جماعت اسلامی کا ”احتجاجی پیٹرن“ اور پٹرول کے بم!

آج کل روزانہ کی بنیاد پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، لیکن ہماری ”شغل میلے“ والی قوم نے اسے جماعت اسلامی کے دھرنوں اور احتجاج کے ساتھ جوڑ دیا ہے،،، ویسے آپ کو بتاتا چلوں جب سے یعنی 7اگست سے جس وقت جماعت اسلامی نے مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا،اور 500سے زائد مقامات پر دھرنوں کا آغاز کیا تھا،،، اُس وقت پٹرول کی قیمت 329روپے تھی،،،اور آج تادم تحریر پٹرول کی قیمت 365روپے ہے،،، یعنی اس دوران پٹرول کی قیمت میں 36روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 15سے 20روپے کا اضافہ ہوا،،، لیکن اسے قسمت کہہ لیں یا کچھ اور کہ جب جماعت اسلامی کا احتجاج شروع ہوا تواُس وقت عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 83ڈالر فی بیرل تھیں، جبکہ آج 100ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہیں،،، اس حوالے سے جماعت اسلامی والے بدقسمت ثابت ہوئے ہیں،،، اس لیے اب اُن کے پاس احتجاج جاری رکھنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں بچا،،، کیوں کہ اگر وہ یہیں دھرنے ختم کرتے ہیں تو پھر ان کی سیاست مزید ختم ہوجائے گی،،، لیکن اگر احتجاج مزید بڑھتے ہیں اور حکومت پر واقعی دباﺅ بڑھتاہے تو شاید سرکار 10، 15روپے کی لیوی ختم کرکے جماعت اسلامی کو ”فیس سیونگ“ دے دے تاکہ وہ خیریت سے گھر جائیں! لیکن فی الوقت تو حالات یہ ہیں کہ پٹرولیم کی ان بڑھتی قیمتوں اور دھرنوں کے دوران جب جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھیں تب تب عوام کی جانب سے جماعت اسلامی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا،،، کبھی کہا گیا کہ آپ کی مہربانی واپس آجائیں،،، ہم ایسے ہی ٹھیک ہیں!،،، کبھی کہا گیا کہ ”جماعت اسلامی نے آٹے کی قیمتوں کے حوالے سے بھی احتجاج کا اعلان کر دیا“ ،،، کبھی کہا گیا کہ جماعت اسلامی گھر بیٹھے یہ اُس کے بس کی بات نہیں ہے،،، اور کبھی کہا گیا کہ یہ کسی ایجنڈے پر کام کر رہی ہے،،،، وغیرہ ۔ اور ویسے بھی اب تو یہ روایت بن گئی ہے کہ جو کوئی بھی سیاسی جماعت احتجاج کی کال دیتی ہے تو اُس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد حاصل ہے،،، جماعت اسلامی کے بارے میں بھی یہی کہا جا رہا ہے کہ یہ جماعت حکومت اور فیصلہ کرنے والوں کی آلہ کار بنی ہوئی ہے،،، ورنہ اس کے دھرنوں کا حکومت پر کچھ نہ کچھ تو اثر ہوتا،،، لیکن میری رائے میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن اپنے تئیں بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ حکومت پر دباﺅ بڑھایا جائے،،، لیکن وہ عوامی کراﺅڈ اکٹھا کرنے میں ناکام رہے ہیں،،، وہ یقینا ویسا کراﺅڈ چاہتے ہیں جیسا بانی تحریک انصاف کے جلسوں میں ہوا کرتا تھا،،، یا وہ ویسا کراﺅڈ چاہتے ہیں کہ جیسا محترمہ بے نظیر بھٹو کے جلسوں میں ہوا کرتا تھا،،، لوگ دل سے اُن کے جلسوں میں آیا کرتے تھے،،، لیکن حافظ نعیم الرحمن یقینا عوام کے حالیہ رویے سے پریشان تو ہوں گے،،، کیوں کہ آپ اگر لاہور ہی کی بات کر لیں تو جیسے ہی آپ چیئرنگ کراس (مال