سول ایوارڈز: اندھا بانٹے ریوڑیاں، مڑ مڑ اپنوں کو!

پاکستان میں سرکاری اعزازات کی تقسیم ہر سال کی جاتی ہے،،، جس سے شعبہ طب، ادب، سماجی خدمات و سکیورٹی اداروں میں بہترین خدمات پر ہر سال، یکم مارچ تک، کابینہ ڈویژن کی طرف سے مختلف وفاقی اور صوبائی وزارتوں سے قومی اعزازات کے اہل افراد کی سفارشات طلب کی جاتی ہیں۔ تین نامزد کمیٹیاں، مئی اور جولائی کے درمیان ان ناموں پر غور کرنے اور منظوری کے بعد ایک سمری وزیراعظم کی معرفت صدر کو ارسال کرتی ہیں جو 14 اگست کو یومِ آزادی کے موقع پر ایوانِ صدر سے ایوارڈ یافتگان کے ناموں کا اعلان کرتے ہیں۔ 23 مارچ کو یومِ پاکستان کے موقع پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاوہ صوبائی دارالحکومتوں ، لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں تقسیمِ انعامات کی تقاریب منعقد ہوتی ہیں۔ غیرملکی شخصیات کو صدر مملکت، ایوانِ صدر میں کسی بھی وقت ایوارڈ دیتے ہیں،،، اس سال بھی پاکستان سول ایوارڈز کا اعلان 14اگست کو ہوا تو پھر وہی ہوا جو 79سالوں سے ہو رہا ہے،،، یعنی فہرست میں وہ لوگ بھی موجود ہیں ،،، جو شاید اس میرٹ پر پورا نہیں اُترتے،،، لیکن کسی سے کیا شکوہ جب پورا درخت ہی سوکھا ہو تو کیسے ممکن ہے کہ ایک آدھ شاخ ہری بھری ہو!۔ یعنی قصہ مختصر کہ پاکستان کی 79 سالہ تاریخ میں موجودہ نظام نے دیدہ دلیری سے خود نوازی کا نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ اب تک اپنی ہی وفاقی کابینہ کے 19 ارکان کو سول ایوارڈز دیئے جا چکے ہیں۔ اس بندر بانٹ میں 10 وزراءملک کا اعلی ترین اعزاز نشانِ امتیاز ہضم کر چکے ہیں۔ خیر اس بار جن سول شخصیات کو اعزازات سے نوازا گیا اُن کی تعداد 355ہے ،، جن میں نمایاں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ہیں، جنہیں نشان امتیاز کے لیے نامزد کیا گیا ہے، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر برائے اسٹیبلشمنٹ اور اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی کے لیے نشان امتیاز کی سفارش کی گئی ہے، عالم دین حافظ طاہر اشرفی کو تمغہ امتیاز کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ صحافت کے شعبے میں محمد صالح ظافر اور حاجی نواز رضا کے لیے ستارہ امتیاز، سید حامد غزنوی اور محمد عامر خان کو فوٹوگرافی کے شعبے میں ایوارڈ کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ان کے علاوہ صحافت کے شعبے سے ہی عمار مسعود، محمد ریاض خان، ثقافتی صحافت سے وابستہ صحافی شعیب احمد، ڈاکٹر ماریہ ذوالفقار، عادل شاہزیب، حماد حسن اور تصور عرفات کے لیے صحافت کے شعبے میں تمغہ امتیاز کے لیے سفارش کی گئی ہے۔اسی طرح سائنس ، انجیئنرنگ و طب کے شعبے میں بھی متعدد شخصیات کو نامزد کیا گیا ہے،،، بہرحال باقی شخصیات کو چھوڑیں آپ یہ دیکھیں کہ اسحاق ڈار یا محسن نقوی کو ایوارڈز کی ضرورت ہے؟ مطلب! آپ لوگ اقتدار میں ہو کر بھی سول اعزازات کو نہیں چھوڑ رہے،،، یعنی اسحاق ڈار نائب وزیر اعظم ہیں،،، اُن کے پاس وزارت خارجہ کا بھی قلمدان ہے، ،، اس کے بعد کوئی ضرورت رہتی ہے کہ اُنہیں ایوارڈ دیا جائے،،، یا پھر وزیر داخلہ جن کے پاس پی سی بی چیئرمین کا بھی عہدہ ہے،،، وہ آئی سی سی کے ایشین صدر بھی ہیں، وہ سینیٹر آف پاکستان بھی ہیں،،، پھر وہ انسداد منشیات کا قلمدان بھی رکھتے ہیں،،، تو جب آپ کے پاس اتنے عہدے ہوں گے تو پھر سول اعزاز کی کوئی وقعت رہ جاتی ہے؟