”سی سی ڈی“ کے بعد پنجاب حکومت کا ایک اور کارنامہ!

ویسے آج کل کوئی بھی ترمیمی بل اسمبلی میں پیش ہو جائے،منظور کر لیا جائے، دستخط ہو جائیں،،، کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی،،، کیوں کہ بظاہر یہی لگتا ہے کہ سب کچھ ملی بھگت سے ہو رہا ہے،،، میڈیا پر بھی صرف ”خبر“ دی جاتی ،،، وہ کوئی دیکھے نہ دیکھے ،،، اُس کی خیر ہے،،، لیکن جسے ”خبر“ بنانا مقصود ہو، اُس کے لیے پرائم ٹائم بھی مخصوص کر دیا جاتا ہے،،، اور احکامات آجاتے ہیں کہ اس خبر کو اُٹھاﺅ،،، اب اسٹاف بھی پابند ہو جاتا ،،، ورنہ اگر اشتہار بند ہو گئے تو پھر،،، مالکان کی ڈانٹ ڈپٹ کون بھگتے! خیر ایک بہت بڑی خبر کو گزشتہ ہفتے اسی طرح دبا لیا گیا ہے،،، یعنی پنجاب اسمبلی میں ”انسدادِ دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم“ کے حوالے سے ایک بل پیش کیا گیا جس میںمنصفانہ ٹرائل اور بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ترمیم کے تحت بعض مقدمات کو ”اسپیشل سیکیورٹی کیس“ قرار دے کر جج، وکلا، تفتیشی افسران، گواہوں، عدالت کے مقام اور کیس ریکارڈ تک کو خفیہ رکھا جا سکے گا۔سوال یہ ہے کہ اگر ملزم اور اس کا وکیل جج اور گواہوں کی شناخت سے ہی لاعلم ہوں تو شفاف اور منصفانہ ٹرائل کیسے ممکن ہوگا؟مزید تشویشناک امر یہ ہے کہ کسی مقدمے کو ”اسپیشل سیکیورٹی کیس“ قرار دینے کا اختیار گریڈ 20 کے ایک نامزد افسر کو دیا گیا ہے، مگر اس اختیار کے استعمال کے واضح اور شفاف معیار سامنے نہیں آتے۔انسدادِ دہشت گردی کے قانون کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ ہونا چاہیے، سیاسی مخالفین کو دبانا نہیں۔ ایسا قانون جو عدالتی شفافیت اور فیئر ٹرائل کو متاثر کرے، وہ دہشت گردی سے زیادہ ریاستی اختیار کے بے جا استعمال کا سوال بن جاتا ہے۔ لیکن یہ سب اعتراضات ایک طرف مگر سمجھ سے یہ بات باہر ہے کہ ہمارے سیاستدانوں سے جو ”لوگ“ کام لے رہے ہیں،،، میرے خیال میں وہی ان کے سب سے بڑے دشمن ہیں،،، کیوں کہ وہی ان کو ظلم وستم وجبر کی راہ دکھا رہے ہیں،،، تبھی عوام ان کے ظلم و ستم جبر سے تنگ آ چکے ہیں ،بدظن ہوچکے اور دن بدن نفرت بڑھ رہی ہے اور یہ سمجھ رہے ہیں کہ عوام ان سے ڈر گئی ہے۔اور یہی غلط فہمی ان کو لے ڈوبے گی۔ اور پھر سب سے تشویش ناک بات یہ ہے کہ ایسے اختیارات پہلے ہی موجود قوانین میں شامل ہیں۔ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 (دفعہ 21) ججز کو اپنی صوابدید پر بند کمرہ کارروائی کرنے کی اجازت دیتا ہے، اور 2018 کا گواہ تحفظ قانون جیل میں ٹرائل کی سہولت دیتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آزاد ججز سے یہ اختیار چھین کر ایک ایسے سرکاری افسر کو کیوں دیا جا رہا ہے جو خود ایگزیکٹو کا تابع ہے؟ وزیرِ اعلیٰ کا نامزد کردہ افسر کسی بھی حکم سے انکار کی پوزیشن میں نہیں ہو گا۔ نہ آزادانہ نگرانی، نہ عوامی ریکارڈ، نہ کوئی ضمانت کہ یہ ”دہشت گردی مخالف“ قانون سیاسی مخالفین، صحافیوں یا اختلافِ رائے رکھنے والوں کے خلاف استعمال نہیں ہو گا۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ قومی سلامتی کے نام پر بننے والے قوانین اکثر سیاسی انتقام کا ہتھیار بن جاتے ہیں۔