نئے صوبوں کے قیام کے اصل محرکات!

ویسے تو وطن عزیز میں ایسے ایسے مسائل ہیں کہ سر چکرا جاتا ہے،،، لیکن ان مسئلوں سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آج تک ان مسائل کو ہم نے ٹھیک کرنے کی بھی کوشش نہیں کی،،، یہ مسئلے معاشی بھی ہوسکتے ہیں، لسانی بھی، مذہبی بھی اور امن و امان کے بھی ۔ لیکن ہم جس مسئلے کو حل کرنے کے لیے پکڑتے ہیں وہ اللہ کے حکم سے مزید بگڑ جاتا ہے،،، یہ اس لیے بھی ہے کہ جب پورا درخت ہی سوکھا پڑا ہو تو کیسے ہم کسی ایک ادارے سے یا ایک شاخ سے سرسبز ہونے کی توقع کر سکتے ہیں،،،یا تو اس کا حل یہ نکالا جائے کہ سب سے پہلے اس کی جڑوں کو مضبوط کیا جائے،،، لیکن بقول نوابزادہ نصراللہ کے،، ، کہ جب اُن سے کسی نے پوچھا کہ اس ملک کی جڑیں مضبوط کیوں نہیں ہیں تو انہوں نے کہا کہ جب آپ تھوڑا سا پانی دے کر بار بار جڑوں کو نکال کر دیکھیں گے کہ یہ مضبوط ہوئی یا نہیں تو کیسے وہ مضبوط ہو سکتی ہے؟ لہٰذااب بھی جب فیصلہ کرنے والے حل نکالنے کا سوچتے ہیں تو وہ اکثر حیران کردینے والی باتیں کرتے ہیں،،،جیسے نئے صوبے بنا لو،،، صدارتی نظام متعارف کروا لو،، ، یا پورے کے پورے نظام کو ہی کرپٹ اور پٹا ہوا نظام کہہ کر جان چھڑوا لو۔ لیکن یہ لوگ اصل مسئلے کی طرف نہیں آتے،،، جیسے وفاق کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ ٹیکس کولیکشن کا ہے،،، یا مزید مسائل میں ”این ایف سی ایوارڈ“ اور صوبوں کو دیے گئے بے شمار اختیارات شامل ہیں۔ اور ان مسائل کے حل کے لیے یہ لوگ اُنہی سرمایہ داروں کو اکٹھا کر لیتے ہیں،،، جنہیں مشرف، جنرل ضیاءوغیرہ اکٹھا کرتے رہے تھے،،، اور پھر ان سے حل پوچھتے ہیں،،،، لیکن اُس وقت یہ بحث ہوتی تھی کہ پورے سسٹم کو سینٹرلائزڈ کر دیا جائے،،، یعنی صدارتی نظام لایا جائے ،،، لیکن اب یہ بحث ہو رہی ہے کہ نئے صوبے بنا کر بڑے صوبوں کی اُجارہ داری ختم کی جائے،،، اگر کوئی صوبہ ہزاروں ارب لے رہا ہے تو اُسے کم کر دیا جائے،،، خیر آگے چلنے سے پہلے بتاتا چلوں کہ اس وقت صوبوں میں رقوم تقسیم کرنے کے حوالے سے کونسا سسٹم رائج ہے؟ اور اس میں کیا مسائل آرہے ہیں؟ جس کی وجہ سے فیصلہ کرنے والے پریشان ہیں کہ اس سسٹم کو آگے کیسے چلایا جائے،،، یعنی جب وفاقی حکومت مختلف ٹیکسز (جیسے انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹی) جمع کرتی ہے، تو ان کا ایک بڑا حصہ صوبوں میں بانٹا جاتا ہے۔ اس تقسیم کو این ایف سی ایوارڈ کہا جاتا ہے۔یہ ایوارڈ ایک فارمولا کے تحت ہوتا ہے، جو ہر چند سال بعد وفاق اور صوبوں کے اتفاق سے طے کیا جاتا ہے۔2010 میں جو ساتواں این ایف سی ایوارڈ آیا، اس میں طے ہوا کہ وفاق اپنے کل ٹیکس ریونیو کا 57.5 فیصد صوبوں کو دے گا،اور باقی 42.5 فیصد وفاق خود رکھے گا۔اب یہ 57.5 فیصد، چاروں صوبوں میں ایک طے شدہ فارمولے کے مطابق بانٹا جاتا ہے۔ اس فارمولے میں صرف آبادی نہیں بلکہ کچھ اور چیزیں بھی دیکھی جاتی ہیں، جیسے:غربت، پسماندگی، ٹیکس اکٹھا کرنے کی صلاحیت، اور علاقے کی وسعت، ہر صوبے کو کتنا ملتا ہے؟