روڈ لاہور) سے گزرتے ہیں تو وہاں جماعت اسلامی کے رہنما آپ کو پرجوش انداز میں تقاریر کرتے نظر آئیں گے،،، اور قرب و جوار میں عام مزدوں سے لے کر لگژری بسیں کھڑی نظر آئیں گی،،، جس سے صاف ظاہر ہے کہ احتجاجی دھرنے میں شامل زیادہ تر لوگ لاہور سے باہر سے آئے ہیں،،، اور ان کی بڑی تعداد سیاسی کارکنان کی ہے،،، جبکہ معذرت کے ساتھ عام عوام نہ ہونے کے برابر ہے،،، لہٰذااب سوال یہ ہے کہ عام عوام کیا صرف شغل میلے کے لیے رہ گئی ہے؟ لیکن دوسری جانب آپ کو جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کو داد ضرور دینا پڑے گی کہ انہوں نے حکومت کے خلاف کوئی اسٹیپ تو اُٹھایا،،،اب سوال یہاں یہ اُٹھایا جارہا ہے کہ عوام کیوں نہیں ان جلسوں میں آرہے،،، تو اس کا جواب کچھ بھی ہو،،، لیکن چند وجوہات تو یہ بھی لگتی ہیں کہ عوام ”ہارڈ اسٹیٹ “کے رویوں سے ہی کانوں کو ہاتھ لگا رہی ہے،،، یا بادی النظر میں شاید وہ اس قدر سست اور کاہل ہو چکے ہیں کہ وہ مشکلات اُٹھانے کی زحمت ہی نہیں کرتے،،، یا شاید وہ واقعی”جھوٹے مقدمات‘ سے ڈر گئے ہیں ،،، یا شاید یہ بھی ممکن ہو سکتا ہے،، کہ اُن کا جیسے تیسے کرکے گزارہ ہو رہا ہو،،، یا معذرت کے ساتھ ہم لوگ جتنے کرپٹ ہو چکے ہیں،،، ہوسکتا ہے،،، اپنی اپنی جگہ ہر بندے نے اپنا کوئی ”حساب کتاب “لگایا ہوا ہو،،، ورنہ آپ مجھ سے لکھوا لیں کہ اس مہنگائی کے دور میں مڈل کلاس اور ایک لاکھ روپے ماہانہ کمانے والا بھی اپنا بجٹ نہیں بنا پا رہا۔۔ بہرحال کوئی تو وجہ ہے کہ یہاں بھرپور مہنگائی کے باوجود لوگ حکومت کے خلاف اُٹھ کھڑا ہونے میں ہچکچا رہے ہیں۔۔۔ لیکن میں پھر یہی کہوں گا کہ میں ذاتی طور پر جماعت اسلامی کے احتجاج اور دھرنوں کو پسند کررہا ہوںکیوں کہ اس سے ایک عرصے بعد ملک میں سیاسی سرگرمیاں پھل پھول رہی ہیں،،،جبکہ پاکستان کی 170 رجسٹرڈ پارٹیوں میں صرف جماعت اسلامی ظالمانہ مہنگائی کے خلاف نکلی ہوئی ہے باقی سب پارٹیاں مل کر قوم کو لوٹ رہے ہیں۔ اور رہی بات ان کے مطالبات کی تو ان کا سب سے بڑا مطالبہ ہی یہی ہے کہ پٹرولیم مصنوعات سے لیوی کا خاتمہ کیا جائے،،، کیوں کہ اس وقت سرکار 70سے 80روپے فی لیٹر لیوی عوام سے وصول کر رہی ہے،،، جس کی وجہ سے موجودہ دور حکومت میں شہریوں سے لیوی کی مد میں ریکارڈ 3137 ارب روپے(تقریبا12ارب ڈالر) وصول کیے گئے،ان کے دور میں ایک لیٹر ڈیزل ڈیڑھ سو روپے اور پیٹرول 120روپے تک مہنگا ہوا۔جبکہ ایران امریکا جنگ کے بعد کم از کم 1000ارب روپے انہوں نے اکٹھے کیے،،، یعنی جنگ کہیں اور لگی ہے اور قربانی کا بکرا عوام کو بنادیا گیا ہے،،، اور اسی جنگ میں ایک ہزار 567 ارب روپے پیٹرولیم لیوی وصول کی، اس کے علاوہ پیٹرول اور ڈیزل پر کاربن لیوی کی مد میں 50 ارب روپے سے زائد الگ سےوصول کیے گئے۔یعنی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کو کمائی کا ذریعہ بنا لیاہے ،اور حیرت اس پر بھی ہے کہ پٹرولیم لیوی کے علاوہ پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 37 فیصد اور ڈیزل پرفی لیٹر 31 فیصد ٹیکسز بھی شامل ہیں۔