مان لیں کہ حالات ٹھیک نہیں ہیں!

جب آپ اپنی کسی غلطی کی وجہ سے کسی مسئلے میں پھنس جاتے ہیں تو گبھرائیے نہیں! بلکہ سب سے پہلے اپنی غلطی کو تسلیم کریں اور پھر اُسے سدھانے کی کوشش کریں،،، ایسا کرنے سے یقینا آدھا مسئلہ تو آپ کا اُسی وقت حل ہو جاتا ہے جب آپ غلطی مان لیتے ہیں،،، اور بقیہ کا آدھا مسئلہ آپ نئی حکمت عملی بنا کر حل کرتے ہیں،،، لیکن اگر اس کے برعکس آپ ہٹ دھرمی پر قائم رہیں، اور غلطی مانے بغیر مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں گے تو وہ کبھی حل نہیں ہوگا،،، بلکہ مزید بگڑ جائے گا،،، یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے موجودہ حکومتی سیٹ اپ اس وقت سیاسی، معاشی اور اخلاقی بحرانوں میں بری طرح پھنس چکا ہے،،، لیکن صاحب اقتدار لوگ اسے بغیر غلطی تسلیم کیے سلجھانے کی کوشش کرر ہے ہیں،،، کبھی یہ پورے ملک سے فورسز بلا کر کشمیر میں ”پرامن“ الیکشن کروانے کی کوشش کرتے ہیں،،، تو کبھی یہ گلگت بلتستان پر اپنا رعب جمانے کی کوشش میں منہ کی کھاتے ہیں،،، کبھی یہ بلوچستان میں ڈنڈے کے زور پر امن قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو کبھی کے پی کے والوں کو ڈرا دھمکا کراپنے مطابق چلانے کی کوشش کرتے ہیں،،، تو کبھی پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے قائدین پر ظلم کے پہاڑ توڑ کر اُن کے قبلے درست کروانے کی کوشش کرتے ہیں،،، تو کبھی راولپنڈی میں فوج طلب کرکے ڈرانے کی کوشش کرتے ہیں،،، اور کبھی احتجاج کو زور زبردستی کے طریقوں سے روک کر عوام کو پیغام دیتے ہیں کہ یہاں پر نہ تو کاکروج پارٹی چلے گی اور نہ ہی ”جین زی“۔ حتیٰ کہ یہ لوگ معاشی ظلم و بربریت کی وہ داستانیں رقم کر رہے ہیں کہ تاریخ میں آج تک ایسی زیادتیاں کبھی نہیں کی گئیں،،، بلکہ یہ لوگ کرائے کے معیشت دانوں کے ذریعے عوام پر ظلم کر رہے ہیں،،، آپ دور نہ جائیں،،، صرف پٹرولیم لیوی کو دیکھ لیں،،، وزارت خزانہ کی مالی سال 2025-26کی ایک رپورٹ کے مطابق حکومت نے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی (PDL) کی مد میں عوام سے 1567ارب روپے کی ریکارڈ وصولی کی ہے جو آئی ایم ایف ہدف سے 100ارب روپے زائد ہے۔ اسکے علاوہ کلائمنٹ سپورٹ لیوی کی مد میں حکومت نے عوام سے مزید 50 ارب روپے وصول کئے ہیں۔ موجودہ ٹیکس ڈھانچے میں پیٹرول پر 80روپے لیٹر اور ڈیزل پر 77روپے لیٹر کے حساب سے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی عائد ہے جبکہ کلائمنٹ سپورٹ لیوی کی مد میں پیٹرول اور ڈیزل پر 5,5روپے لیٹر وصول کیا جارہا ہے۔ اسکے علاوہ کسٹم ڈیوٹی کی مد میں 29 روپے ملاکر فی لیٹر پیٹرول پر مجموعی حکومتی ٹیکسز 114 روپے بنتے ہیں۔ اگر پیٹرول کی قیمت 326روپے فی لیٹر ہے تو اس پر حکومتی ٹیکسز 35فیصد بنتے ہیں جو عوام پر ایک ناقابل برداشت بوجھ ہے۔سیاسی جماعتوں کے احتجاج کے بعد حال ہی میں حکومت نے ڈیزل پر 32.63 روپے پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں کمی کی ہے ، لیکن ساتھ ہی اسے بڑھانا بھی شروع کر دیا ہے،،، الغرض ملک غیر یقینی صورتحال سے گزر رہا ہے،،، دن بدن اسی وجہ سے ملک بدامنی کا شکار ہو رہا ہے، ہر روز کچھ نہ کچھ سننے کو مل رہا ہوتا ہے، کہیں کوئی حملہ کر دیتا ہے تو کہیں کوئی،،، ایسے لگتا ہے جیسے ہم نے اور ہماری آنے والی نسلوں نے انہی واقعات کے ساتھ جینا مرنا ہے،،، سیاسی پارٹیوں کی آپسی گولہ باری ہی ختم نہیں