”انسداد دہشت گردی ترمیمی ایکٹ 2026“کالا قانون : سیمینار!

ویسے آج کل کوئی بھی ترمیمی بل اسمبلی میں پیش ہو جائے،منظور کر لیا جائے، دستخط ہو جائیں،،، کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی،،، کیوں کہ بظاہر یہی لگتا ہے کہ سب کچھ ملی بھگت سے ہو رہا ہے،،، میڈیا پر بھی صرف ”خبر“ دی جاتی ،وہ بھی اگر اجازت ہومقصود ہوتو،،، ورنہ” احکامات “آجاتے ہیں ،،، اور خبر روکنے کی تنبیہ کر دی جاتی ہے،، یعنی پنجاب اسمبلی میں ”انسدادِ دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم“ کے حوالے سے ایک بل پیش کیا گیا جس میںمنصفانہ ٹرائل اور بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ترمیم کے تحت بعض مقدمات کو ”اسپیشل سیکیورٹی کیس“ قرار دے کر جج، وکلا، تفتیشی افسران، گواہوں، عدالت کے مقام اور کیس ریکارڈ تک کو خفیہ رکھا جا سکے گا۔کسی مقدمے کو ”اسپیشل سیکیورٹی کیس“ قرار دینے کا اختیار گریڈ 20 کے ایک نامزد افسر کو دیا گیا ہے، مگر اس اختیار کے استعمال کے واضح اور شفاف معیار سامنے نہیں آتے۔وغیرہ وغیرہ۔ اسی نام نہاد ترمیمی بل پر بحث و مباحثے کے لیے راقم نے ایک سیمینار Punjab Anti-Terrorism Amednment Bill, SECRET TRIAL، کالا قانون۔ کے عنوان سے منعقد کیا، جس میں وکلاءاور دیگر ماہرین کی رائے جاننے کی کوشش کی گئی،،، تاکہ ایک متفقہ رائے قائم ہوسکے کہ کہ یہ قانون سرے سے ہی غلط ہے، یا اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے، یا اس سے واقعی دہشت گردی میں کمی آئے گی۔ لاہور پریس کلب میں ہونے والے مذکورہ سیمینار میں سابق ایڈووکیٹ جنرل سابق صدر لاہور بار ایسوسی ایشن مبشر رحمان ، پیپلزپارٹی کے رہنماسابق وفاقی وزیر غلام عباس ، سابق صدر لاہور بار ایسوسی ایشن مبشر رحمان ، سینئر ایڈووکیٹ راجہ ذوالقرنین، صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری ، سینئر ایڈووکیٹ خالد رانجھا، کنوینر پیپلز پارٹی لاہور مجید غوری ، محمد تحسین سمیت دیگر رہنماﺅں نے خطاب کیا۔۔۔ اس موقع پر سابق ایڈووکیٹ جنرل پنجاب احمد اویس نے کہا کہ خفیہ ٹرائل کا قانون آئین اور بنیادی حقوق کے خلاف ہے جسے منظور ی دے کر ایکٹ نہیں بننا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ترمیمی بل کے تحت ٹرائل کو خفیہ رکھنے کی جو صورت سامنے آ رہی ہے، اس میں نہ جج کا نام معلوم ہوگا، نہ ملزم کا، نہ گواہ کا اور نہ ہی پراسیکیوٹر کی شناخت ظاہر کی جائے گی۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ٹرائل میں شامل بنیادی فریقوں اور عدالتی کارروائی کی شناخت ہی سامنے نہ آئے تو اسے منصفانہ ٹرائل کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ ،یہ تصور آئین کے آرٹیکل 10-A میں دئیے گئے فیئر ٹرائل کے حق سے متصادم ہے۔انہوںنے آرٹیکل 8 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی قانون بنیادی حقوق کے خلاف نہیں بنایا جا سکتا، جبکہ آرٹیکل 4 کے تحت ہر شخص کو قانون کے مطابق تحفظ حاصل ہے۔اگر کسی شخص کو سزا سنانے کے بعد اسے موثر طور پر اپیل کا حق بھی حاصل نہ رہے تو یہ صورتحال مزید تشویشناک ہوگی کیونکہ اپیل کے لیے فیصلے، شواہد اور عدالتی کارروائی کی تفصیلات ضروری ہوتی ہیں۔ ایسے قانون کے ذریعے ایک انتہائی خطرناک قانونی راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ سیمینار میں سابق وفاقی وزیر غلام عباس نے کہا کہ حکمران جو قانون بنا رہے ہیں، مستقبل میں انہیں خود بھی اس کے نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں اور تمام سیاسی کارکن بھی اس سے متاثر ہوں گے۔