اور اسی وجہ سے مالی سال 2025-26کے بجٹ کے مطابق، چاروں صوبوں کو ان کے حصے یوں ملے:کہ پنجاب51.7فیصد، سندھ24.55فیصد، خیبر پختونخوا14.6فیصد اور بلوچستان 9.09فیصد ۔ یہ فیصد ہر سال بجٹ میں اعلان ہوتے ہیں اور اسی حساب سے رقم صوبوں کو دی جاتی ہے۔جبکہ ملکی معیشت میں یہ صوبے جس تناسب سے حصہ ڈالتے ہیں وہ بھی دیکھ لیں کہ پنجاب: تقریباً 60.5فیصد، سندھ23.7فیصد، خیبر پختونخوا10فیصد، اور بلوچستان 2.9فیصد ۔ بہرحال موجودہ صورتحال میں وفاق واقعی شدید دباو¿ میں ہے، جس کی وجہ سے وہ ادھر اُدھر ہاتھ پاﺅں ما رہا ہے،،،کیوں کہ وفاقی حکومت کے مطابق تقریباً 8.2 ٹریلین روپے صوبوں کو منتقل ہونے کے بعد وفاق کے پاس تقریباً 11.07 ٹریلین روپے کی مالی گنجائش رہتی ہے، جبکہ اخراجات تقریباً 17.5 ٹریلین روپے ہیں۔ وفاقی اخراجات کا تقریباً نصف قرضوں کی ادائیگی اور تقریباً ایک چوتھائی دفاع پر جاتا ہے۔لہٰذاوفاق کے پاس کچھ نہیں بچتا،،، اس لیے اب سوال یہ بنتا ہے کہ اگر وفاق کے پاس کچھ نہیں بچتا تو وفاق مزید نئے صوبے بنا کر مزید فنڈز کی تقسیم کیوں چاہتا ہے،، تو اس کا سب سے اہم جواب یہ ہے کہ اگر ایک بڑے صوبے کو دو یا تین صوبوں میں تقسیم کیا جائے تو اس کی سیاسی طاقت بھی تقسیم ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر پنجاب کا حجم بہت بڑا ہے۔ اگر اسے مزید صوبوں میں تقسیم کیا جائے تو وفاقی سیاست میں ایک صوبے کی غیر معمولی سیاسی برتری کم ہو سکتی ہے۔ ایسا کرنے سے وفاق جس کو مرضی کان سے پکڑ کر جہاں مرضی دستخط کروا لیا کرے گا اور مزاحمت بھی کوئی نہیں ہوگی۔۔۔ پھر دوسرا فائدہ وفاق کو یہ ہوگا کہNFC ایوارڈ میں میں صوبائی حصے کے اندر تقسیم بدل سکتی ہے،،، یعنی نیا صوبہ بننے کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ وفاق کا 42.5 فیصد حصہ بڑھ جائے گا۔ آئینی رکاوٹ کی وجہ سے محض صوبوں کی تعداد بڑھنے سے وفاق کا حصہ خود بخود نہیں بڑھتا۔ لیکن صوبوں کے 57.5 فیصد حصے کو نئے صوبوں کے درمیان تقسیم کرنے کا طریقہ تبدیل ہو سکتا ہے۔مثلاً موجودہ NFC میں صوبوں کے درمیان تقسیم میں آبادی کا وزن بہت زیادہ ہے؛ 7ویں NFC میں آبادی کو 82 فیصد وزن دیا گیا تھا۔ لہٰذا اگر ایک بڑے صوبے کو کئی صوبوں میں تقسیم کیا جائے تو مستقبل کے NFC مذاکرات میں نئی تقسیم ایک بڑا موضوع بن سکتی ہے۔پھر نئے صوبوں سے وفاق کے لیے انتظامی بوجھ کم کرنے کا ایک راستہ بن سکتا ہے،،، یہ تب ہی ہوگا جب نئے صوبوں کے ساتھ اختیارات واقعی مقامی حکومتوں تک منتقل ہوں۔کیوں کہ ورلڈ بینک کی 2026 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 2010 کے بعد صوبوں کے وسائل تو بڑھے، مگر وفاقی اخراجات اسی تناسب سے کم نہیں ہوئے؛ دوسری طرف صوبائی اخراجات کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ صحیح طور پر لگ ہی نہیں رہا۔ حالانکہ وفاق جانتا ہے کہ نئے صوبے بنانے سے کارکردگی بہتر ہو نا ہو،،، مگر نیا گورنر، نئی اسمبلی، نئی کابینہ، نیا سیکرٹریٹ، ، نئی پولیس کمانڈ، نئی بیوروکریسی، اور نئی سرکاری عمارتیںبنانی پڑیں، تو ابتدائی طور پر اخراجات بڑھیں گے، کم نہیں ہوں گے۔