بانی تحریک انصاف کو ”ہیلتھ ریلیف“ خوش آئند!

اس سال کی بڑی خبر یہ ہے کہ عدالتِ عظمیٰ کے حکم پربانی تحریک انصاف کی ہسپتال منتقلی ہو رہی ہے۔جبکہ سرکار نے ”روایتی انداز“ میں سپریم کورٹ میں اسے Opposeکرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کا حکم اختیارِ سماعت سے تجاوز ہے، اس پر نظرِثانی ہونی چاہیے، سپریم کورٹ میں درخواست گزار چیف کمشنر اسلام آباد ہیں ،،، اور کہہ رہے ہیں جیل رولز کے مطابق قیدی کو اسپتال سے باہر منتقل کرنے کے فیصلے پر غور کریں ،،، وہ مزید کہہ رہے ہیں کہ بانی کا طبی معائنہ پہلے بھی باقاعدگی سے ہوتا رہا، میڈیکل بورڈ کئی بار ان کا علاج کر چکا ہے، صحت کی خرابی پر عدالت کو طبی ماہرین کی رائے لینے کے بعد فیصلہ کرنا چاہیے تھاوغیرہ وغیرہ ۔ ویسے تو بادی النظر میں وطن عزیز میں کسی کو جہاں سے بھی کوئی رعایت ملے غنیمت سمجھنا چاہیے اور یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ درِ زنداں ملاقاتیں محدود کیوں کر دی گئیں اور وکلا کی رسائی بھی بہت کم ہو گئی۔ بلکہ تحریک انصاف کی اس پالیسی کو بھی فی الوقت داد دینی چاہیے کہ انہوں نے بھی تادم تحریر ”اچھے بچوں“ کی طرح Behaveکیا ہے،،، کرتے بھی کیوں نہ ،،، آخر اُنہیں ایک ہزار سے زائد دنوں بعد ایک خوشخبری ملی ہے،،، اور اُن کے قائدتین دفعہ قاتلانہ حملے، 257 سے زیادہ کیسز،1100 دن جیل میں رہے،،، لیکن کہیں ڈیل نہ کی،،، اور نہ ہی وہ ”علاج“ کے لیے ملک سے باہر گئے،،، تبھی اُن کو علاج کی سہولتیں ملنا عوام کے دل کی آواز ہے،،، عوام چاہتی ہے کہ وہ باہر آئیں، اُنہیں وہ سہولتیں ملیں جو ملنی چاہیئں،،، اور ویسے بھی اُن کی صحت اس قدرCriticalہو چکی ہے کہ آخر کار عدالتوں کو میدان میں آنا پڑ گیا ہے۔ لیکن سرکار نے ڈر کر الشفاءہسپتال کے گردو نواح کو بند کر نا شروع کر دیا ہے،،،ابھی سے بھاری نفری تعینات کرنا شروع کردی ہے،،، لیکن اس کے برعکس لوگ اپنی ڈیوٹیاں لگوا رہے ہیں،، کہ یہاں بانی تحریک انصاف نے آنا ہے، ،، لیکن میں پھر کہوں گا کہ دیر آئید درست آئید کے مصداق اگر اُنہیں سپریم کورٹ نے یہ سہولت دی ہے تو اُنہیں اور اُن کی پارٹی کو لے لینی چاہیے ،،، بلکہ میرے خیال میں اُن تمام اسیرانِ سیاست کو یہ سہولت ملنی چاہیے،،، عدالتوں کو ایمان مزاری اور اُن کے شوہر پر بھی رحم کھانا چاہیے،،، جوآزادی اظہار رائے کا خمیازہ بھگت رہے ہیں،،، عدالتوں کو یاسمین راشد، اعجاز چوہدری، میاں محمود الرشید، اسلم اقبال وغیرہ کو رہا کیا جانا چاہیے،،، اور اُنہیںبھی علاج معالجے کی سہولتیں فراہم کرنی چاہییں،،، کیوں کہ اُنہیں بھی پابند سلاسل ہوئے کم وبیش تین سال سے زائد کا عرصہ گزر چکاہے، اس دوران اُن کے خاندان تباہ ہوگئے ہیں،،، اُن کے کاروبار ختم ہو چکے ہیں،،، بلکہ اُن میں سے بہت سوں کے عزیز بھی دنیا سے چلے گئے ہیں،،،، مگر مجال ہے کہ سرکار ٹس سے مس ہوئی ہو۔ لہٰذامیرے خیال میں ریاست ماں کا کردار ادا کرے،،، اُنہیں بہت سزا مل گئی ہے،،، اس لیے اب بس کرنا چاہیے،،، سیاستدانوں کو بھی ایک دوسرے کا بازو بننے کی ضرورت ہے،،، ورنہ ایسا نہ ہو کہ غلط روایت ڈال دی جائے،،، جو آنے والے دنوں میں سب کے لیے نقصان دہ ہوگی۔۔۔ حالانکہ اس کے برعکس آپ کو یاد ہو گا کہ جب تحریک انصاف کے دور میں میاں نواز شریف بیمار تھے تو خان صاحب کو پتا چلا کہ میاں صاحب کی میڈیکل رپورٹس ٹھیک نہیں آئیں۔ نواز شریف کی بیماری کے حوالے سے عمران خان حکومت کے لیت و لعل پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے ایک جج نے خبردار کیا تھا کہ اگر کل کلاں میاں نواز شریف کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ دار حکومت ہو گی۔ پی ٹی آئی حکومت نواز شریف سے بیرونِ ملک علاج کیلئے جانے کی اجازت دینے پر پانچ ارب روپے کی بینک گارنٹی مانگ رہی تھی لیکن عدالت نے پچاس روپے کے سٹامپ پیپر پر شہباز شریف کی ذاتی ضمانت پر نواز شریف کو چار ہفتوں کے لیے علاج کے لیے لندن جانے کی اجازت دے دی۔ عمران خان کو ا±س وقت جھٹکا لگا جب میاں نواز شریف خود جہاز کی سیڑھیاں چڑھ کر اس میں سوار ہوئے۔ شاید وہ سمجھ رہے تھے کہ نواز شریف کی حالت اتنی خراب ہے کہ انہیں ہسپتال سے سٹریچر پر ڈال کر جہاز میں سوار کیا جائے گا لیکن نواز شریف بھی چار دہائیوں سے سیاست میں ہیں‘ انہیں علم تھا کہ اگر سٹریچر پر سے ان کی تصویریں یا وڈیوز بن گئیں تو مخالفین ساری عمر یہ تصویریں دکھا کر طنز کے تیر چلاتے رہیں گے۔ اگرچہ اس وقت سب ڈر گئے تھے کہ اگر نواز شریف کو جیل میں کچھ ہو گیا تو سب کا وہی حشر ہو گا جو بھٹو صاحب کا ہوا تھا۔ یوں عمران خان کے علاوہ جنرل باجوہ‘ جنرل فیض اور دیگر اہم لوگ وہ بھاری پتھر اٹھانے کو تیار نہ تھے کہ اگر کچھ ہو گیا تو ساری عمر اُن پر یہ کیس چلتا رہے گا۔ ان کی سمجھداری کہیں یا خوف یا پھر شریف فیملی اور جنرل باجوہ کی تین سالہ مدتِ ملازمت میں توسیع کے بدلے ڈیل کہیں‘ بہرحال نواز شریف لندن پہنچ گئے اور پھر اس وقت تک پاکستان واپس نہ آئے جب تک ان کی مرضی کے مطابق سب معاملات طے نہ ہو گئے۔ بہرحال سیاسی گرفتاریوں کو اتنا طول نہیں دینا چاہیے،،، اور اس نہج پر نہیں پہنچنا چاہیے،،، جس نہج پر ہماری سرکار پہنچ چکی ہے،، گرفتاریاں انگریز دور میں بھی ہوتی تھیں۔ اپنی کتاب انڈیا وِنز فریڈم میں مولانا ابوالکلام آزاد لکھتے ہیں کہ پولیس کا دستہ گھر پر آیا گرفتاری کی غرض سے، پیغام بھیجا کہ ہم تیار ہو جائیں۔ چائے پی‘ سامان سمیٹا اور پھر عزت اور آبرو سے پولیس کے ساتھ چل پڑے۔ جس بدذوقی اور بدتمیزی کے مظاہرے ایسے موقعوں پر یہاں ہوئے ہیں ایسی کوئی چیز مولانا کے ساتھ نہ ہوئی۔ زیر حراست بھی رہے تو دوسرے چوٹی کے کانگریسی لیڈر بھی ساتھ تھے۔ اُن سے گپ شپ رہتی‘ مناسب کھانے کا انتظام ہوتا، چہل قدمی ہوتی۔ ہمارے ہاں تو یوں ہے کہ اخلاقی مجرم ہو اور وسائل ہوں تو جیل میں وقت اچھا گزر جاتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو ہوں تو نفسیاتی اذیتیں پہنچانے کی سوچ پیدا ہوتی ہے۔ چھوٹی سی کوٹھڑی میں ڈال دیا جاتا ہے اور ارادہ یہی ہوتا ہے کہ قیدی اندر سے ٹوٹ جائے اور نرمی کا طلبگار بنے۔ بھٹو سے ملاقاتوں پر البتہ قانون سے ہٹ کر کوئی پابندی نہ تھی۔ اہلیہ اور دختر ملتی تھیں اور وکلا جب چاہتے سابق وزیراعظم سے مل لیتے۔ کتب اور اخبارات پر کوئی پابندی نہ تھی۔ معاشرہ اپنے آپ کو مہذب کہے تو حالات کو بہتری کی طرف جانا چاہیے۔ یہ کہنا پڑتا ہے کہ جیلوں میں عام قیدیوں کیلئے حالات بہتر ہوئے ہیں۔ ٹی وی کی سہولت قیدیوں کو مہیا کی گئی ہے۔ عثمان بزدار کی وجہ سے قیدیوں کو اندر سے فون کرنے کی سہولت بھی میسر ہے جو کہ بہت بڑی تبدیلی ہے۔ لیکن حکومت کی آنکھ میں کوئی کھٹکے تو پھر سب کچھ تبدیل ہو جاتا ہے۔ پھر وکلا کو انصاف کے دروازوں پر دستک دینی پڑتی ہے، تاریخیں لگتی ہیں اور کہیں کوئی رعایت آ بھی جائے جیسا کہ ہسپتال منتقلی کی صورت میں آئی ہے تو چہ مگوئیاں شروع ہو جاتی ہیں کہ رعایت کی اصل وجہ کیا ہے۔ پیچھے یا اندر خانہ کیا ہو رہا ہے؟ اندھیروں میں کوئی بات چیت تو نہیں ہو رہی جس کی وجہ سے یہ رعایت سامنے آئی ہے؟ لہٰذااب بھی اگر عمران خان کوسپریم کورٹ کے احکامات کے باوجود صحت کی سہولیات نہ دی گئیںتو میرے خیال میں معذرت کے ساتھ جیل کے اندر سیاسی قیدیوں کے خاتمے کی ایسی روایت قائم ہوگی جو سب کو ایک ساتھ لے ڈوبے گی۔ لہٰذادو غلط مل کر کبھی ایک صحیح نہیں بنتے ۔اس لیے اگر ایک غلط کر رہا ہے تو دوسرے کو ایڈوائس کرنا چاہیے کہ ٹھیک کیا ہے؟ لیکن اگر دونوں ہی ایک نہج پر پہنچ جائیں گے تو میرے خیال میں کچھ نہیں بچے گا،،، اس لیے حکمران ہوش کے ناخن لیں،،، اورپاکستان کے لیے مزید جگ ہنسائی کا سامان پیدا نہ کریں،،،کیوں کہ اب تو اقوام متحدہ تک نے کہہ دیا ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی اور سابق وزیر اعظم عمران خان کو جیل میں ایسے حالات میں رکھا جا رہا ہے جو غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کے زمرے میں آتے ہیں،اور پھر اقوام متحدہ کی عہدیدار ایلس جِل ایڈورڈز نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ 73 سالہ عمران خان حراست کے حالات سے متعلق ملنے والی رپورٹس پر فوری اور موثر کارروائی کرے۔یعنی اقوام متحدہ بار بار کہہ رہا ہے کہ اڈیالہ جیل میں منتقلی کے بعد سے عمران خان کو مبینہ طور پر حد سے زیادہ قید تنہائی میں رکھا گیا، انہیں جیل سیل میں دن میں 23 گھنٹے تک قید رکھا جاتا ہے اور بیرونی دنیا تک انتہائی محدود رسائی کے ساتھ ان کے سیل کی مبینہ طور پر کیمرے سے مسلسل نگرانی کی جاتی ہے۔ ویسے یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ ایک شخص کو آپ پابند سلاسل کر دیا،اُس سے اقتدار چھین لیا، اُس سے اُس کی پارٹی چھین لی، اور اُس سے اُس کی فیملی چھین لی،،،آپ نے اُس سے ملاقاتوں پر بھی پابندی لگا دی ہے، تو اب کیا کرنا ہے؟ اُس کے ساتھ؟ کیا اب بادی النظر میں آپ اُسے خاکم بدہن دنیا سے رخصت کرنا چاہ رہے ہیں؟ تو کیا آپ نے اس حوالے سے سوچا ہے کہ اس کے آفٹر ایفیکٹس کیا ہوں گے؟ کیا اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ فیصلہ کرنے والوں کے خراب ذہن کی عکاسی ہے کہ وہ اب بھی تحریک انصاف سے ڈرے ہوئے ہیں،،، کیا انہیں یہ علم نہیں جس چیز کو جتنا دبایا جائے وہ اُتنی ہی اپنے آپ سے باہر آتی ہے۔ بہرحال بانی کی صحت کا معاملہ محض ایک فرد کی بیماری یا جسمانی کمزوری کا سوال نہیں رہا، بلکہ یہ پاکستان کی سیاست، حکمرانی اور ریاستی ذمہ داریوں کا امتحان بن چکا ہے۔ پاکستان کے قوانین اور جیل مینوئل واضح طور پر کہتے ہیں کہ زیرِ حراست فرد کی جان و صحت کی ذمہ داری ریاست پر ہوتی ہے۔ اس میں کوئی ابہام نہیں۔ اگر کسی سابق وزیرِاعظم کی صحت کے حوالے سے بار بار تشویش سامنے آ رہی ہے تو اسے محض سیاسی بیان بازی کہہ کر رد کرنا مسئلے کو چھپانا تو ہو سکتا ہے، حل کرنا نہیں۔ مسئلہ یہ نہیں کہ عمران خان کون ہیں؛ مسئلہ یہ ہے کہ ریاست اپنے مخالفین کے ساتھ کس معیار کا سلوک کرتی ہے۔اس لیے میں پھر یہی کہوں گا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کو احترام کیا جائے،،، تاکہ ملکی حالات نارمل ہوں،،، اور ملک میں سیاسی سرگرمیاں ایک بار پھر بحال ہوں،،، اگر ایسا ہوگیا تو آپ مجھ سے لکھوا لیں کہ کے پی کے، بلوچستان ، گلگت اور کشمیر وغیرہ جیسے علاقوں میں بھی امن آجائے گا!