کم از کم قانون میں یہ وضاحت تو شامل کی جانی چاہیے تھی کہ اس کا اطلاق صحافیوں اور سیاستدانوں پر نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسے قوانین بنائے جاتے ہیں تو پھر ایک اعلیٰ گریڈ کا افسر یا اہلکار بھی کسی کے خلاف فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل کر سکتا ہے جس کے نتیجے میں انتقامی کارروائیوں کا راستہ کھلنے کا خدشہ ہے۔انہوں نے کہا کہ قانون ایسا ہونا چاہیے جو سب کے لیے واضح، منصفانہ اور یکساں ہو کیونکہ آج بنائے جانے والے قوانین کا سامنا کل موجودہ حکمرانوں اور سیاسی کارکنوں کو بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس موقع پر صدر لاہور پریس کلب ارشد انصاری نے کہا کہ ڈیفیمیشن بل، پیکا کے بعد اب انسدادِ دہشت گردی قانون کے ذریعے شہری آزادیوں پر قدغن کی کوشش کی جا رہی ہیجو جمہوری معاشرے اور شہری آزادیوں کے لیے انتہائی تشویشناک ہیں۔صحافی برادری نے 2024 کے ڈیفیمیشن بل کے خلاف بھی شدید احتجاج کیا تھا مگر حکومت نے اسے منظور کر لیا، اس کے بعد پیکا قانون میں ترامیم لائی گئیں اور اب انسدادِ دہشت گردی بل میں مزید اختیارات دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں جو سیاسی جماعتیں اپوزیشن میں تھیں، وہ پیکا اور دیگر قوانین کے خلاف احتجاج کرتی رہی ہیں، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد انہی قوانین کی حمایت کرتی نظر آتی ہیں،یہ رویہ قابلِ تشویش ہے، کیونکہ قانون کسی ایک جماعت یا حکومت کے لیے نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ہوتا ہے۔ارشد انصاری نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ جمہوری معاشرے میں ایسے قوانین کے خلاف بھرپور مزاحمت کی جائے جو شہری آزادیوں کو محدود کرتے ہیں۔ ارشد انصاری نے سیمینار کے انعقاد پر منتظمین کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ عوامی اور جمہوری مسائل پر ایسے پروگراموں کا انعقاد وقت کی اہم ضرورت ہے، صحافی برادری آئندہ بھی ہر جمہوری جدوجہد میں اپنا کردار ادا کرے گی۔ محمد تحسین نے ترمیمی بل پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کی تعریف کو غیر واضح رکھا گیا تو اس کا دائرہ کسی بھی شہری یا سیاسی کارکن تک بڑھایا جا سکتا ہے، جس کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ ملک کے مختلف علاقوں خصوصاً بلوچستان میں پیدا ہونے والی صورتحال کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، بلوچستان میں پنجابی شہریوں کو درپیش مشکلات اور امن و امان کی صورتحال پر بھی سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی شخص کو صرف دہشت گرد قرار دے دینا کافی نہیں، قانون میں واضح ہونا چاہیے کہ دہشتگردی کی تعریف کیا ہے اور کس بنیاد پر کسی شہری کے خلاف اس قانون کا اطلاق کیا جائے گا۔سینئر قانون دان خالد رانجھا نے پنجاب اسمبلی سے منظور ہونے والے ترمیمی بل پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خفیہ ٹرائل کا قانون انصاف کے بنیادی اصولوں کو بائی پاس کرنے کے مترادف ہے،پنجاب میں موجودہ حالات ایسے نہیں کہ جنہیں جواز بنا کر شہریوں کے بنیادی قانونی حقوق محدود کرنے والا انتہائی سخت قانون متعارف کرایا جائے،ایسے قانون سے انصاف کے بنیادی اصول متاثر ہوں گے اور معاشرے میں خوف و بے یقینی مزید بڑھے گی۔ کنوینر پیپلز پارٹی لاہور مجید غوری نے کہا کہ حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہیے، آج کا بنایا قانون کل انہی کے گلے میں پڑ سکتا ہے۔