چلیں یہ اعزازات مل بھی گئے تو کیا ان کے قد میں کوئی کمی بیشی ہوگی؟ ماسوائے اس کے کہ ان کے مخالفین کو ان پر ایک بار پھر تنقید کرنے کا موقع مل جائے گا،،، آپ سادہ سی بات یہ بتا دیں کہ کیا انہیں کسی بین الاقوامی ادارے نے کوئی اعزاز دیا ہے؟ اگر باہر سے کسی ادارے نے اعزاز کے لیے نامزد بھی کیا ہوتا تو ہم سمجھتے کہ پاکستان میں بھی اُنہیں ایوارڈ ملنا چاہیے۔ یعنی ایک سادہ سا سوال ہے کہ کیا ہم اس مائنڈ سیٹ کو ختم نہیں کرسکتے؟ کہ سول اعزازات کی بندر بانٹ بند کی جائے،،، ہاں ! آپ میرٹ پر اعزازات دیں،، جن کا حق ہے اُن کی آپ مدد بھی کریں اور اُنہیں اعزازات سے بھی نوازیں،،، لیکن ایسا نہ کریں کہ اپنے لائیک مائنڈڈ صحافیوں، سیاستدانوں وغیرہ کے اعزازات کا جمعہ بازا رلگا لیں،، آپ کے ہمسائے انڈیا میں ڈیڑھ ارب کی آبادی میں محض 131لوگوں کو سول اعزاز سے نوازا گیا،،، جبکہ یہاں اُس سے پانچ گنا کم آباد میں ساڑھے تین سو اعزازات سے نوازا جا رہا ہے،،، اب ایک فوٹو گرافر کو ایوارڈ صرف اس لیے ملا ہے کہ وہ نواز شریف کا فوٹو گرافر تھا،،، اور ایک صحافی کو ایوارڈ صرف اس لیے مل رہا ہے کہ وہ ان کی شان میں قصیدے پڑھ رہا ہے،،، مطلب! میرٹ کوئی نہیں ہے،،، بس میرٹ یہ ہے کہ آپ کی جو تعریف کرے،،، جو آپ کے مخالفین کو کچلے اُسے آپ اعزازات سے نواز دیں۔ پھر یہی نہیں بلکہ ایسا ہر دور میں ہوتا رہا ہے،،، یعنی 2019ءمیں علی ظفر پر مشا شفیع کیس چلا اور عمران خان دور میں یعنی 2020ءمیں اُسے سول ایوارڈ دے دیا گیا،،، پھر یہ لوگ اتنا بھی صبر نہیں کرتے کہ کیس کا فیصلہ تو آنے دیتے۔۔۔ قصہ مختصر کہ آپ اتنی مہربانی کہ ایک میرٹ وضع کر دیں تاکہ آپ کے نامزد کر دہ لوگوں پر کوئی انگلی نہ اُٹھا سکے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے نوبل پرائز کے لیے صدر ٹرمپ لاکھ بھی کوشش کر لیں،،، لیکن اگر وہ میرٹ پر پورا نہیں اُتر رہا تو کمیٹی اُسے امن کا نوبل پرائز نہیں دے گی،،، وہ ایسا کرکے اپنے میڈل کی اہمیت کو کبھی کم نہیں کرے گی۔۔پھر جب آپ میرٹ وضع کریں تو بتا دیں کہ آپ کا ان پوائنٹس پر پورا اترنا شامل ہوگا۔ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ عارضی سی کمیٹی بنا دیں،،، اُسے کہیں کہ وہ لائک مائنڈڈ لوگوں کی فہرست بنائیں،،، جو مستقبل میں بھی اُن کے ساتھ چلتے رہیں تاکہ اُنہیں ایوارڈ سے نوازا جائے،،، پھر آپ یہ دیکھیں کہ پولیس کے لیے سول اعزازات میں ایک بھی آفیسر پنجاب سے باہر سے نہیں ہے،،، یعنی کے پی ، بلوچستان اور سندھ کے پولیس افسران یا تو نالائق ہیں،،، یا وہ ان کے میرٹ پر پورا نہیں اُترتے ہوں گے،،، حالانکہ سب سے زیادہ شہادتیں کے پی کے اور بلوچستان میں ہوتی ہیں،،، وہاں تو پولیس افسران کو یہ بھی علم نہیں ہوتا کہ اُنہوں نے شام کو واپس گھر میں آنا بھی ہے یا نہیں۔ حتیٰ کہ کراچی میں بھی آپ دیکھ لیں کہ وہاں پولیس کو زیادہ تھریٹس ہوتی ہیں،،، لیکن ہمارے لسٹیں تیار کرنے والے لوگ شاید اس پر بھی ڈنڈی مارنے کو اپنے لیے اعزاز سمجھتے ہیں،،، پنجاب والوں کو شاید ماورائے عدالت قتل کرنے پر زیادہ اعزازات دیے جا رہے ہیں،،، حالانکہ ایسا کرنا تو ریاست کی رٹ کے خلاف اور عدلیہ کی کارکردگی پر کئی سوالیہ نشان چھوڑ دیتا ہے۔ لہٰذاسوال تو یہ بنتا ہے کہ ماورائے عدالت قتل کرنا اصل میرٹ ہے یا عوام کی خدمت کرتے ہوئے شہید ہونا۔ میں یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ نامزدگیاں کرنے والوں کی کمیٹی کے سربراہ وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال ہیں،،، جنہوں نے ایک ٹویٹ کیا اور اللہ کا اس بات پر شکر ادا کیا کہ وہ اُس ایوارڈ کمیٹی کے سربراہ ہیں جو ہر سال اُن افراد کے نام فائنل کرتی ہے جنہیں ریاستِ پاکستان مختلف کیٹیگریز میں ایوارڈز کا مستحق سمجھتی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ وہ بھی داد مانگ رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ان اعزازات پر اُن کا کریڈٹ یقینا بنتا ہے،،، یعنی شاعر کہہ رہا ہے، کہ ایک نشان امتیاز اُن کے لیے بھی ہونا چاہیے،،، ! کیا احسن اقبال نے ایک بار بھی نہیں سوچا ہوگا کہ جن صوبوں میں پولیس والے بہادری سے دہشت گردوں سے مسلسل کئی برسوں سے لڑ رہے ہیں اور جانیں دے رہے ہیں وہاں سے ایک بھی ایسا پولیس افسر نہ ملا جسے احسن اقبال صاحب کی کمیٹی اس قابل سمجھتی جتنا وہ آئی جی پنجاب یا دو افسران کو سمجھتے ہیں جنہوں نے کچے کا آپریشن کیا۔ مان لیا وہ تینوں بہادر افسران ہوں گے اور ان کا انعام بنتا تھا لیکن آپ کیسے بھول سکتے ہیں کہ بلوچستان میں کوئی بھی سندھ یا پنجاب سے جا کر پوسٹنگ نہیں چاہتا۔اگر پنجاب سے ایک افسر کی بلوچستان پوسٹنگ ہو جائے تو وہ نوکری چھوڑنے پر تیار ہو جاتا ہے، صوبہ جوائن نہیں کرتا۔ دنیا جہاں کی سفارشیں ہوتی ہیں اور وہ سب پنجاب میں او ایس ڈی لگ جائیں گے لیکن بلوچستان میں آر پی او یا ڈی پی او نہیں لگیں گے۔ لیکن جن کی سفارش نہیں ہوتی انہیں بلوچستان پوسٹ کیا جاتا ہے۔کیوں کہ وہ ہر روز جان ہتھیلی پر رکھ کر گھر سے نکلتے ہیں اور کچھ علم نہیں ہوتا شام کو زندہ واپس آئیں گے یا ان کی لاش لاہور بچوں کو بھیجی جائے گی۔ نہیں یقین تو آپ خود خبریں دیکھ لیں ،،، کہ بلوچستان میں کل ہی وزیر داخلہ پر حملہ ہوا جس میں نو پولیس والے شدید زخمی ہیں۔ وزیر داخلہ جو 14اگست کوقومی پرچم لہرانے قلات گئے تھے‘ مشکل سے بچے۔ اس طرح خیبرپختونخوا میں بہادر پشتون دہشت گردوں سے لڑ رہے ہیں۔ روز وہ جانیں دے رہے ہیں۔ طالبان کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ بنوں کے ڈی پی او فرقان بلال اور ان کی پولیس فورس کی وڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں وہ جشن منا رہے تھے۔ کہ انہیں طالبان کے ایک گروہ نے دھمکی دی تھی اور بنوں کی بہادر پولیس نے انہیں جوابی دھمکی دے کر آپریشن کر کے ختم کیا۔ اس موقع پر جو بہادر پشتون سپاہیوں نے تقریر کی اور جوش دکھایا وہ دیکھ کر آپ کا دل واہ واہ کر اُٹھے۔ کیا ڈی پی او بنوں کی بہادری بھی کسی کی نظر سے نہیں گزری؟ بہرکیف حال ہمارے ملک کا تو یہ ہے کہ یہاں یہ نہیں کہا جاتا کہ قوانین پر عمل دارآمد کروائیں،،، بلکہ سکیورٹی اداروں کو یہ کہا جاتا ہے کہ اتنے پرچے کاٹنے ہیں،،، جیسے ٹریفک وارڈنز کو کہا جاتا ہے کہ شام تک انہوں نے اتنے پیسے کے چالان کاٹنے ہیں،،، یہ نہیں کہا جاتا کہ ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانا ہے،،، بلکہ ٹارگٹ سیٹ کیے جاتے ہیں،،، اور کہا جاتا ہے کہ ملک ترقی کر رہا ہے،،، اگر ملک ترقی کرنے کا criteriaجرمانے کرنا اور پیسے بٹورنا ہے تو پھر یہاں میرٹ کا اللہ ہی حافظ ہے،،، اور رہی میڈلز کی بات تو میڈلز بانٹنے ہیں تو میرٹ پر بانٹیں ورنہ کسی کی تضحیک نہ کریں ،،، !