”کلرکی“ کرپشن کے خلاف مہم اور بڑے چور!

ہم سمجھ رہے تھے کہ حالات شدید خراب ہیں، توشاید آئی پی پیز سے چھٹکارہ حاصل کرکے فیصلہ کرنے والی قوتیں اور حکمران عوام کو تھوڑا بہت ریلیف دیں،،، لیکن پارلیمنٹ میں وزارت توانائی کی جانب سے ایک رپورٹ جمع کروائی گئی ہے جس کے مطابق نئی کمپنیوں (آئی پی پیز )سے 30اور 40سال کے نئے معاہدے کئے گئے ہیں،،، ان کمپنیوں میں سے موجودہ حکومت کی جانب سے جن آئی پی پیز کے ساتھ نئے معاہدے کئے گئے اُن میں نمایاں ان معاہدوں میں موجودہ حکومت نے جامشورو کول نامی پاور پلانٹ کے ساتھ 30 جولائی 2025 کو تیس سالہ مدت کا معاہد ہ کیا،جبکہ 3 جون 2025 کو کوٹ ادو پاور پلانٹ کے ساتھ بھی معاہدہ کیا ہے۔دستاویز میں بتایا گیا کہ کئی آئی پی پیز کے معاہدے 2050 کے بعد بھی موثر ہوں گے جبکہ اس وقت کل 105 آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے موثر ہیں، بیشتر کی باقی مدت 20 سال سے زائد ہے۔اور حیران کن بات یہ ہے کہ جس پاکستان تحریک انصاف کے دور حکومت کو ہم بہتر کہتے ہیں،،، اُس میں بھی 27 معاہدے کئے گئے، جن میں سے بیشتر کی مدت 20 سال سے زائد ہے۔مطلب! حاجی وہی ہے ، جس کو موقع نہیں ملا،،، کے مصداق اس بہتی گنگا میں سبھی ہاتھ دھو تے رہے ہیں،،، جبکہ دوسری جانب پنجاب میں کرپشن کے خلاف ”گرینڈ آپریشن“ شروع کر دیا ہے،،، اور اینٹی کرپشن یونٹس کانسٹیبلز، اے ایس آئی، کلرک ، پٹواری و دیگر سرکاری ملازمین کو ہتھکڑی لگائے 10، 15، 20، 50ہزار روپے کی کرپشن پر اُن کی عوام کے سامنے ”شناخت پریڈ“ کروا رہے ہیں،،، اور حکمران سمجھ رہے ہیں کہ شاید اُن کی ان حرکتوں سے لوگ واہ واہ کہیں گے،،، اور سوچیں گے کہ ملک یا صوبہ کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس برقرار رکھے ہوئے ہے،،، بلکہ باقاعدہ میڈیا پر کہلوایا جا رہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب زیرو ٹالرنس کے ساتھ کرپشن کو جڑ سے اکھاڑنے کا ٹاسک دے چکی ہیں۔ویسے میں یہاں یہ بات کہہ دوں کہ مجھ سمیت عوام کا ایک بڑا حصہ اس بات پر بھی خوش ہو جاتا ہے کہ چلو،،، سرکاری ملازمین اگر دو چار ہزار روپے لے کر کام کر دیتے ہیں تو اللہ اُن کی خیر کرے! کیونکہ یہ ملازمین تو اپنے آپ میں مافیا ہوتے ہیں،،، اگر آپ کا کام یہ روک دیں تو افسران کی بھی کیا جرا¿ت کہ وہ کام ہو جائے،،، اس لیے ہم بھی چند روپوں میں کام کرنے والے سرکاری ملازم کے بارے میں یہی کہتے ہیں کہ فلاں ملازم بہت ایماندار ہے،،، وہ کام کر دیتا ہے! خیر قصہ مختصر کہ آئے روز کہیں رنگے ہاتھوں پکڑے جا رہے ہیں تو کہیں مخبری اور نشاندہی پر۔ حکومتی چیمپئنز کی طے شدہ پالیسی کے تحت ہونے والی ان سبھی کارروائیوں کی جمع تفریق کریں تو کرپٹ سرکاری ملازمین کا دائرہ سپاہی سے ہوتا ہوا تھوڑا اوپر تک جاتا ہے تو دوسری طرف پٹواری اور کلرکوں سے ہوتا ہوا ماتحت افسران کے گرد ہی گھومتا ہے۔لیکن یہ اوپر اور بہت اوپر تک نہیں جا رہا ،،، یعنی بابو افسر شاہی سب محفوظ بھی ہیں اور شادیانے بھی بجا رہے ہیں،،، جبکہ سیاستدانوں کا تو اللہ ہی حافظ ہے،،،اور پھرسوال یہ ہے کہ کیا سرکار کے ان ”کلرکی“ پکڑ دھکڑ جیسے اقدامات سے کیا کرپشن ختم ہو جائے گی؟ یعنی میں یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ ان کو یہ بات کیوں سمجھ نہیں آتی کہ کرپشن ہمیشہ اوپر سے نیچے سفرکرتی ہے،،، ہم عام طور پر رشوت لینے والے کلرک، تھانے میں پیسے مانگنے والے اہلکار، دفتر میں فائل روکنے والے ملازم یا سرکاری کام کے لیے ”چائے پانی“ طلب کرنے والے چھوٹے اہلکار کو تو فوراً کرپٹ قرار دے دیتے ہیں، لیکن سوال یہ نہیں کرتے کہ آخر یہ رویہ پیدا کہاں سے ہوا؟یقینا اپنے افسران بالا سے،،، کیوں کہ اگر وہ خود کرپٹ نہ ہوں تو سو فیصد چانس ہوتا ہے کہ نچلا عملا بھی کرپشن سے باز رہتا ہے،،، لیکن اگر صاحب کرپٹ ہوں تو پورے ادارے میں ایک خطرناک پیغام جاتا ہے: ”اگر اوپر والے کر سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟“یہی وہ مقام ہے جہاں کرپشن ایک جرم سے بڑھ کر کلچر بننا شروع ہو جاتی ہے۔ دنیا کی تاریخ اس اصول کی کئی مثالیں پیش کرتی ہے۔جیسے سنگاپور آج دنیا کے نسبتاً صاف اور کم کرپٹ ممالک میں شمار ہوتا ہے، لیکن ہمیشہ ایسا نہیں تھا۔ سنگاپور کا معاشرہ بھی ہماری طرح کرپٹ معاشرہ تھا ، تاریخی ریکارڈ کے مطابق نوآبادیاتی دور میں وہاں کرپشن ایک سنجیدہ مسئلہ تھی اور قانون ہونے کے باوجود اس پر قابو پانا مشکل تھا۔ لیکن 1959ءمیں لی کوان یو کی قیادت میں حکومت آئی تو اس نے کرپشن کے خلاف واضح سیاسی عزم اختیار کیا۔ انسدادِ بدعنوانی کے ادارے کو مضبوط کیا گیا، قوانین سخت کیے گئے اور سب سے اہم بات یہ تھی کہ اعلیٰ عہدوں پر موجود افراد کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا گیا۔پھر 1975ءمیں ایک وزیر کو کرپشن کے الزام میں سزا ہوئی۔ بعد میں ایک اور وزیر کے خلاف بھی رشوت کے الزام میں تحقیقات ہوئیں۔ سنگاپور کی انسدادِ بدعنوانی ایجنسی کے مطابق ان اعلیٰ سطح کے مقدمات نے عوام کو یہ پیغام دیا کہ عہدہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، قانون سے بالاتر نہیں۔یہی اصل تبدیلی تھی۔یعنی جب ایک ملک کا عام سرکاری ملازم دیکھتا ہے کہ وزیر بھی کرپشن پر پکڑا جا سکتا ہے، طاقتور افسر بھی جواب دہ ہے اور حکمران طبقہ بھی قانون کے تابع ہے تو اس کے ذہن میں ایک نئی سوچ پیدا ہوتی ہے کہ کرپشن خطرے سے خالی کاروبار نہیں۔ پھر آپ کے سامنے جارجیا کی مثال ہے،،، جہاں 2003ءکے انقلاب کے بعد نئی حکومت نے کرپشن کو ملک کی ترقی کی بڑی رکاوٹ قرار دیا اور اسے اصلاحات کا مرکزی موضوع بنایا۔ ورلڈ بینک کے مطابق نئی حکومت نے 2004ءکے بعد بڑے پیمانے پر اصلاحات شروع کیں جنہوں نے چند ہی برسوں میں ریاستی نظام کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہاں سبق صرف یہ نہیں کہ چند کرپٹ افسر گرفتار ہوئے یا کچھ قوانین تبدیل کیے گئے۔ اصل سبق یہ تھا کہ حکومت نے سرکاری مشینری کے طریقہ کار کو تبدیل کرنے کی کوشش کی۔یعنی اگر مسئلہ پورے نظام میں ہو تو صرف چند افراد کو سزا دینا کافی نہیں ہوتا؛ نظام کے اندر کرپشن پیدا کرنے والی ترغیبات بھی ختم کرنا پڑتی ہیں۔ بہرحال یہ وہ مثالیں کہ اگر قیادت خود ایماندار ہوتو پھر نیچے بھی تبدیلی آتی ہے،،، لیکن میں یہاں یہ ضرور کہنا چاہوں گا کہ جیسا میں نے اوپر ذکر کیا ، کہ ہم لوگ تھوڑے پیسے لگا کر کام ہوجانے کو غنیمت سمجھتے ہیں،،، یقین مانیں کرپشن کا سب سے خطرناک مرحلہ یہی ہوتا ہے ، کیوں کہ لوگ اسے کرپشن سمجھنا ہی چھوڑ دیتے ہیں،،، یعنی جب دفتر میں فائل آگے بڑھانے کے لیے پیسے دینا ”معمول“ بن جائے۔جب پولیس کے ناکے پر پیسے دینا ”چلتا ہے“ سمجھا جائے۔