ایمان مزاری :انصاف کا جنازہ ہے، ذرا دھوم سے نکلے!

ایک بات تو طے ہے کہ اس وقت موجودہ حکومت کی کوئی اپوزیشن نہیں بلکہ یہ اپنی اپوزیشن خود ہے،،، یعنی یہ اپنے عوام کے خلاف ایسے ایسے اقدامات اور کارروائیاں کر جاتے ہیں کہ خود ہی تنقید کا باعث بن جاتے ہیں،،، آپ اس حوالے سے نوجوان وکلاءایمان مزاری اور ہادی علی کیس کو دیکھ لیں،،، ایسے ایسے بلنڈر کر رہے ہیں کہ خدا کی پناہ! ابھی کل ہی دیکھ لیں کہ شیری مزاری کی بیٹی ، اور انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی سپریم کورٹ سے سزا معطل ہوئی اور ضمانت کا حکم جاری ہوا،،، جس کے بعد اُنہیں کسی پرانے کیس میں اڈیالہ جیل سے رہائی کے بعد اسلام آباد پولیس نے دوبارہ تحویل میں لے لیاگیا، دوبارہ گرفتاری کے بعد ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا،،، پولیس نے انسداد د ہشت گر د ی عدالت سے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی،،، وہ تو عدالت کا بھلا ہو جس نے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ اب بندہ پوچھے کہ کیا سپریم کورٹ کے احکامات مذاق بن کر رہ گئے ہیں؟ اور آپ نے ہر گرفتار ہونے والے سیاسی فرد کے لیے اتنے مقدمات قائم کر رکھے ہیں کہ اگر اُنہیں کہیں سے کوئی ریلیف مل رہا ہے تو آپ نے اُسے ایسا ہونے سے پہلے ہی اگلا کیس کھو ل لینا ہے،،، اب یہ جس ”پرانے کیس“ میں وہ جوڈیشل ریمانڈ میں گئے ہیں،،، اس کیس میں اگر انہوں نے اتنا بڑا جرم کر دیا تھا تو اُس کی گرفتاری پہلے کیوں نہ ڈالی گئی؟کیا آپ انتظار کر رہے تھے کہ اگر ان کی ضمانت ہوئی تو اُنہیں کسی دوسرے مقدمے میں دوبارہ گرفتار کر لیا جائے گا،،، یہ تو پھر سیدھی سیدھی بات ہے کہ آپ کا جو دل چاہتا ہے کرتے ہیں اور جسے چاہتے اندر رکھ سکتے ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ جو بولے گا،،، اُسے اندر کردیا جائے گا؟ مطلب یہ لوگ ہٹلر کو فالو کر رہے ہیں،،، یا میسولینی کے فالوورز بن رہے ہیں؟ ویسے ہٹلر کے بارے میں تو سب جانتے ہوں گے،، مگر میں موسولینی کے بارے میں بتاتا چلوں کہ بینیتو موسولینی اٹلی کا فاشسٹ رہنما تھا۔ وہ 1922 میں اٹلی کا وزیرِاعظم بنا اور چند سالوں میں جمہوری نظام کو ختم کرکے ایک آمرانہ، یک جماعتی آمریت قائم کر دی۔ وہ 1925 سے 1943 تک عملاً اٹلی کا ڈکٹیٹر رہا۔اُس نے مخالف سیاسی جماعتوں اور غیر فاشسٹ تنظیموں کو ختم کیا ۔پریس کی آزادی محدود/ختم کی۔مخالفین کے خلاف خصوصی عدالتیں قائم کیں۔سیاسی اختلاف کو برداشت کرنے کے بجائے ریاستی طاقت استعمال کی گئی۔فاشسٹ اسکواڈز نے سیاسی مخالفین کے خلاف تشدد اور دھمکیوں کا استعمال کیا۔ خاص طور پر 1924 میں سوشلسٹ رہنما جیاکومو ماتّیوتی کے قتل کے بعد سیاسی بحران پیدا ہوا۔ اس کے بعد موسولینی نے جنوری 1925 میں کھلے طور پر آمریت کی طرف قدم بڑھایا، اور 1925-26 کے قوانین کے ذریعے اس کی طاقت بہت زیادہ بڑھ گئی۔موسولینی کے اقتدار کی ایک نمایاں ”خصوصیت “تھی کہ موسولینی صرف اندرونی جبر تک محدود نہیں تھا؛ اس کی حکومت نے ایتھوپیا پر حملہ، نوآبادیاتی جنگیں، اور بعد میں نازی جرمنی کے ساتھ اتحاد بھی اختیار کیا۔ 1938 میں اس کی حکومت نے یہودیوں کے خلاف امتیازی قوانین بھی نافذ کیے۔جس کے بعد دونوں ملکوں جرمنی اور اٹلی نے ظلم کی انتہا کر دی۔ ویسے ہمارے حکمران یقینا ان اس نہج تک نہیں پہنچیں گے،،، مگر رحم کی کوئی گنجائش بھی نہیں چھوڑ رہے،،، سوال یہ ہے کہ کیا آزاد ریاستیں ایسے اقدامات کرتی ہیں؟ اگر نہیں تو پھر میں یہی کہوں گا کہ یہ عوام کا پاکستان نہیں بلکہ ”شہباز شریف کا پاکستان“ ہے،،، یا ان کے وزیروں کا پاکستان ہیں ،،، جو مخالفین پر بنائے جانے والے ہر کیس میں ایسی ایسی زبان استعمال کرتے ہیں کہ سر شرم سے جھک جائیں،،،کیا اس سے یہ نہیں لگتا کہ آپ خود انقلاب کو دعوت دے رہے ہیں،،،اگر ایسا ہے تو پھر اس چیز کو آپ بھگتیں گے،،، کیوں کہ جب عدالتیں حکومتی اشاروں پر چلنے لگتی ہیں،،، یا عدالتیں انصاف فراہم نہیں کرتیں ،،، یا جب ریاست میں انصاف کا جنازہ نکالا جاتا ہے تو پھر لوگ خود ہی انصاف لینے کی کوششیں کرنا شروع کر دیتے ہیں،،، جس سے خانہ جنگی بڑھتی ہے،،، اور پھر آپ خود ثابت کر رہے ہیں کہ جو آپ نے 26ویں اور 27ویں ترمیم کروائی تھی وہ آپ نے ذاتی مفادات کے لیے کروائی تھی،،، اُس کا عوام کے مفادات کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں ہے، آپ کو تو ویسے اپنے برادر ملک بنگلہ دیش سے ہی سبق سیکھ لینا چاہیے، جب وہاں حسینہ واجد کی حکومت تھی تو اُس وقت وہاں پر بھی اپنے مخالفین کو سزائیں دینے کے لیے بڑے بڑے خفیہ جیل خانے رکھے گئے تھے،،، کیا آپ نے بھی تو ایسا نہیں کر رکھا؟ بہرحال ابھی بھی وقت ہے کہ چھوٹی چھوٹی حرکتوں سے اپنا قدمزید چھوٹانہ کریں ،،، دوسرے ملکوں میں بھی حکومتیں ڈنڈی مارتی ہیں،،، لیکن وہ شاذو نادر کیس ہوتا ہے،،، مگر آپ تو ہر کیس میں ایسا کرنا شروع ہوگئے ہیں،،، ضیاءالحق کے دور کو آپ دیکھ لیں،،، اُس وقت بھی ایک آدھ فیصلہ عدالتوں سے اپنی مرضی کا کروایا جاتا تھا، لیکن اب دیکھ لیں، 100میں سے ایک آدھ کیس کا فیصلہ میرٹ پر آتا ہے، جبکہ باقیوں کا اللہ ہی حافظ ہوتا ہے،، ایک طرف آپ کہتے ہیں کہ ہمارے مخالفین کا نام نہ تو ٹی وی پر آئے اور نہ ہی اخبارات میں پرنٹ ہو، لیکن ایسے کیسز کے بعد تو آپ خود اُن کی کروڑوں روپے کی ایڈورٹائزنگ کر دیتے ہیں،، یعنی ایمان مزاری کے ساتھ جو کچھ آپ کر رہے ہیں،،، اُس پر تو آپ نے خود موقع دیا ہے کہ سوشل میڈیا پر عوام آپ کے کپڑے اُتارے۔ اگر آپ اس کیس کو روٹین میں ڈیل کرتے ہیں،،اور ضمانت کو ضمانت سمجھتے ہیں تو اس سے کم از کم پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کا مذاق نہ بنایا جاتا ،،، بلکہ اُس عدالت کا مذاق نہ بنتا کہ جس کے بارے میں کہا جارہاہے کہ وہ رات کو کھولی گئی تھی،،، یعنیایڈوکیٹ فیصل صدیقی کے مطابق جس کیس میں گرفتاری ڈالی گئی ہے،،، وہ ڈیڑھ سال پرانی ایف آئی آرہے جس کے بارے میں انہیں بھی معلوم نہیں تھا اور یہ کہ ایمان اور ھادی کیخلاف تمام مقدمات کی تفصیل مانگنے واسطے اسلام آباد ہائی کورٹ میں تقریباً ایک سال پہلے سے دائر درخواست آج تک سماعت کے لئیے مقرر ہی نہیں کی گئی۔ انکا یہ بھی کہنا تھا کہ ایمان مزاری اور ھادی کو کسی عدالتی حکم نامے کے بغیر اڈیالہ جیل سے کیسے نکالا گیا اور ایک دوسرے مقدمے میں ریمانڈ کے لئیے پیش کر دیا گیا۔یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ اس پرانی ایف آئی آر میں دھشت گردی کی دفعہ ابھی حال ہی میں شامل کی گئی ہے۔ اور یہ دفعہ کمپیوٹر کی بجائے ہاتھ سے لکھی گئی ہے۔ ریمانڈ کی درخواست میں ڈنڈا برآمدگی وجہ بیان کی گئی جو مجسٹریٹ نے مسترد کرتے ہوئے ایمان اور ھادی کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا۔ ایسے میں درخواست ضمانت دائر کی جا سکتی ہے اور صرف امید ہی کی جا سکتی ہے کہ دونوں کو 27ستمبر سے پہلے ضمانت پر چھوڑ دیا جائیگا۔ بہرحال اس ملک کی بربادی میں سب سے بڑا ہاتھ دنیا کی ریٹنگ میں 139 نمبر والی عدلیہ ہے جہاں غریب کے لیے قانون اور، اور امیر کے لیے قانون اور ہے۔ اگر ملک کی سب سے بڑی عدالت ہی نظام سکہ چلائے گی تو انصاف کیا ہو انصاف کا جنازہ ہے زرا دھوم سے نکلے گا،،، بہرحال سوال یہ ہے کہ آخر یہ سب کیا ہو رہا ہے؟کہ اس مقدمے کے لیے رات کے 10 بجے عدالت پھر کھول دی گئی۔ایک طرف عدالت ضمانت منظور کرکے رہائی کا حکم دیتی ہے، دوسری طرف رہائی سے پہلے ہی دوبارہ گرفتار کرکے رات گئے عدالت میں پیش کر دیا جاتا ہے۔کیا قانون صرف کاغذوں تک محدود رہ گیا ہے؟یہ معاملہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کا نہیں، بلکہ اس قانونی نظام کے سامنے ایک سنگین سوال ہے۔