ہورہی،،، کبھی کوئی آکر کہہ دیتا ہے کہ موجودہ سسٹم کولیپس کر گیا ہے تو کوئی کہہ دیتا ہے کہ نئے صوبے بنیں گے اور یہی سیٹ اپ اس کی منظوری بھی دے گا،،، کبھی کوئی کہہ دیتا ہے کہ عمران خان کو نئے صوبوں کے لیے باہر لایا جارہا ہے،،، یعنی جو نمائندے عوام کے لیے منتخب ہو کر ایوانوں تک پہنچے ہیں،،، اُنہیں عوام کی کوئی پرواہ ہی نہیں ہے،، اسٹیبلشمنٹ بھی ذاتی پسند اور ناپسند کو ایک طرف رکھ کر فیصلے کرے،،، اگر فیلڈ مارشل یہ مناسب سمجھتے ہیں تو یقینا وہ خود ان چیزوں کو ہینڈل کریں تاکہ ملک میں ایک پرامن فضاءقائم ہو۔ نفرتیں و قدورتیں ختم ہوں۔ اپوزیشن جماعتوں کی کمزوریوں اور بے چارگی کا مطلب یہ نہیں کہ حکومتی بندوبست بالکل محفوظ ہے۔ اس بندوبست کیلئے سب سے بڑا خطرہ اسکے اپنے اکنامک مینیجرز ہیں جو نہ پارلیمنٹ کو جوابدہ ہیں اور نہ ہی وزیرِ اعظم کو جوابدہ ہیں۔ وہ دراصل عالمی معاشی اداروں کی ڈکٹیشن پر پالیسیاں بناتے ہیں۔ عوام پر مسلسل مہنگائی کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں، لیکن عوام کب تک صبر کریں گے؟ نہلے پر دہلا یہ ہے کہ ”قابل حکمران “شاید یہ بھی جانتے ہیں کہ غیر ملکی سرمایہ کار پیچھے ہٹ رہے ہیں اور یہاں تک کہ مستحکم غیر ملکی کاروبار بھی بتدریج مارکیٹ چھوڑ رہے ہیں۔ نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ سرمایہ کاری کے تناسب میں ممکنہ طور پر مزید گراوٹ آرہی ہے، جس کے سنگین اثرات ترقی، روزگار اور طویل مدتی اقتصادی استحکام پر مرتب ہورہے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجوہات میں سیاسی عدم استحکام، اداروں کی بربادی اور رُول آف لاءکا نہ ہونا ہے۔۔۔اور پھر حکومت کے تمام دعووں کے برعکس حقائق یہ ہیں کہ حال ہی میں آئی ایم ایف نے پاکستان پر 11 نئی سخت شرائط عائد کی ہیں، جس کے بعد ان کی مجموعی تعداد 64 ہوچکی ہے۔ ایف بی آر کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے سخت اصلاحاتی روڈ میپ لازمی قرار دیا گیا ہے۔ صوبائی افسران کے اثاثوں تک بینکوں کو مکمل رسائی دینے، مقامی کرنسی بانڈ مارکیٹ کی رکاوٹوں پر جامع مطالعہ کرنے اور کرپشن کے زیادہ خطرے والے 10 محکموں کے لیے ایکشن پلان شائع کرنے کی شرائط بھی شامل ہیں، جن میں ترسیلاتِ زر کے اخراجات اور رکاوٹوں کا تفصیلی جائزہ لینا بھی شامل ہے۔ حکومت کے پاس کوئی واضح گروتھ پلان موجود نہیں، اور جو منصوبے ہیں وہ 25 کروڑ آبادی والے ملک کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ حال ہی میں جاری کردہ ایک ایپسوس (Ipsos) پول کے مطابق تقریباً 70 فیصد لوگوں نے محسوس کیا کہ ملک غلط سمت میں جارہا ہے۔ اس پول سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ قلیل مدتی معاشی استحکام کے حوالے سے حکومتی دعوﺅں کے باوجود 82 فیصد جواب دہندگان کو معیشت پر اعتماد نہیں۔ اور پھر اس وقت ہمارے دو صوبوں میں غیر یقینی صورتحال ہے،،، حکومت اسے کنٹرول نہیں کر پا رہی۔ جب بھی کوئی واقعہ ہوتا ہے کہتے ہیں کہ ملزم کٹہرے میں لائیں گے۔ ہم کنٹرول کریں گے اور بدامنی کی اجازت نہیں دیں گے۔ یہ باتیں اب پرانی ہو گئی ہیں۔ بدامنی کے واقعات کے بعد حکومت کہتی ہے کہ سکیورٹی سخت کر دی گئی۔ واقعات روکنے کیلئے سکیورٹی سخت کریں۔ اور اسی سکیورٹی سخت کرنے کے عمل کے بعد انڈسٹری کا ڈاﺅن فال، صنعتوں کی مسلسل بندش اور معاشی عدم استحکام کا عمل شروع ہو جاتا ہے،،، اور پھر 26ویں اور 27ویں ترمیم کے ذریعے مکمل کنٹرول ہونے کے باوجود سنسر شپ، دباﺅ! سوال یہ ہے کہ ٹھیک کیا ہوا ہے؟ کیا ہم میں سے کوئی کوئٹہ کی حنّا جھیل‘ زیارت کے چلغوزہ پہاڑ یا قائداعظم کی ریزیڈنسی جیسے ملکی مقامات میں سیاح کی حیثیت سے جا سکتا ہے؟ اگر نہیں تو پھر کیا یہ کہنا واقعاتی بددیانتی نہیں کہ ملک کے حالات سازگار ہیں۔ درحقیقت اس وقت سارا نظام رولر کوسٹر پر سوار ہے۔ مسافروں کی چیخوں والی آڈیو بند کرنے سے رولر کوسٹر کی رفتار کم نہیں کی جا سکتی۔ قصہ مختصر کہ حالیہ مہینوں میں نہ صرف ملٹی نیشنل کمپنیاں ملک سے نکل گئیں بلکہ پاکستان کی بڑی ٹیکسٹائل کمپنیوں نے بھی سرمایہ کاری بیرون ملک منتقل کردیں، یہ ادارے توانائی کی کمر توڑ قیمتوں جو شعبہ بجلی میں حکومت کی دائمی بدانتظامی کا نتیجہ ہیں اور مسلسل بلند شرحِ سود کے دباو¿ کا شکار ہیں۔اس لیے میرے خیال میں بقول حکومت سب اچھا ہے،،، یہ تاثر سرے سے ہی غلط ہے،،، حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ کاری میں رکاو¿ٹ دراصل گہری ساختی مسائل کی عکاسی کرتی ہے، ایک ایسی معیشت جو طاقتور طبقات کے قبضے کے تحت ہے، ٹیکس نظام میں بگاڑ اور بے شمار نظامی کمزوریاں۔ ان سب کو درست کرنے کے لیے وسیع اصلاحات درکار ہیں جن میں ٹیکس بیس کو وسیع کرنا اور ٹیکس نظام کو زیادہ منصفانہ بنانا، توانائی کے مہنگے اخراجات کم کرنے کے لیے پاور سیکٹر کی مکمل اصلاح، اور حکمرانی اور سیاسی استحکام کے وسیع چیلنجز کو حل کرنا شامل ہیں، یہ اقدامات کسی ایک سرمایہ کاری سہولت کار کے دائرہ اختیار سے کہیں بڑھ کر ہیں۔ جب تک حکمران سیاسی ارادہ اور صلاحیت پیدا نہیں کرتے کہ یہ وسیع اصلاحات نافذ کریں، سرمایہ کاری کو دوبارہ متحرک کرنے کی کوئی امید محض ایک خواب ہی رہے گی۔ حکومت کا خیال ہے کہ پاکستان معاشی طور پر بحران سے نکل چکا ہے۔ خوش گمانی کے لیے حکومت کا یہ دعویٰ تسلیم کرلینے میں کوئی حرج نہیں، لیکن یہ خیال گہرے تجزیے کا متقاضی ہے۔ اگر واقعی حقائق یہی ہیں تو پھر ملک میں بے روزگاری کیوں بڑھ رہی ہے؟ مہنگائی اور ملکی و غیر ملکی قرضوں کا بوجھ کم کیوں نہیں ہورہا؟ ہر حکومت معاشی اصلاحات کا دعویٰ تو کرتی ہے، مگر عوام کے لیے ریلیف کی بات نہیں کی جاتی۔ اب بھی آئی ایم ایف کی ہدایات پر عام آدمی کے لیے دی جانے والی سبسڈیز بند کردی گئی ہیں اور خوشحالی صرف اشرافیہ تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ بہرحال اس وقت اصل ضرورت طویل المدتی منصوبوں اور سیاسی استحکام کی ہے،،، اس حوالے سے فیلڈ مارشل کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں،،، وہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر بٹھا سکتے ہیں،،، وہ تحریک انصاف کی قیادت کے لیے عام معافی کا اعلان کر وا سکتے ہیں،،، وہ سیاسی جماعتوں کو پابند کر سکتے ہیں کہ عمران خان کے ساتھ مل بیٹھ کر نئی حکمت عملی بنائیں تاکہ ملک میں سیاسی استحکام آئے،،، کیوں کہ اس وقت ہر شخص اپنی سیٹ کے بارے میں سوچ رہا ہے،،، ایسا نہیں ہونا چاہیے،،، اس کے علاوہ ایسا سیٹ اپ ترتیب دیں کہ جس میں کفایت شعاری اولین ترجیح ہو،،، اس کے علاوہ اداروں میں شفافیت اور احتساب کو یقینی بنانا ہوگا۔ جب تک قانون سب کے لیے برابر نہیں ہوگا، معاشی اصلاحات محض کاغذی کارروائی رہیں گی۔لیکن یہ اُس وقت ہوگا جب ملک بھر میں میرٹ کا نظام قائم ہوگا،،، جب عوام کی منتخب حکومتیں اقتدار میں آکر عوام کو جواب دہ ہوں گی،،،