عمران خان کی قید کو تین سال: عوام کیا سمجھیں؟

آج ہمیں سخت شرمندگی سے یہ بات کہنا پڑ رہی ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے بانی کی قید کو تین سال پورے ہوگئے ہیں،،، اور کم و بیش ایک سال ہو گیا ہے کہ اُن سے ملاقاتوں پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے، نہ اُس کے خاندان والوں سے اُسے ملوایا جا رہا ہے، نہ ہی پارٹی کے لوگوں سے ۔ چلیں بقول آپ کے،،، یہ بات درست مان لیتے کہ آپ نے اُسے حفظ ما تقدم کے طور پر قید کر دیا ہے، ،، اور کہا کہ ملکی مفاد میں اُسے قید کرنا ہی بہتر ہے،،، لیکن اُسے قید میں رکھنے کے بعد تمام حالات ٹھیک ہوگئے ؟ کیا ملک صحیح چل رہا ہے؟ کیا ملکی معیشت دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہی ہے؟ کیا ملک میں امن و امان ہے؟ کیا ہمسایوں کے ساتھ تعلقات مثالی ہوگئے ہیں؟ کیا کشمیر کے حالات ٹھیک ہوگئے ؟ کیا بلوچستان ٹھیک ہوگیا ہے ؟ کیا ملک میں کرپشن ختم ہوگئی؟ الغرض جو جو بھی الزامات لگا کر حکومت ختم کی گئی، ہزاروں لوگوں کو قید کیا گیا ، کیا وہ درست کر لیے گئے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر سسٹم کو کیوں چھیڑا گیا؟ عوام کو بتایا جائے کہ ان تین سالوں میں عوامی حالات میں کیا بہتری آئی ہے؟ اگر کچھ نہیں کر سکتے تھے تو ملک کا جمہوری عمل روک کر، ملک کو نازک حالات کی طرف کیوں لایا گیا،،، اب آپ تین سال بعد کہہ رہے ہیں کہ سسٹم کریش کر گیا ہے،،، لہٰذایہ سسٹم ہی چل نہیں سکتا،،، میرے خیال میں آپ اُسے پانچ سال پورے کرنے دیتے،،، وہ ہار جاتا ،،، تو پھر عوام جسے چاہے حکمرانی دیتے،،، لیکن ابھی کے لیے عوام کیا سوچے؟ کیا یہ سوچے کہ اُسے نکالا غلط تھا، یایہ سوچے کہ اب جو کچھ کر رہے ہیں وہ غلط ہے،،، ؟ لیکن سوال پھر وہی ہے کہ کیا اُسے قید میں رکھنے کے بعد تمام حالات ٹھیک ہوگئے ؟ یا مزید بگڑ گئے؟ اور جن الزامات کی بنیاد پر اُنہیں جیل میں رکھا گیا ہے ، کیا اُن کی سماعت اُسی رفتار سے ہو رہی ہے، جس رفتار سے اُنہیں جیل میں رکھنے کے لیے سماعتیں کی جاتی تھیں؟ آپ نے ایک شخص کے لیے پورے جمہوری عمل کو رول اوور کر دیا ،،، ملک کو نازک حالات کی طرف لایا گیا،،، اب آپ تین سال بعد کہہ رہے ہیں کہ سسٹم کریش کر گیا ہے،اوریہ سسٹم چل ہی نہیں سکتا،،، اب عوام کس کو پکڑیں،، اب قصور وار کون ہے؟ اب کو ذمہ دار ہے کہ جس نے جمہوری عمل کو سخت نقصان پہنچایا ،،، بلکہ ایسی ضرب لگا دی کہ جس کا خلاءصدیوں تو پورا نہیں کیا جاسکتا،،، اگر میرے خیال میں آپ اُسے پانچ سال پورے کرنے دیتے،،،پھر وہ اپنی کارکردگی سے ہار جاتا ،،، تو پھر عوام جسے چاہے حکمرانی دیتے،،، لیکن اب عوام اس سوچ میں ڈوبے ہوئے ہیں کہ اُس وقت اُنہیں اقتدار سے غلط نکالا گیا تھا؟ یا یا اب جو کچھ ہو رہا ہے وہ غلط ہے؟ اس سوال کا جواب یقینا وہ کبھی حاصل نہیں کر سکیں گے،،، کیوں کہ یہاں ”سسٹم ہی کولیپس کر گیا ہے“ ۔ لیکن آپ کچھ بھی کہیں یہ سوال آج بھی ہمارے ذہنوں میں گردش کر رہا ہے کہ ”جس بحران کے خاتمے کے لیے بانی تحریک انصاف کو جیل میں بند کیا گیا تھا، وہ ختم کیوں نہیں ہوا؟“بلکہ اس کے برعکس میں تو یہ کہتا ہوں کہ ان تین سالوں میں ملک بحرانستان بن گیا ہے،،، نہ کہیں امن، نہ کہیں عوامی ریلیف، نہ حکومتی رٹ،،، بلوچستان میں ہر طرف دہشت گردی، کشمیر کے حالات آپ کے سامنے،، جبکہ گلگت میں فوج کے ذریعے امن لانے کی کوششیں،،، بلکہ اگر کچھ ”کنٹرول“ ہوا ہے تو وہ صرف الیکٹرانک میڈیا ہے،،، یعنی اب کہیںکشمیر، بلوچستان، باجوڑ ، وادی تیراہ ، خضدار یا کہیں بھی کوئی شورش ہو، احتجاج ہو یا نقصِ امن ہو تو وہاں کی کوئی خبر مین اسٹریم چینل پر بغیر ”اجازت“ نہیں لگتی۔ اور نہ ہی تحریک انصاف کے قائدین کا کوئی بیان مین اسٹریم میڈیا پر چلایا جاتا ہے،،، کہ اس سے امن و امان کے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ آپ یقین مانیں ہم نے بد سے بدترین سیاسی بحران بھی دیکھا، مگر آج تک کسی سیاسی جماعت کو اتنا نہیں دبایا گیا، جتنا آج دبادیا گیا ہے،،، ہم نے ضیاءالحق کے دور میں قلعہ بند صعبتیں کاٹیں، پولیس ہمارے گھروں میں چھاپے مارتی ،،، مگر تمیز کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیتی،،، لیکن آج چادر اور چاردیواری کو پامال کیا جانا عام سی بات ہے،،، بلکہ ان تین سالوں میں جان بوجھ کر ایسے حالات بنا دیے گئے کہ مرجانے کو جی چاہتا ہے،،، نہیں یقین تو آپ خود دیکھ لیں کہ عدالتی نظام تباہ کردیا، من مرضیوں کے قانون بنائے گئے، پولیس کو بے اختیار و بے حیا کر دیا، حکومت بچانے کے لیے غیر ملکیوں سے غلط معاہدے کیے، اس دوران پارلیمنٹ میں بھی ”ریڈ“ ڈالی گئی، اور پھر سب سے بڑھ کر ہم نے موسٹ سینئر ججز کو پیچھے کرکے جونیئر کو سینئر بنا دیا، ہم نے ایسی قانون سازی کی کہ مخالفین کے لیے عرصہ حیات تنگ کردیا۔ لیکن اس دوران عوام کی زندگی اجیرن بنا دی گئی، پٹرول اور بجلی میں ٹیکسوں کی بھرمار کرکے وہ ٹیکس بھی عوام کے کھاتے میں ڈال دیے کہ جن کا اُن کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ بقول شاعر مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے یعنی کیا اقتدار کی ہوس ایسی ہوتی ہے؟ کہ نہ ہی آپ کو ملک کی فکر ہو، نہ آپ کو قوم کی فکر ہو، بلکہ آپ اپنے ہی عوام پر ہر طرح سے چڑھ دوڑے ہیں،،، عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات ایران اسرائیل جنگ سے پہلے کی سطح پر آگئی ہیں،،، مگر مجال ہے کہ انہوں نے پٹرولیم مصنوعات پر سے اضافی ٹیکس ختم کرنے کی جسارت کی ہو،،، انہیں شاید یہ علم نہیں ہے کہ بڑے بڑے حکمران آئے چلے گئے، ایوب خان، ضیاءالحق،ذوالفقار علی بھٹو، جنرل مشرف سب چلے گئے۔ شاہ ایران چلا گیا، صدر صدام چلاگیا، صد ر قذافی چلا گیا .... اگر آپ ابدی زندگی پر یقین رکھتے ہیں تو اس بات پر بھی یقین رکھیں کہ ،،، رہ جائے گا تو صرف نام اللہ کا۔ بہرحال اگر آپ کہہ رہے ہیں کہ سسٹم کولیپس کر گیا ہے،،، تو یہ آپ ہی نہیں کہہ رہے ، بلکہ عوام تو ایک عرصے سے ان مسائل کا ڈھول پیٹ رہی ہے،،، یعنی اگر آپ کو کسی قسم کا شک ہے کہ عوام آپ کے ساتھ نہیں ہیں یا عوام اس سسٹم سے متنفر ہو چکے ہیں تو آپ ایک غیر جانبدار سروے کروالیں،،، آپ کو پتہ لگ جائے گا کہ اس وقت پاکستان کی 100فیصد عوام کو اپنے عدالتی نظام، پولیس، پارلیمنٹ، انتظامیہ،الیکشن کمیشن ،محافظین یا اپنے کسی ادارے پر نہ تو کوئی یقین ہے اور نہ ہی اُن پر اعتماد ہے۔ پھر بھی اگر فرصت ملے تو یہ ضرور سوچیے گا کہ کیا عوام کے لیے ہم نے پٹرول سستا کیا؟ کیا ہم نے گیس سستی کی؟ کیا ہم نے بجلی سستی کی؟ کیا ہم نے روز مرہ کی اشیاءسستی کیں؟ اگر عوام نے سولر لگائے تو حکمرانوں نے اُس پر ٹیکس لگا دیے،،،جنگ شروع ہوئی توکسی ملک نے پٹرول کی قیمتیں اس تناسب سے نہیں بڑھائیں جتنی ہم نے بڑھائی ہیں،،، قصہ مختصر کہ ہم نے ان تین سالوں میں عوام کا دل تو کیا جیتنا تھا، اُلٹا اُن سے صحت کارڈ، پناہ گاہیں، احساس کارڈ سمیت متعدد سہولتیں چھین لیں۔ اور بدلے میں ہم نے اپنا پروٹوکول بڑھا لیا، ہم نے کرپشن بڑھا لی، لیکن کوئی یہ بتائے گا کہ قوم کو کیا ملا ہے؟ اگر نظام خراب ہے، تو یہ نظام عوام نے خراب کیا ہے؟ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نظام کو خوامخواہ”خراب“ نہیں بنایا گیا، بلکہ ایسا ”چالاکی سے“ بنایا گیا ہے ، تاکہ مخصوص لوگوں کو فائدہ ہو اور عام انسان ہمیشہ پستارہے۔انصاف کا نظام ایسا ہے کہ طاقتور بچ جائے اور کمزورکمزور تر ہوتا رہے۔ معاشی نظام ایسا ہے کہ امیر امیرتر اور غریب غریب تر ہو جائے۔اصل بات تو یہ ہے کہ عام آدمی تک ریلیف نہیں پہنچا۔ مہنگائی بڑھ رہی ہے۔ معیشت کے اشاریوں کے بارے میں بے شمار دعوے کیے جارہے ہیں کہ یہ بہتر ہو رہے ہیں،،، لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔ یقینا 3 سال کے دوران تحریکِ انصاف کے لیے بہت کچھ بدل گیا ہے ،،، پاکستان میں اگر کسی کے پاس تھوڑی سی بھی طاقت ہے تو وہ اُسے مذکورہ جماعت کو دبانے کے لیے استعمال کر رہی ہے،،، چاہے وہ مسلم لیگ (ن) ہو یا پاکستان پیپلزپارٹی، یا مقتدرہ۔ سبھی کی منزل ایک ہی تھی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس دوران سبھی نے کچھ نہ کچھ کھویا اور کچھ نہ کچھ پایا، مگر ملک نے کیا کھویا اور کیا پایا ہے؟ کیا یہ پایا ہے کہ ہم نے آئی ایم ایف سے تین سے چارمرتبہ قرض لے لیے، عوام کا خون نچوڑا گیا.... لیکن مسئلہ پھر وہی رہا کہ تمام تر حربوں کے باوجود حکومتی ادارے اُس کا کچھ نہیں کر سکے۔ لہٰذایہ ساری چیزیں ثابت کرتی ہیں کہ مسئلہ صرف فیصلہ کرنے والوں کی ”انا“ کا ہے، کہ اُن کے سامنے سب جھکیں! حالانکہ اُنہیں اس چیز کی قطعاََ کوئی فکر نہیں ہے کہ عوام بھوک سے مر رہے ہیں، بارشوں سے مر رہے ہیں، مہنگائی نے بھرکس نکال دیا ہے، عوام کا پیسہ اشرافیہ کو دیا جا رہا ہے، مگر فیصلہ کرنے والوں کو فرصت ہی نہیں ہے تحریک انصاف پر پابندیاں لگانے سے۔ ابھی بھی آپ دیکھ لیں کہ کیا عمران خان کو اڈیالہ جیل میں رکھنے پر اخراجات نہیں ہو رہے ہوں گے؟ ضرور ہو رہے ہوں گے۔ اُن کی سکیورٹی پر اخراجات ہو رہے ہوں گے، اُن کے کیسز پر اخراجات ہو رہے ہوں گے، اور پھرلگتا ہے کہ سپریم کورٹ بھی انہی سیاسی کیسز کے لیے رہ گئی ہے، عدالت عظمیٰ اور عدالت عالیہ بھی ہزاروں کیسز چھوڑ کر انہی سیاسی کیسز کے پیچھے لگی ہوئی ہے۔ کئی کئی سال جب ہمارے فیصلہ کرنے والے فضولیات میں وقت گزاریں گے تو ملک نے کیا ترقی کرنی ہے؟ ہمارا سوال یہ ہے کہ اگر عمران خان گناہ گار ہے تو ابھی تک اُس پر کوئی کیس ثابت کیوں نہیں ہوا؟اگر نواز شریف گناہ گارتھا تو اُسے دو سال میں کیوں نہ کوئی ٹھوس سزا ہوئی؟ان چیزوں سے تو یہی ثابت ہو رہا ہے کہ فیصلہ کرنے والی قوتیں چاہتی ہیں کہ ہر کوئی اُن کے سامنے جھکا رہے۔ جو ہم کہیں وہ مان لو، اور اگر نہ مانو گے تو ہم تمہیں گھسیٹیں گے، ماریں گے بھی اور قید میں بھی رکھیں گے۔ اور چونکہ سزا دینے کی طاقت ان کے اندر نہیں ہے ، تبھی یہ سب کو ہی اپنے پیچھے لگا کر رکھتے ہیں۔ تبھی یہ ن لیگ کو بھی گھسیٹتے ہیں، پیپلز پارٹی کو بھی گھسیٹتے ہیں اور تبھی یہ تحریک انصاف کو بھی گھیٹتے ہیں۔ آپ مانیں یا نہ ،مانیں مگر یہ حقیقت ہے کہ ملک کے خوشحال نہ ہونے کی وجہ یہی بدشگونیاں ہیں۔ بہرکیف ایک بڑی سیاسی جماعت کا لیڈر 3سال سے قید میں ہیں،ہر طرح کی فسطائیت کے باوجود نہ عمران خان اور نہ ہی تحریک انصاف اپنے نظریے سے پیچھے ہٹے،بادی النظر میں ہر گزرتے دن کیساتھ عمران خان کا نظریہ جیت رہا ہے اور حکومت زمین بوس ہی نہیں بلکہ فارم 45اور 47کے چکروں میں پھنسی ہوئی ہے ۔ لہٰذاضرورت اس امر کی ہے کہ حکمرانوں کو چاہیے کہ تحریک انصاف کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کرے، اگر وہ کہہ رہے ہےں کہ پاک فوج اور حکومت اُن کے مینڈیٹ کو تسلیم کرےں، اور آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ کی جیت ہوئی ہے تو جہاں اتنا نقصان ہوا ہے وہاں ایک شفاف الیکشن کروا کر دیکھ لیں، جس کو عوام چاہے اُسے اقتدار سونپ دیں۔ اللہ اللہ خیر صلہ۔ اس پر میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اگر دنیا میں یہ تاثر قائم ہوگیا کہ پاکستان میں شفاف قیادت آچکی ہے تو یقین مانیں جتنا پیسہ الیکشن پر خرچ ہوا ہوگا۔ اُس سے کئی گنا زیادہ بیرون ملک سے انویسٹمنٹ آجائے گی۔ لیکن آزمائش شرط ہے!