نہیں یقین تو تاریخ کو پڑھ لیں،،، ہم نے منتخب ایوانوں کو انتظامیہ کے ہاتھ میں قلم دیتے اور پھر سیاہی پھیلنے پر حیران ہوتے دیکھا ہے۔ نواز شریف نے 1997 میں پارلیمنٹ کے ذریعے انسدادِ دہشت گردی ایکٹ منظور کروایا، انہیں خبردار کیا گیا کہ یہ قانون اپنے دائرے میں نہیں رہے گا، اور کچھ ہی عرصے بعد انہیں اسی قانون کے تحت انسدادِ دہشت گردی عدالت نے سزا دے دی۔ جب سیاست کا رخ بدلا تو یہی قانون پی ٹی آئی کے کارکنوں کے خلاف استعمال ہونے لگا۔ پیکا اس کا مختصر ورژن ہے۔ لہٰذاسوال یہ ہے کہ کیا واقعی سیاستدان اتنے بھولے اور معصوم ہیں کہ اپنے لیے پہلے سے جال بچھا لیتے ہیں ،،، ورنہ تو یہ بات کسی اندھے اور بہرے سیاستدان کو بھی معلوم ہوتی ہے کہ اُنہیں استعمال کیا جا رہا ہے،،، کیا کسی نے سوچا کہ ملزمان کے خلاف یہ کام بھی ماورائے عدالت ہی سمجھا جائے گا،،، دنیا ہم پر ہنسے گی،،، کیا پہلے سی سی ڈی کے اندھے اقدامات کافی نہیں تھے، جو اب مذکورہ ترمیمی ایکٹ بھی منظور کروا لیا گیا ہے،،، اور پھر قصور ہماری عوام کا بھی ہے کہ وہ ہر اُس ماورائے عدالت قتل پر واہ واہ کرتے اور تالیاں بجاتے ہیں جو اداروں کے ہاتھوں ہوتا ہے،،، لیکن ہمیں یہ سوچنا اور سمجھنا ہوگا کہ موجودہ ترمیمی بل ہو یا سی سی ڈی کی کارروائیاں دنیا بھر میں اسے بڑا معیوب سمجھا جاتا ہے،،، بلکہ قائداعظم نے بھی اس قسم کے قانون کی مخالفت کی تھی،،، یعنی اُن کے ہوتے ہوئے انگریز حکومت نے ”انارکی قانون“ (جسے عام طور پر رولیٹ ایکٹ یا 1919 کہا جاتا ہے) برطانوی حکومت کی طرف سے مارچ 1919ءمیں منظور کیا گیا ،،، جو ایک انتہائی جابرانہ قانون تھا، جس کا مقصد ہندوستان میں اٹھنے والی آزادی کی تحریکوں اور برطانوی حکومت کے خلاف انقلابی سرگرمیوں کو کچلنا تھا۔اس قانون کو برطانوی جج سر سڈنی رولیٹ کی سربراہی میں قائم ایک کمیٹی کی سفارشات پر تیار کیا گیا تھا، اسی لیے اسے رولیٹ ایکٹ کہا جاتا ہے۔ ہندوستان کے عوام اور رہنماو¿ں نے اسے ک”الا قانون“ کا نام دیا تھا۔اس قانون کے اہم اور جابرانہ نکات بھی اسی قسم کے تھے،،، یعنی بغیر وارنٹ گرفتاری: برطانوی حکومت کو یہ اختیار مل گیا تھا کہ وہ کسی بھی شخص کو محض شک کی بنیاد پر، بغیر کسی وارنٹ کے گرفتار کر سکتی تھی۔بغیر مقدمہ قید: گرفتار کیے گئے شخص کو عدالت میں پیش کیے بغیر دو سال تک جیل میں بند رکھا جا سکتا تھا۔بند کمرہ سماعت ، یعنی اس قانون کے تحت قائم خصوصی عدالتوں میں مقدمات کی سماعت خفیہ رکھی جاتی تھی اور ملزم کو یہ جاننے کا حق بھی نہیں تھا کہ اس کے خلاف کس نے گواہی دی ہے۔اپیل کا حق بھی نہیں تھا،،، اس قانون کے تحت دی جانے والی سزا کے خلاف کسی بھی اعلیٰ عدالت (جیسے ہائی کورٹ) میں اپیل کرنے کی اجازت نہیں تھی۔اوراخبارات اور پریس کی آزادی کو سلب کر لیا گیا تھا تاکہ حکومت کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھائی جا سکے۔لیکن قائداعظم محمد علی جناح نے اس ایکٹ کی منظوری کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے،،، 28 مارچ 1919ءکو امپیریل لیجسلیٹیو کونسل سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ انہوں نے اس وقت کے برطانوی وائسرائے لارڈ چیمسفورڈ کو ایک سخت مکتوب لکھاتھا جو آج بھی محفوظ ہے۔۔۔ بہرحال میرے وطن عزیز میں اس وقت کوئی بھی محفوظ نہیں ہے،،،فرض کریں کہ مجھے کسی میرے سیاسی مخالف نے گرفتار کرکے مذکورہ دہشت گردی کا پرچہ قائم کر دیا ہے،،،اور میرے کیس کو جان بوجھ کر ”سپیشل کیس“ بنا دیا گیا ہے،،، اب مجھے علم نہیں ہے کہ میرے مدمقابل مدعی کون ہے؟ میرا جج کون ہے؟ میرا مخالف دلائل کونسا وکیل دے رہا ہے،،، تو پھر مجھے پھانسی چڑھا دیں،،، کیا فرق پڑے گا؟ مطلب! ایک عام شہری جائے تو جائے کہاں؟ عدالتیں کہاں ہیں؟ ان کی کیا اہمیت رہ گئی ہے؟ کیا ادارے اتنے طاقتور ہو چکے ہیں کہ وہ اس قدر ظلم ڈھائیں اورعدالت عالیہ منہ تکتی رہ جائے؟ اور رہی بات ملزمان کے لواحقین کی تو وہ کس سے انصاف مانگیں گے؟ کیا دنیا بھر میں ایسا ہوتا ہے؟ لواحقین تو سی سی ڈی کے معاملے پر کہتے رہے ہیں کہ یہاں انصاف ملنا تقریباََ ناممکن ہو چکا ہے،،، بہرحال میں پریشان اس بات پر ہوں کہ اگر اسی طرح انہیں بندے مارنے ، مخالفین کو سزائیں دلوانے کی عادت طول پکڑ گئی تو پھر جب ان کے مخالفین کی حکومت آئے گی تو یہ کیا کریں گے؟ یہ کہاں تک بھاگیں گے؟ لہٰذامیرے خیال میں انہیں اپنے مخالفین پر ہاتھ ہولا رکھنے کی ضرورت ہے،،، لیکن اگر واقعی یہ کام خالصتاََ عوام کے لیے کیا ہے، یا ریاست کے لیے کیا ہے تو پھر یہ کام سب سے پہلے بلوچستان یا کے پی کے میں ہونا چاہیے،،، جہاں روزانہ سکیورٹی ادارے کے لوگوں کو چن چن کر مارا جا رہا ہے،،، جہاں ریاستی رٹ کو چیلنج کیا جا رہا ہے،،، لیکن پھر بھی اگر پنجاب میں اس کی ضرورت آن پڑی ہے تو سوال یہ ہے کہ کیا ریاست اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ وہ دہشتگردوں سے ڈرکر سب کچھ خفیہ کرے گی جبکہ دہشتگرد اپنی کارروائیاں کھل عام کرینگے ؟؟؟اگر ریاست ان دہشتگردوں کی کھل عام پروفائلنگ کرکے ان کی سر کی قیمت مقرر کرے اور سارے دہشتگردوں کی پروفائل پندرہ دن بعد اپڈیٹ کرکے پبلک کیا کرے میں دیکھتا ہوں یہ دہشتگرد کیسے سروایو کرتے ہیں اپ نے دہشتگرد بھی چھپا رکھے ہیں اور جج بھی چھپا رہے ہو اپ یہ سب کرکے ثابت کیا کررہے ہو ؟؟ بہرکیف ہمیں اس وقت سب سے پہلے عدالتی نظام کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے ،،، ناکہ نئے بل لانے کی،،، دراصل ماروائے عدالت اقدامات جوڈیشل سسٹم پر عدم اعتماد ہے۔ پاکستان میں آج بھی قوانین میں ڈیجیٹل ثبوت نہیں مانتے۔ انسانی گواہ کو مانتے ہیں۔ پولیس کی گواہی نہیں مانی جاتی۔ پولیس کے ساتھ کنفیشن کو نہیں مانی جاتی۔ باقی شہادتیں مثلا موقع سے کارتوس،اسلحہ پر اعتراض ہوتا ہے۔ یہاں پر وکالت کے یہ حالات ہیں کہ قانون کو جتنا دھوکہ دیا جائے وہ اچھی وکالت تصور ہوتی ہے۔ اب ایسے حالات میں امن امان،جان و مال کی حفاظت پولیس کی ہوتی ہے اور جرائم سے حکومت کی بدنامی ہوتی ہے تو ان کے پاس کیا فارمولا ہوسکتا ہے جن سے یہ عوام کی حفاظت کر سکے۔ پولیس مقابلوں پر عوام خوش ہوتے ہیں۔کیونکہ ہر شہر نام کے چند کریمنلز ہوتے ہیں اگر ان کا صفایا کیا جائے تو شہری سکھ کا سانس لیتے ہیں۔لہٰذاجو ڈیشل سسٹم کو محفوظ تر بنانے کے لیے بھونڈے اقدامات کے بجائے جائز اقدامات کرنے کی ضرورت ہے،،، ورنہ سنجیدہ لوگ تو یہی سمجھیں گے کہ ریاست اتنی کمزور ہو چکی ہے کہ وہ دہشتگردوں سے ڈرکر سب کچھ خفیہ کرے گی ،،، جبکہ دہشتگرد اپنی کارروائیاں کھل عام کرینگے ؟؟؟