لیکن کیا کریں،،، بس دوڑ شروع ہو چکی ہے،،، کہ جس طرح پارلیمنٹ کو قابو میںکیا، جس طرح عدلیہ کو قابو میں کیا یا جس طرح سکیورٹی ادارے قابو میں کیے ہیں،،، بالکل اسی طرح چھوٹے چھوٹے صوبوں کو بھی قابو میں کیا جائے،،، تاکہ بڑے صوبوں کی اکڑ ختم ہوجائے،،، بہرکیف میری نظر میں ہونا اب یہ چاہیے کہ اصل مسئلے پر فوکس کریں،،، کہ ٹیکس کولیکشن نہیں رہی، یا صوبے صحیح طرح سے پیسہ خرچ نہیں کر رہے اور عوام تک کچھ نہیں پہنچ رہا،،، اور اس کے علاوہ کرپشن مزید بڑھ رہی ہے،، ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں اور انہیں سیاست زدہ نہ کریں تاکہ مسئلے کی جڑ تک پہنچا جائے،،، کیوں کہ اصل مسئلہ وسائل کی پیداوار اور وسائل کا منصفانہ تقسیم کا ہے، یہ لوگ سسٹم کو سینٹرلائزڈ کرنا چاہتے ہیں،،، ابھی بھی مرض وہی ہے، کہ سسٹم کو سینٹرلائزڈ کر دیا جائے،،، لیکن اس بار اس مرض کا علاج یہ ڈھونڈا جا رہا ہے، کہ نئے صوبے بنا لیں،، میں پھر یہی کہوں گا کہ اس وقت بنیادی طور پر دو مسائل ہیں،، ایک این ایف سی ایوارڈ جبکہ دوسرا اٹھارویں ترمیم کے چند نکات ۔۔۔ اب ہو گا یہ کہ صوبوں کا دیا جانے والا حصہ تقسیم ہوگا،،، بڑے صوبوں سے یہ کٹوتی کرکے نئے صوبوں کا دیں گے،،، اور وہاں ان کے اپنے بندے بیٹھے ہوں گے،،، جن کو یہ بلا کر کہیں گے کہ دستخط کرو۔ اور یہ کردیں گے،،، مطلب! اگر مرکز کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اُس سے ٹیکس اکٹھا نہیں ہو رہا تو اس پر بات کریں،،، ناکہ نئے صوبوں کا مسئلہ چھیڑ دیں،، کیا اس طرح چیزوں کو سیاست زدہ کرنے سے بھی کبھی مسئلے حل ہوتے ہیں؟ کیا اس طرح بھی کبھی مسئلے حل ہوئے ہیں کہ جن سرمایہ داروں کو جنرل ضیاءبلایا کرتا تھا، اُنہی کو صدر مشرف بلا لیتا تھا،،، اور اب اُنہی کو یہ بلا لیتے ہیں،،، کہ بتایا جائے کہ حل کیا ہے؟ یہ تو یونہی ہے کہ بقول میر تقی میر کے میر کیا سادے ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں اور پھر سادہ سی بات ہے کہ کیا صوبے بنانے سے الیکشن سسٹم ٹھیک ہو جائے گا؟ آج تک جتنے بھی الیکشن ہوئے ہیں، سسٹم بد سے بدترین ہوتا جا رہا ہے،، اور اگر نئے صوبے بن گئے تو کیا عام عوام کے مسائل حل ہو جائے گے؟ اس لیے میرے خیال میں سب سے پہلے ٹھوس منصوبہ بندی کی جائے،،، کیونکہ پاکستان صرف زمین کا ٹکڑا نہیں، بلکہ چاروں صوبوں کا ایک مشترکہ خواب ہے۔کوئی اگر زیادہ دے رہا ہے تو وہ قربانی دے رہا ہے۔اور کوئی اگر زیادہ لے رہا ہے تو اس سے توقع ہے کہ وہ ترقی کرے، محنت کرے، اور اپنی حالت بدلے۔ہمیں وسائل کی تقسیم کو ایک دوسرے پر الزام لگانے کا ذریعہ نہیں بلکہ ترقی کا موقع سمجھنا چاہیے۔سوال ”کون کس کو کھاتا ہے؟“ سے نکل کر ہمیں یہ سوچنا چاہیے:”ہم سب مل کر ملک کو کیسے بہتر بنا سکتے ہیں؟“ محض نئے صوبے بنانے سے اختیارات اور وسائل نئے صوبائی دارالحکومتوں تک محدود ہونے کا خدشہ ہے، اس لیے بلدیاتی اداروں کو مضبوط اور ان کے انتخابات باقاعدگی سے کرانا ضروری ہے۔تاکہ منصفانہ وسائل کی تقسیم ہو اور عام عوام تک اس کے ثمرات پہنچیں ورنہ نئے صوبوں کا خیال بے وقعت پریکٹس کے سوا کچھ نہیں ہے!