یعنی اعداد وشمار کے مطابق ایک لیٹر پٹرول پر 134 روپے 60 پیسے فی لیٹر ٹیکسز عائد ہیں، پیٹرول پر فی لیٹر 80 روپے پیٹرولیم لیوی 5 روپے کاربن لیوی عائد ہے، پیٹرول کی اصل قیمت 229 روپے 75 پیسے فی لیٹر بنتی ہے۔دستاویز کے مطابق پیٹرول پر 21 روپے 15 پیسے کسٹم ڈیوٹی تقریبا 3 روپے پریمیم شامل ہے، پیٹرول پر 7روپے 60 پیسے فریٹ مارجن، 7 روپے87 پیسے کمپنیز کا منافع شامل ہے، پیٹرول پر 9 روپے 98 پیسے ڈیلر مارجن شامل ہے۔ڈیزل پر بھی فی لیٹر 31 فیصد ٹیکسز شامل ہیں ، ڈیزل پر فی لیٹر ٹیکسز 118 روپے 55 پیسے شامل ہیں۔ ڈیزل کی اصل قیمت 267 روپے 40 پیسے فی لیٹر بنتی ہے۔ڈیزل پر فی لیٹر 80 روپے پیٹرولیم لیوی 5 روپے کاربن لیوی، 15 روپے68 پیسے کسٹم ڈیوٹی، ایک روپیہ پریمیم، 4 روپے2 پیسے فریٹ مارجن جبکہ 7 روپے 87 پیسے تیل کمپنیوں کا منافع 9 روپے 98 پیسے ڈیلر مارجن عائد ہے۔ الغرض پاکستان کے موجودہ ٹیکس نظام کی نمایاں اور سب سے ”تباہ کن“ خصوصیت یہ ہے کہ اس کا حد سے زیادہ انحصار پیشگی ٹیکس کٹوتی‘ پیشگی وِدہولڈنگ ٹیکس اور فرضی بنیادوں پر عائد ٹیکسوں پر ہے۔ ریاست نے حقیقی خالص آمدنی کا جائزہ لینے اور اس کا حساب لگانے کی ادارہ جاتی صلاحیت پیدا نہیں کی بلکہ اس کے بجائے وِدہولڈنگ ٹیکس کو محاصل کا بنیادی متبادل بنا دیا ہے۔ ٹیکس قوانین میں وِدہولڈنگ ٹیکس کٹوتی کی بے شمار شرحیں مختلف مقامات پر بکھری ہوئی موجود ہیں۔ جب بھی کوئی شہری یا کاروباری ادارہ کوئی قابلِ مشاہدہ لین دین کرتا ہے تو بنیادی معاملہ (سورس) ہی پر وِدہولڈنگ ٹیکس کاٹ لیا جاتا ہے جیسے بینک سے نقد رقم نکلوانا‘ بجلی‘ گیس یا دیگر خدمات کا بل ادا کرنا‘ گاڑی رجسٹر کرانا‘ جائیداد خریدنا (حالانکہ یہ تو صرف خریداری ہے اور اس میں خریدنے والے کیلئے کوئی تجارتی منافع شامل نہیں ہے)خام مال درآمد کرنا یا کوئی تجارتی معاہدہ کرنا۔ اس وقت 68 قسم کے وِدہولڈنگ ٹیکس لاگو ہیں جن سے ایف بی آر مجموعی انکم ٹیکس کا 70 فیصد جمع کرتا ہے۔ بہرحال لبِ لباب یہ ہے کہ پاکستان غریب آدمی کے لیے واقعی نہیں بنا،،، یہاں آپ احتجاج کریں گے تو اُٹھا لیے جائیں گے،،، یہاں آپ آواز اُٹھائیں گے تو پیکا ایکٹ لگ جائے گا،،، یہاں آپ اداروں کے خلاف بات کریں گے تو آپ غدار کہلائیں گے،،، یہاں آپ سرکار کے خلاف کوئی سرگرمی کریں گے تو انسداد دہشت گردی ایکٹ میں آپ اندر کر دیے جائیں گے،،، اور پھر آپ پر سپیشل کیس بنایا جائے گا،،، جس میں آپ کو نہ تو گواہ کے بارے میں علم ہوگا ، نہ آپ کو یہ علم ہوگا کہ آپ کا جج کون ہے،،، اور نہ ہی آپ کے علم میں یہ ہوگا کہ آپ کا مخالف وکیل کون ہے؟ اور وہ آپ کس قسم کے دلائل دے رہا ہے،،، اور رہی بات جماعت اسلامی کی تو وہ اپنے تئیں صحیح احتجاج کر رہے ہیں،،، بس اگرکسی چیز کی کمی ہے تو وہ صرف اور صرف عوام کی حاضری کی۔ لہٰذامیرے خیال میں اگر عوام سنجیدہ ہو جائیں تو یہ پٹرول بم گرنا بھی بند ہو جائیں گے،،، اور حکومت کا ممنوعہ کاروبار بھی بند ہو جائے گا،،، !اور بقول شخصے پچھلے 80برس سے ہماری قوم کی ذہنی حالت شاید یہ ہو چکی ہے کہ بڑا سے بڑا ظلم ہو جائے تو ہم ایک دوسرے کے کان میں کہتے ہیں: ”کوئی بولتا کیوں نہیں؟“ اور کچھ نہ ہو، جماعتِ اسلامی کھلم کھلا بول تو رہی ہے۔ اب کیا لٹھ لے کر چڑھ دوڑے؟