نیپال کے بعد پاکستان کی باری؟ کیا ہم تیار؟

نیپال میں 26 اگست کو آنے والے تباہ کن سیلاب نے پوری دنیا کو ایک بار پھر الرٹ کر دیا ہے،،، اور نت نئی ایسی ایسی ویڈیوز منظر عام پر آرہی ہیں کہ پانی کی طاقت کا اندازہ سبھی کو ہو رہاہے،،، اور دنیا کو ایک بار پھر سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ بدلتے ہوئے موسم، پگھلتے گلیشیئرز اور بلند پہاڑی علاقوں میں بننے والی گلیشیئر جھیلیں مستقبل میں کس قدر بڑا خطرہ بن سکتی ہیں۔ اس واقعے میں گلیشیئر کے انہدام سے برف، چٹان، مٹی اور پانی کا ایک انتہائی طاقتور ریلا پہاڑی وادیوں سے گزرا، جس نے دریائی نظام، آبادیوں، سڑکوں، پلوں اور بجلی کے منصوبوں کو شدید نقصان پہنچایا۔اور ہزاروں افراد ایک لمحے میں لقمہ اجل بن گئے،،، لہٰذایہ سوال اب پاکستان کے لیے بھی انتہائی اہم ہے کہ کیا نیپال جیسا سیلابی ریلہ پاکستان میں بھی آ سکتا ہے؟کیوں کہ پاکستان میں اکا دکا نہیں بلکہ سینکڑوں ایسے گلیشئر موجود ہیں جو پل بھر میں بم کی طرح ہمارے جھیلوں میں گر کر تباہی لا سکتے ہیں،،، ویسے اس مرتبہ تو اللہ کا شکر ہے کہ کوئی بڑا سیلابی ریلا یہاں سے نہیں گزرا ورنہ گزشتہ سال 2025ہی کو دیکھ لیں، ،، کتنے گاﺅں اور کتنے شہر گلیشئرز اور سیلاب کی نذر ہوگئے،،، اور ویسے بھی یہ بات حکام بالا کے علم میں بھی ہے کہ پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں ہمالیہ، قراقرم اور ہندوکش کے بڑے پہاڑی سلسلے موجود ہیں۔ ان علاقوں میں ہزاروں گلیشیئرز موجود ہیں اور ان سے بننے والی متعدد جھیلیں پہاڑوں کے درمیان قدرتی بندوں کے پیچھے واقع ہیں۔ اگر کسی جھیل میں پانی کی مقدار اچانک بڑھ جائے، قدرتی بند کمزور ہو جائے، برف یا چٹان جھیل میں گر جائے یا شدید بارش اور درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ ہو تو پانی انتہائی تیزی سے نیچے کی طرف بہہ سکتا ہے۔ابھی ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں 131جھیلیں ممکنہ طور پر خطرناک گلیشیئر جھیلیں ہیں،،، جون 2026 میں ان میں 40 جھیلیں غیر منجمد دیکھی گئی تھیں، جبکہ 5 اگست کی تازہ دستیاب مانیٹرنگ میں غیر منجمد جھیلوں کی تعداد 105 تک پہنچ گئی تھی۔ ماہرین کے مطابق غیر منجمد ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر جھیل فوری طور پر پھٹنے والی ہے۔ اصل خطرہ اس وقت زیادہ بڑھتا ہے جب جھیل کا پانی اپنے سابقہ زیادہ سے زیادہ پھیلاو¿ سے آگے بڑھنے لگے، کیونکہ یہ پانی کے ذخیرے میں اضافے اور قدرتی موریَن بند کے کمزور ہونے کی علامت ہو سکتی ہے۔حالانکہ ہمارے ادارے جن میں سپارکو سرفہرست ہے،،، ان کی سیٹلائیٹ یا مینﺅل طریقے سے نگرانی کر رہے ہیں،،، مگر میرے خیال میں ان دریاﺅں کی بھی نگرانی ہونی چاہیے جن کے اوپر ہوٹل بنے ہوئے ہیں،،، اور یہ ہوٹل ”دریا کنارے“ ہوٹل ہونے کے نظاروں کا الگ معاوضہ لے رہے ہیں،،، نہیں یقین تو آپ سکردو سے شروع ہو جائیں،،، گلگت ،یا گلگت سے شروع ہونے والا دریائے سندھ، وادی ناران، کاغان ، پھر دوسری طرف سوات میں دریائے سوات وغیرہ کو دیکھ لیں،،، اور اُن کے اطراف میں ہوٹلوں کو دیکھ لیں،،، کئی جگہوں پر تو قیام گاہوں کے پلرز بھی دریائی پانی کے ساتھ ٹکرا رہے ہوتے ہیں،،، اور یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ این ڈی ایم اے جیسا ادارہ جو پاکستان میں قدرتی آفات کے حوالے سے کام کرنے والا ادارہ ہے،،، کہتا ہے کہ ہنزہ، شگر، سکردو، اپر چترال وغیرہ ایسے اہم علاقے ہیں جہاں گلیشیئرز اور گلیشیئر جھیلوں کی زیادہ موجودگی کے باعث خطرہ نمایاں ہے۔ بلکہ خیبر پختونخوا بھی اس خطرے سے باہر نہیں۔ خاص طور پر دیر اپر، سوات، کوہستان اپر، چترال لوئیر وغیرہ میں گلیشیئر جھیلوں اور اچانک آنے والے سیلابی ریلوں کا خطرہ موجود ہے۔بلکہ 21 ممکنہ طور پر خطرناک جھیلوں کا تعلق اپر اورلوئیر چترال سے بتایا جا رہا ہے۔۔ اور پھر مسئلہ یہ ہے کہ یہ خطرہ صرف جھیل کے اردگرد آباد لوگوں تک محدود نہیں رہتا۔ پہاڑی وادیوں میں ایک چھوٹی سی جھیل کا بند ٹوٹنے سے پانی، مٹی، بڑے پتھر اور برف ایک طاقتور ریلے کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ یہی ریلا چند منٹوں یا گھنٹوں میں کئی کلومیٹر نیچے واقع آبادیوں تک پہنچ سکتا ہے۔ بہرحال اس وقت دریائے ہنزہ، دریائے گلگت، دریائے شگر، دریائے شایوک، دریائے سندھ ، دریائے چترال، دریائے سوات اور دریائے پنجکوڑہ کے پہاڑاور ان سے منسلک پہاڑی ندی نالے اور برفانی سیلاب کے حوالے سے اہم ہیں۔ اُن کے سروے کروائے جائیں کہ وہاں پر کن خطرات کا سامنا کر ناپڑ سکتا ہے،،، اب سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان نے پیشگی اقدامات کیے ہیں؟کیا سپارکو کا سیٹلائٹ کے ذریعے ممکنہ خطرناک گلیشیئر جھیلوں کی نگرانی کرنا کافی ہے؟اس کے لیے میرے خیال میں ایک مکمل فورس بنانے کی ضرورت ہے،،، حالانکہ فورس بنانے کے حوالے سے پنجاب اس وقت سب سے آگے نکل چکا ہے،،، کیوں کہ اُس نے پولیس اور ٹریفک فورس کے علاوہ پیرا فورس، جنگلی حیات فورس کے علاوہ آجکل کوڑا کرکٹ اُٹھانے والے محکمے کی فورس بھی قائم کردی ہے، جو موقع پر جرمانے کرے گی اور عوام پر عذاب بن کر ٹوٹ پڑے گی،،، میرے خیال میں گلگت بلتستان ، کے پی کے اور وفاق کو بھی ایک فورس بنانی چاہیے،،، جو عوام کو تنگ کرنے کے بجائے درست اقدامات اُٹھا کر عوام کی صحیح معنوں میں خدمت کرے،،، جس کے پاس بھاری مشینری ہو،،، جو پل بھر میں اقدامات اُٹھائے،، کیوں کہ خدانخواستہ جب کوئی بڑا سانحہ ہوگیا تو اُس کے بعد ہم تحقیقاتی ٹیم بنائیں گے،،، پھر کوئی کمیٹی بنائیں گے،،، لوگ جوڈیشل کمیشن کی انکوائری کا مطالبہ کریں گے،،،ا ور عوام ہزاروں کی تعداد میں ہونے والی ہلاکتوں کا حساب مانگتے مانگتے تھک جائیں گے،،، لیکن اگر این ڈی ایم اے جیسا ادارہ پہلے ہی شدید وارننگ جاری کر دے اور اقدامات اُٹھائے تو ہم ہزاروں لاشیں اُٹھانے سے بچ سکتے ہیں۔ قدرتی راستوں کوکلیئر کریں،،، چیک کریں کہ کونسا گلیشئر کتنا نقصان پہنچا سکتا ہے،،، لہٰذا اگر کسی خطرناک نالے یا دریا کے کنارے آبادی، سڑک، پل، ہوٹل، مارکیٹ یا بجلی کا منصوبہ تعمیر ہو چکا ہو تو چند منٹ کی وارننگ بھی ہمیشہ کافی نہیں ہوتی۔ بہرحال نیپال کا حالیہ سانحہ پاکستان کے لیے ایک قدرتی وارننگ ہے۔ اس واقعے نے ثابت کیا کہ جدید دور میں بھی پہاڑی علاقوں میں ایک اچانک آفت چند لمحوں میں بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر سکتا ہے۔ نیپال میں حالیہ تباہی نے ہزاروں لوگوں کو متاثر کیا، بڑے پیمانے پر گھروں اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا اور کئی ہائیڈرو پراجیکٹس کو اُڑا کر رکھ دیا ہے،،، پاکستان کو اس واقعے سے یہ سبق لینا چاہیے کہ صرف ڈیزاسٹرکے بعد امدادی کارروائی کافی نہیں۔ اصل حکمت عملی قدرتی آفت سے پہلے کے اقدامات کی ہونی چاہیے۔اس کے لیے ہر خطرناک جھیل کے لیے الگہائی رسک اقدامات ضروری ہیں،،،بلکہ پہاڑی علاقوں میں نئی تعمیرات کے لیے صرف زمین دستیاب ہونا کافی نہیں ہونا چاہیے؛ یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ وہ جگہ کسی قدرتی آبی راستوں پر تو قائم نہیں،، لہٰذاسب سے بڑا خطرہ صرف گلیشیئر نہیں، ہماری منصوبہ بندی بھی ہے،،، میرے خیال میں موسمیاتی تبدیلی نے خطرہ ضرور بڑھایا ہے، لیکن انسانی منصوبہ بندی بھی اس خطرے کو کئی گنا بڑھا سکتی ہے۔ اگر ہم دریا کے قدرتی راستے میں تعمیرات کریں، ندی نالوں کو بند کریں، آبی راستوں میں آبادی پھیلائیں اور پہاڑی علاقوں میں بغیرحفاظتی اقدامات کے انفراسٹرکچر تعمیر کریں تو قدرتی خطرہ انسانی تباہی میں تبدیل ہو جاتا ہے۔پاکستان کے لیے اب وقت ہے کہ 131 خطرناک جھیلوں کی فہرست کو محض ایک سرکاری عدد نہ سمجھا جائے۔ ہر جھیل کے لیے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اگر اس کا قدرتی بند ٹوٹتا ہے تو پانی کس راستے سے جائے گا، کتنی دیر میں نیچے پہنچے گا، کون سی آبادی متاثر ہوگی، کون سا پل یا سڑک پہلے زد میں آئے گی اور لوگوں کو کس راستے سے محفوظ مقام تک منتقل کیا جائے گا۔ لہٰذانیپال کا واقعہ پاکستان کے لیے پیش گوئی نہیں، لیکن ایک واضح انتباہ ضرور ہے۔اس لیے پاکستان کو نیپال کے سانحے کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ خطرے کی نشاندہی ہو چکی ہے؛ اب سوال صرف یہ ہے کہ ہم اس وارننگ کو کتنی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔اور لیتے بھی ہیں یا نہیں،،، کیونکہ ابھی تک تو ہم نے گلوبل وارمنگ کو سنجیدہ نہیں لیا ہوا،،، کیوں جسے سائنسی زبان میں ”ایل نینو“ بھی کہا جاتا ہے،،، اور اسے اس لیے سپر ایل نینو کہا جا رہا ہے کہ اس بار بحرالکاہل کے عمومی درجہ حرارت میں اب تک دو سنٹی گریڈ کا اضافہ ہو چکا ہے اور یہ تین سنٹی گریڈ تک بڑھ جائے تو گذشتہ پانچ سو برس کا ریکارڈ ٹوٹ سکتا ہے اور اگر چار سنٹی گریڈ کا اضافہ ہو جائے تو پھر ایک ہزار برس کا ریکارڈ ٹوٹنے کی نوبت آ سکتی ہے۔انسان کی ماحولیاتی لاپرواہیوں کے سبب رونما ہونے والی موسمیاتی تبدیلیوں کے نتیجے میں انیس سو پچاس کے بعد سے ایل نینو کے درمیانی وقفوں میں بھی کمی آ رہی ہے۔ایل نینو اپنے ساتھ خشک سالی لاتا ہے چنانچہ جنگلاتی آتشزدگی میں اضافہ ہوتا ہے ، مون سون کی بارشوں میں کمی سے زرعی پیداوار متاثر ہوتی ہے۔ کہیں کہیں ( بحر اوقیانوس و کیریبین وغیرہ ) بکثرت سمندری طوفانوں کی تعداد اور شدت بھی کم ہو سکتی ہے اور کہیں غیر معمولی سیلابی صورتِ حال پیدا ہو سکتی ہے (جیسے تبت میں گلیشیر ٹوٹنے سے نیپال میں غیر معمولی طوفانی سیلاب آیا ) ۔ بہرحال نیپال کا واقعہ محض سیلاب نہیں بلکہ ارضیاتی، برفانی، آبی، زمینی اور موسمی عوامل کے امتزاج کا نتیجہ دکھائی دیتا ہے۔ نیپال میں جو کچھ دیکھا گیا وہ ایک انتہائی شدید تباہی ہے، جس میں بڑی مقدار میں ملبہ، برف اور چٹانیں شامل تھیں اور یہ واقعہ ایسے علاقے میں ہوا جو پہلے ہی شدید ٹیکٹونک سرگرمی کا شکار ہے۔لہٰذااگر ہم نے بھی بروقت اقدامات نہ اُٹھائے تو مستقبل قریب میں ہم بھی خاکم بدہن اسی طرح سوگوار ہوں گے،،، جس طرح آج نیپال اور تبت ہیں،،، خیر وہ تو سنبھل جائیں گے،،، مگر پاکستان میں کیا اتنی سکت ہے کہ وہ ان جیسی قدرتی آفات کا بھار اُٹھا سکے؟