹیریٹ بنیں گے،، ، ہر صوبے کا الگ وزیر اعلیٰ ہاﺅس بنے گا،،، جس کا سٹاف ہائیر کیا جائے گا،،، نئے نئے کلب آفسز بنیں گے،،، ہر وزیر اعلیٰ کا پروٹوکول الگ ہوگا،،، 36،36گاڑیاں خریدی جائیں گی،،، پٹرول ، سکیورٹی و دیگر اخراجات الگ سے ہوں گے،،، 11، 11ارب کے نئے جہاز و ہیلی کاپٹر خریدیں جائیں گے،،،نئے نئے ائیرپورٹس بنیں گے،،، این ایف سی ایوارڈ پر دباﺅ بڑھے گا،، پھر ہر صوبے کی دوسرے سے لڑائیاں شروع ہوگئیں تو اس کا فائدہ پھر وہی اُٹھائیں گے،،، جو آج تک اُٹھاتے آئے ہیں،،، پھر یہی نہیں بلکہ عوام میں بھی دوریاں بڑھ جائیں گی،،، جیسے ابھی ایک صوبے کے لوگ دوسرے صوبے میں نہیں جاسکتے،،، ویسے ہی اس تقسیم میں اضافہ ہوگا اور ہر کوئی اپنے اپنے صوبے میں بند ہو کر رہ جائے گا،،، اس لیے میرے خیال میں ملک کی اس طرح کی تقسیم سے 18صوبوں کے بجائے پاکستان میں 9صوبے(پنجاب 3،سندھ 2، کے پی 2،بلوچستان 2) بنائے جائیں،، جسے سنبھالنا آسان بھی ہے،،، اور یہ تکنیکی اعتبار سے درست بھی ہے،،، کیوں کہ اگر سب سے پہلے پنجاب کی بات کریں تو پنجاب میں جنوبی پنجاب بنانے کا مسئلہ نیا نہیں ہے،،، یہ کم و بیش 30سال پرانا مسئلہ ہے،،، 1980 اور 1990 کی دہائی میں جب چند سر پھرے لوگوں نے سرائیکی صوبے کا نعرہ لگایاتھا،،، اُس وقت اس صوبے کا نعرہ لگانے کے لیے وہاں کے دانشوروں، صحافیوں اور شاعروں نے بہت سی تکلیفیں بھگتیں۔ اُس وقت لاہور کے اخبارات اس تحریک کے خلاف تھے، لہٰذا ایسی تحریریں جو الگ صوبے کے حق میں ہوتیں ، روک دی جاتیں۔ پھر سرائیکی علاقوں کے ادیبوں، شاعروں، استادوں اور صحافیوں کو ریاستی جبر کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ان کے پیچھے ایجنسیاں لگ گئیں۔ کسی پروفیسر یا استاد نے سرائیکی کا نام لیا تو دوردراز تبادلہ کر دیا گیا۔ کوئی بچ گیا تو انہیں بھارتی ایجنٹ قرار دے دیا گیا۔ کوئی سرائیکی ہندو ملتان چلا گیا اور اس کے اعزاز میں تقریب ہوئی تو فوراً را کا ایجنٹ قرار دے دیا گیا۔ دوسری طرف خود رنجیت سنگھ تک کی برسی لاہور میں منائی جانے لگی۔ اس کے بعد یہ مسئلہ ٹھپ ہوگیا،،، مگر ایک پھر اسے 2013ءمیںالیکشن سے پہلے اُٹھایا گیا،،،پھر خاموشی چھا گئی،،، اُس کے بعد آپ کو یاد ہوگا کہ جنوبی پنجاب کا مسئلہ 2018ءکے الیکشن سے پہلے بھی اُٹھایا گیا، ،، وہاں کے تمام 15سے زائد ایم این ایز پریس کانفرنس کرتے،،، اور جنوبی پنجاب کو الگ بنانے کے منصوبے کا مطالبہ کرتے،،، لیکن جیسے ہی الیکشن ہوئے،،، عمران خان حکومت اقتدار میں آئی،،، اور پھر سے پراسرار خاموشی چھا گئی،،، لہٰذااگر یہ صوبے بنانے میں اتنے ہی سنجیدہ ہیں تو کم از کم جنوبی پنجاب والوں کو ہی سنجیدہ لے لیں،،، پھر آپ ملتان کو الگ صوبہ بنا سکتے ہیں،، کیوں کہ رنجیت سنگھ کے 1818ءمیں حملے سے پہلے، ملتان پانچ ہزار سال تک ایک صوبے کے طور پر قائم رہا ہے، ،، ابوالفضل کے آئین اکبری میں 1512ءمیں صوبہ ملتان اور صوبہ لاہور کا ذکر کیا گیا ہے،،، یعنی آج سے500سال پہلے بھی صوبہ پنچاب دو حصوں میں منقسم تھا،،، اب بھی اگر اسی قسم کی تقسیم کردیں تو زیادہ بہتر ہوگا،،، یعنی صوبہ لاہور، صوبہ ملتان، اور صوبہ بہاولپور تو اس تقسیم سے یقینا سسٹم میں بہتری آئے گی اور اضافی اخراجات بھی کم سے کم ہوں گے،،، لیکن اگر اسی طرح نظام چلنا ہے تو ذرا سوچیں، 12، 13 کروڑ آبادی کا صوبہ ایک وزیراعلیٰ اور ایک کابینہ لاہور میں بیٹھ کر چلا رہی ہے۔ راجن پور کے کسی گاو¿ں کے آدمی کا کام سیکریٹریٹ میں پھنس جائے تو 500، 600 کلومیٹر کا سفر، کرایہ، 2 دن کی دیہاڑی کا نقصان، اور اس کے بعد بھی کوئی ضمانت نہیں کہ کام ہوگا۔ یہ آدمی سسٹم سے مایوس نہ ہو تو اور کیا ہوگا؟اس لیے نئے صوبوں پر سیاست نہ کریں بلکہ سنجیدگی سے ان معاملات کو دیکھیں تاکہ عوام سکھ کا سانس لیں! پھر اسی طرح کے پی اور سندھ و بلوچستان کی تقسیم بھی ہونی چاہیے،،، بلوچستان میں رقبے کے لحاظ سے صوبوں کی تقسیم ہونی چاہیے،،، کیوں کہ وہاں عجیب تقسیمی حالات ہیں،،، کہ جیسے سبی ڈویژن میں زیارت کا ضلع بھی آتا ہے تو وہاں ڈپٹی کمشنر کو سبی سے زیارت جانے کے لیے کوئٹہ سے گزر کر جانا پڑتا ہے،،، اور رہی بات سیاسی جماعتوں کی تو معذرت کے ساتھ ان میں سے اکثریت لالچی لوگوں کی ہے، یہ الیکشن سے پہلے وعدہ کرتے ہیں،، پھر جب یہاں چیف منسٹربن جاتا ہے تو پھر طاقت آجاتی ہے اور پھر دل ہی نہیں چاہتا کہ اس صوبے کی تقسیم کی جائے،،،اور ویسے بھی پیپلزپارٹی کبھی نہیں چاہے گی کہ سندھ تقسیم ہو،،، یعنی کراچی کے بغیر پیپلزپارٹی والے بھوکے مرجائیں گے،، اس لیے وہ کبھی بھی ایسی تقسیم نہیں چاہیں گے،،، اس حوالے سے آپ شیری رحمن کا آج کا بیان ہی پڑھ لیں، موصوفہ فرماتی ہیں کہ آپ اس موضوع کو یہیں ٹھپ دیں تو بہتر ہوگا،،، یہ اس لیے بھی ایسا کہتے ہیں کہ کیوں کہ کراچی کے لوگ پیپلزپارٹی کو لائق بھی نہیں کرتے اور نہ ہی وہ اسے ووٹ دیتے ہیں،،، آپ خود دیکھ لیں کہ وہاں ووٹ یا تو آزاد اُمیدوار کو ملتا ہے، یا ایم کیو ایم کو یا جماعت اسلامی و دیگر جماعتوں کو۔ یعنی پیپلز پارٹی جنوبی پنجاب پر جوش سے تقریریں کرتی ہے، بل بھی پیش کرچکی۔ سندھ کا ذکر آتے ہی مگر لہجہ بدل جاتا ہے۔ معاملہ جذباتی بنا دیا جاتا ہے، دھرتی ماں کی تقسیم کا نعرہ لگتا ہے، سندھ کارڈ نکل آتا ہے۔ویسے تو یہی کھیل پنجاب میں بھی ہے، یہاں بھی ایک حلقہ تقسیم کا نام سنتے ہی چوڑا ہو کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ حالانکہ تقسیم سے پنجاب کمزور نہیں، جنوبی پنجاب کا عام آدمی مضبوط ہوتا ہے۔اور پھرجنوبی پنجاب کے لوگ شریف فیملی کو زیادہ پسند نہیں کرتے،،، اس لیے یہ بھی صوبہ پنجاب کی تقسیم کبھی نہیں ہونے دیں گے،،، اور ویسے بھی انہوں نے وہاں پر کاٹن ملوں کی جگہ شوگر ملیں لگا کر کاٹن انڈسٹری تباہ کر دی ہے،،، بہرکیف صوبے کی ضرورت سب کو ہے، حق میں تقریر سب کرتے ہیں، اور جس دن ووٹ کا وقت آئے، اس دن بہت سوں کے پیٹ میں درد شروع ہوجاتا ہے۔ یہ ٹنگا ٹولی برسوں سے چل رہی ہے۔ہم انڈیا میں بہت سی بری چیزوں کو کاپی تو کرتے ہیں،،، مگر کبھی اچھی چیزوں کو بھی ہائی لائٹ کرنا چاہیے کہ انڈیا نے پنجاب کے تین صوبے بنا دیے ،،، مگر ہم نے نہیں کیے،،، وہاںایک پنجاب تھا، اب وہ پنجاب، ہریانہ اور ہماچل پردیش بن گیا۔ کوئی قیامت آئی وہاں؟ الٹا تینوں یونٹ بہتر چلے۔ بلکہ وہاں ، وہاں انتظامی لحاظ سے 28صوبے اور 8یونین ٹریٹریز ہیں،،، یعنی انہیں 36انتظامی یونٹوں میں تقسیم کیا گیا ہے،،، جب وہاں ہو سکتا ہے تو یہاں کیوں نہیں؟ ہمارے ہاں مگر جس دن نئے صوبے کی بات ہو، اسی دن ملک کی سالمیت خطرے میں پڑجاتی ہے۔لہٰذاان معاملات کو سیاست میں نہ اُلجھائیں ،،، بلکہ کر گزریں،،، لیکن نیت خالصتاََ عوامی ہونی چاہیے ناکہ سیاسی،،، ورنہ واقعی بقول محسن نقوی کے ،،، دس سال بعد بھی ہم انہی مسئلوں پر بیٹھ کر بات کر رہے ہوں گے! اور حل کوئی نہیں ہوگا!