جب سرکاری ٹھیکہ میرٹ کی بجائے تعلقات پر ملنا عام ہو جائے۔جب نوکری قابلیت کی بجائے سفارش سے ملے۔جب ٹیکس چوری کو لوگ جرم کے بجائے ”حکومت سے بچنے کی عقل“ سمجھنے لگیں۔جب کسی طاقتور شخص کے ناجائز کام کو لوگ یہ کہہ کر قبول کر لیں کہ ”بھائی صاحب بڑے آدمی ہیں“۔یہ وہ مقام ہے جہاں کرپشن فرد کا عمل نہیں رہتی بلکہ معاشرتی رویہ بن جاتی ہے۔ اور یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ایک آدمی پیدائشی طور پر کرپٹ نہیں ہوتا،،، وہ کرپٹ اُس وقت ہوتا ہے جب وہ برسوں یہ دیکھتا رہے کہ ایمانداری سے کام کرنے والا پیچھے رہ گیا اور سفارش، رشوت اور تعلقات رکھنے والا آگے نکل گیا تو اس کے ذہن میں نظام کے بارے میں ایک خطرناک تصور پیدا ہوتا ہے۔وہ سوچتا ہے کہ ”ایمانداری سے میرا کیا فائدہ؟“یہی سوچ معاشروں کو اندر سے کھوکھلا کرتی ہے۔ اگر اوپر بیٹھا ہوا شخص سرکاری خزانے کے نقصان کو معمولی بات سمجھتا ہے، تو نیچے بیٹھا ملازم بھی دفتر کی چیز کو ذاتی استعمال میں لانے کو معمولی سمجھنے لگتا ہے۔اگر وزیر اختیارات کا غلط استعمال کرے تو افسر اپنے اختیار کو کیوں نہ بیچے؟اگر بڑا افسر سفارش سے اپنے لوگوں کو فائدہ پہنچائے تو چھوٹا اہلکار کیوں نہ اپنے عزیز کو ترجیح دے؟اگر بڑے منصوبوں میں اربوں کی بے ضابطگی پر کوئی کارروائی نہ ہو تو چھوٹے ملازم کی چند ہزار روپے کی رشوت معاشرے کو بہت بڑی برائی کیوں محسوس ہو؟یعنی اگر ہزاروں ارب روپے آپ آئی پی پیز کو بغیر بجلی پیدا کیے دے رہے ہیںتو پھر آپ کلرک پکڑیں یا کسی چھوٹے موٹے پولیس اہلکار کو،،،ہماری بلا سے! میں یہ ہر گز نہیں کہہ رہا ،، کہ اوپر کی کرپشن حرام ہے اور نچلے عملے کی کرپشن حلال ہے،،، ویسے تو کرپشن جہاں بھی ہو، غلط ہے۔رشوت لینے والا بھی ذمہ دار ہے اور رشوت دینے والا بھی۔لیکن یہاں یہ بات سمجھنے کی ضرور ت ہے کہ ایک عام شخص کی بدعنوانی شاید ایک فرد کو نقصان پہنچاتی ہے، مگر ایک طاقتور عہدے دار کی بدعنوانی پورے ادارے، شعبے یا ریاست کو متاثر کر سکتی ہے۔اسی لیے دنیا کے کامیاب ممالک نے کرپشن کے خلاف جنگ کا آغاز صرف نچلے درجے کے ملازمین سے نہیں کیا بلکہ اختیار کے مراکز کو جواب دہ بنانے کی کوشش کی۔ لہٰذاضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں کرپشن کے خلاف ہزاروں تقریریں ہو چکی ہیں۔ احتساب کے ادارے بھی بنے، قوانین بھی آئے، گرفتاریاں بھی ہوئیں اور مقدمات بھی چلے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی کرپشن کی جڑ پر حملہ کیا؟جڑ صرف ایک رشوت خور کلرک نہیں۔جڑ وہ نظام ہے جہاں قانون کا اطلاق یکساں نہیں ہوتا۔جڑ وہ سیاسی کلچر ہے جہاں اقتدار کو ذاتی اور جماعتی فائدے کے لیے استعمال کرنے کی گنجائش پیدا ہو جاتی ہے۔جڑ وہ انتظامی نظام ہے جہاں اختیارات بہت زیادہ اور نگرانی بہت کم ہوتی ہے۔جڑ وہ معاشرتی سوچ ہے جہاں ہم طاقتور کی کرپشن کو ”حکمتِ عملی“ اور کمزور کی کرپشن کو ”جرم“ کہتے ہیں۔اگر واقعی کرپشن ختم کرنی ہے تو پیغام اوپر سے جانا چاہیے۔وزیر کو معلوم ہو کہ قانون اس پر بھی لاگو ہوتا ہے۔سیکرٹری کو معلوم ہو کہ اس کے فیصلے کی نگرانی ہوگی۔افسر کو معلوم ہو کہ سفارش اور رشوت اس کا تحفظ نہیں کر سکتی۔اور عام ملازم کو معلوم ہو کہ اگر وہ ایمانداری سے کام کرے گا تو ریاست اس کے پیچھے کھڑی ہوگی!آگے آپ کی مرضی!