قانون اگر بنانا ہے تو غریب، مزدور اور محنت کش طبقے کے مسائل کے حل کے لیے بنایا جائے،کروڑوں مزدور اور محنت کش اپنے بچوں کے لیے بنیادی خوراک، تعلیم، علاج اور سستی بجلی کے حصول کے لیے پریشان ہیں، ان مسائل پر قانون سازی اور موجودہ قوانین پر موثر عملدرآمد کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر قانون موجود ہے تو اس پر عمل کیوں نہیں کروایا جاتا؟ مہنگائی، ناجائز اثاثوں، کرپشن، جھوٹے مقدمات اور عوامی وسائل کے غلط استعمال کے خلاف موثرقوانین بنائے جائیں اور ان پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ سابق صدر لاہور بار ایسوسی ایشن مبشر رحمان نے ترمیمی بل پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خفیہ ٹرائل کی اجازت دینے والا قانون بنیادی انسانی حقوق اور آئینی تقاضوں کے منافی ہے، ایسا قانون نافذ ہوا تو کسی شخص کی گرفتاری، ٹرائل اور سزا کے بارے میں اس کے اہل خانہ سمیت کسی کو بھی معلومات حاصل نہیں ہو سکیں گی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں میڈیا پر قدغنوں کے باعث بار ایسوسی ایشنز اور پریس کلبوں میں عوامی مفاد اور بنیادی انسانی حقوق سے متعلق مسائل پر بات ہونا غنیمت ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست کو کسی شخص پر جرم کا الزام عائد کرنے کا حق حاصل ہے، لیکن اگر کسی کا ٹرائل کرنا ہے تو صدیوں سے تسلیم شدہ قانونی اصولوں اور آئین میں دئیے گئے بنیادی حقوق کی پابندی بھی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں پولیس اور انسدادِ دہشت گردی کے نظام پر بھی سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں، ایسے ماحول میں یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ خفیہ ٹرائل کے نظام میں ملزمان کو منصفانہ انصاف مل سکے گا۔خفیہ ٹرائل منظور ہوا تو جبری گمشدگیوں کو قانونی شکل ملنے کا خدشہ ہے۔ اس موقع پر راقم نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ ترمیمی بل صرف شہری آزادیوں ہی نہیں بلکہ وکلا ء برادری کے رزق پر بھی ضرب لگائے گا، جب ملزم، جج، گواہ اور مقدمے کی تفصیلات ہی سامنے نہیں ہوں گی تو کوئی وکیل کس طرح مقدمہ لڑے گا۔ موجودہ حالات اس قدر تشویشناک ہیں کہ یہ بھی خدشہ پیدا ہو رہا ہے کہ شاید ایسے سیمینار دوبارہ منعقد کرنے کا موقع بھی نہ مل سکے۔مجھے کچھ خدشات بھی ہیں، اس لیے میں نے ایسا کہا کیوں کہ پاکستان کی موجودہ صورتحال پر ہر محب وطن شخص کو تشویش ہے، ماضی میں سیاسی کارکنوں، وکلا ءاور صحافیوں نے جمہوریت اور آزادی کے لیے جیلیں کاٹیں، شاہی قلعہ کی صعوبتیں برداشت کیں اور قربانیاں دیں، مگر آج دوبارہ ایسے حالات پیدا ہوتے دکھائی دے رہے ہیں جہاں لوگوں میں خوف پایا جاتا ہے۔یہ معاملہ صرف سیاست دانوں یا سیاسی کارکنوں کا نہیں بلکہ وکلا کے مستقبل کا بھی ہے، اگر خفیہ ٹرائل کا نظام قائم ہو گیا اور کسی کو معلوم ہی نہ ہو کہ مقدمہ کس عدالت میں، کس جج کے سامنے اور کس نوعیت کا چل رہا ہے تو وکیل اپنے موکل کا دفاع کیسے کرے گا۔صحافی، وکلا ءاور سیاسی کارکن اپنے بنیادی حقوق کے لیے آواز اٹھانے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔اگر جمہوری اور آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے دوبارہ جیل جانا پڑا تو وہ سب سے آگے ہوں گے۔ بہرکیف سیمینار میں مقررین کا لب لباب یہی تھا کہ ایسے قوانین نہیں بننے چاہیے جو پاکستان میں عام شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی پر بنائے جا رہے ہوں،،، اس لیے اُمید ہے کہ ہمارے فیصلہ کرنے والے اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ وہ ایسے قوانین سے اجتناب کریں گے،،، جو بعد میں اُن کے لیے بھی مسئلہ بن جائیں!