حالانکہ ایمان مزاری کی دوسروں کا خیال رکھنے والی نوجوان لڑکی ہے،،، اور ہمیں نوجوانوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک روا نہیں رکھنا چاہیے،،، اُن کے بارے میں تو ایک صحافی خاتون کہتی ہیں کہ جب اُنہیں کینسر کی تشخیص ہوئی تو سب سے پہلے مجھے ایمان کا ہی فون آیا تھا،،، اور پھر اُس نے ملنے کا اظہار کیا، مگر میرا علاج چل رہا تھا اور نہ مل سکی،،، لیکن میں جب علاج کے بعد صحتیاب ہوئی تو اُس وقت تک ایمان کو گرفتار کیا جا چکا تھا۔وہ کہتی ہیں کہ پھر2025 میں ایک بار پھر پریس کلب کے سامنے بلوچ مسنگ پرسنز کے دھرنے میں ان سے ملاقات ہوئی۔ میں وہاں دو دن گئی اور دیکھا کہ ایمان اُن لوگوں کا اس طرح خیال رکھ رہی تھیں جیسے وہ اُن کے اپنے کھوئے ہوئے ہوں۔ بہرحال جمہوریت کا حسن یہی ہوتا ہے کہ ریاست سخت سوالات کا جواب طاقت سے نہیں بلکہ دلیل سے دیتی ہے۔ اگر ایمان مزاری کے مو¿قف میں غلطی ہے تو اسے قانونی اور فکری سطح پر چیلنج کیا جانا چاہیے، نہ کہ ہتھکڑیوں کے ذریعے۔ کیونکہ ہتھکڑی دلیل کو کمزور اور بیانیے کو مضبوط کر دیتی ہے۔ایمان مزاری کی کہانی دراصل پاکستان کے مجموعی سیاسی کلچر کی عکاس ہے۔ یہ کہانی ہمیں بتاتی ہے کہ ہم اب تک یہ فیصلہ نہیں کر سکے کہ اختلافِ رائے کو برداشت کرنا ہے یا دبانا۔ ہم آئین میں آزادی اظہار کو مانتے ہیں، مگر عملی طور پر اس سے خوف زدہ رہتے ہیں۔ ہم جمہوریت کی بات کرتے ہیں، مگر اختلاف کو بغاوت سمجھ لیتے ہیں۔اور پھر ایمان مزاری کا معاملہ کسی ایک فرد کا نہیں، بلکہ ریاست اور سماج کے درمیان تعلق کا امتحان ہے۔ اگر پاکستان ایک بالغ جمہوریت بننا چاہتا ہے تو اسے ایمان مزاری جیسی آوازوں سے لڑنے کے بجائے انہیں سننا سیکھنا ہو گا۔ کیونکہ ریاستیں آوازوں کو دبانے سے نہیں، اعتماد اور مکالمے سے مضبوط ہوتی ہیں۔ بہرکیف سوال صرف یہ نہیں کہ قانون کیا کہتا ہے، سوال یہ بھی ہے کہ قانون کا اطلاق کیسے ہوتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایمان مزاری کا کیس محض ایک قانونی معاملہ نہیں رہتا بلکہ سیاسی اور اخلاقی بحث بن جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر واقعی قانون سب کے لیے برابر ہوتا تو پھر بڑے طاقتور حلقوں کی زبان سے نکلنے والے بیانات بھی اسی کسوٹی پر پرکھے جاتے۔ مگر اکثر دیکھا گیا ہے کہ قانون کی گرفت کمزور پر سخت اور طاقتور پر نرم رہتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایمان مزاری کو گرفتار کر کے حکومت نے شاید یہ سمجھا کہ ایک آواز خاموش ہو جائے گی، مگر نتیجہ اس کے برعکس نکلا۔ ایمان مزاری زیادہ نمایاں ہو گئیں، ان کا نام زیادہ لوگوں تک پہنچا اور ان کے مو¿قف کو زیادہ توجہ ملی۔ یہ تاریخ کا پرانا سبق ہے کہ اختلاف کو دبانے سے اختلاف ختم نہیں ہوتا، بلکہ پھیلتا ہے۔اس لیے سرکار ہوش کے ناخن لے،،، اور قانون کو مذاق نہ بنائے!