لانگ مارچ : تمام اسٹیک ہولڈرز عقل کے ناخن لیں!

ستمبر، اکتوبر پاکستان کی سیاست کے لیے ہمیشہ مشکل ترین رہا ہے، انہی مہینوںمیں دو مارشل لاءلگے، خان لیاقت علی خان کو قتل کیا گیا، سال کے انہی دنوں 1988 ءمیں آٹھ سیاسی جماعتوں کا اسلامی جمہوری اتحاد بنا، 90اور 93اور 2002کے عام انتخابات انہی تاریخوں میں ہوئے، عمران خان کا پہلا سونامی بھی ستمبر، اکتوبر کو آیا۔ پھر انہی کی حکومت کے خلاف بھی جو تحریک چلی وہ بھی انہی دنوں چلی اور میں مولانا فضل الرحمن نے اسلام آباد پر چڑھائی کی ۔ اور پھر پی ڈی ایم بھی ستمبر ہی میں بنی۔ اور اب ایک بار پھر انہی مہینوں میں تحریک انصاف اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کرنا چاہ رہی ہے،،، جس کے لیے سینکڑوں قائدین سمیت ہزاروں کارکنوں کو گرفتار بھی کیا جا رہا ہے اور اُنہیں ڈرایا دھمکایا بھی جا رہا ہے،،، جبکہ پورے اسلام آباد میں ہزاروں کی تعداد میں کنٹینرز لگا کر عوام کا جینا محال کر دیا گیا ہے،،، حالانکہ ابھی مارچ کو ایک ہفتہ پڑا ہوا ہے،، لیکن حکومت اس قدر بوکھلاہٹ کا شکار ہے کہ ہر طرف افراتفری کا ماحول بنا ہوا ہے،،، خاص طور پر اسلام آباد والے تو ہر بار سرپکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ آخر اُن کا قصور کیا ہے؟ پہلے ہی زندگی عذاب بنی ہوئی ہے، نہ پاکستان میں کاروبار ہیں، نہ مہنگائی کنٹرول میں ہے اور نہ کہیں انصاف ۔ اور اوپر سے اسلام آباد کو یہ ہر سال ”کنٹینرآباد“ بنا دیتے ہیں۔ نہیں یقین تو آپ خود دیکھ لیں کہ حالیہ سالوں میں اسلام آباد کی طرف اب تک 15 لانگ مارچ، جن میں ہر بڑی سیاسی جماعت‘ مذہبی گروہ اور وکلا کی تحریک شامل ہے‘ کیے جا چکے ہیں۔ 20 ستمبر کا جماعت اسلامی کا ”لانگ مارچ“ اس کی اپنی تاریخ کا دوسرا بڑا اور اسلام آباد کی تاریخ کا پندرہواں لانگ مارچ ہے۔ویسے تو معذرت کے ساتھ یہ لانگ مارچ مذاق سے کم نہیں ہوتے،،، کیوں کہ ان میں محض کارکنوں کی شرکت کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا ،،، حالانکہ لانگ مارچ تو ماﺅزے تنگ وغیرہ کی پیداوار ہیں،،، جنہوں نے لاکھوں کا مجمع اکٹھا کیا اور کئی دن تک بھوکے پیاسے چلتے رہے،،، یا مہاتما گاندھی جی کا نمک مارچ آپ پڑھ لیں کہ اُنہوں نے برطانوی سامراج کے خلاف اپنے 80 ساتھیوں کے ساتھ گجرات میں سبرمتی آشرم سے ساحلی گاو¿ں ڈانڈی کی طرف پیدل سفر شروع کیا۔اور 6 اپریل 1930ءکو یہ مارچ سمندر کے کنارے پہنچا،،، جہاں گاندھی نے خود نمک بنا کر برطانوی حکومت کا نمک قانون توڑا، اس مارچ کا مقصدمقصد برطانوی حکومت کے ظالمانہ نمک ٹیکس اور اجارہ داری کے خلاف آواز اٹھانا اور سول نافرمانی کی تحریک کو فروغ دینا۔اس مارچ میں اُنہیں کتنی تکالیف اُٹھانا پڑیں ،،، وہ الگ باب ہے،،، لیکن ہمارے مارچ یا تو فرینڈلی ہوتے ہیں، یا اُس میں معیشت پر برا اثر پڑتا ہے، یا دنیا میں لڑائی جھگڑے کے علاوہ ہم کوئی پیغام نہیں دیتے،،، اس بار بھی کچھ ایسا ہی ہونے جا رہا ہے،،، اور ایک بار پھر پاکستان مشکلات سے گزرنے والا ہے،،، کیوں کہ 1971 کی جنگ ہو، بھٹو کے دھاندلی زدہ الیکشن ہوں، جنرل ضیاءالحق کا مارشل لاءہو، 1985ءکے غیر جماعتی الیکشن ہوں، 90کی دہائی کی سیاست ہو، 99ءکا مارشل لاءہو، بے نظیر کی شہادت ہو، 2013ءکا دھاندلی زدہ الیکشن ہو، 2014-16کے دھرنے ہوں، ڈان لیکس ہو، 2018ءکا الیکشن ہو ، تحریک لبیک کے دھرنے ہوں یا 9اپریل کی کامیاب تحریک عدم اعتماد ہو۔ جب جب بھی بڑوں کی لڑائی ہوئی ”گھر“ کا ستیاناس ہوگیا۔ کیسے؟ مثلاََاگرآپ کسی کام کرنے کی جگہ یا گھر ہی لے لیںجہاں آپ رہ رہے ہوں، وہاں ”بڑوں“ کی لڑائی ماحول میں کیسا بگاڑ پیدا کرتی ہے یہ آپ سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا۔ یہی ملک کے ساتھ ہو رہا ہے۔ آج جب تحریک انصاف اپنے مطالبات کے لیے سڑکوں پر ہیں، جماعت اسلامی دھرنے دیے ہوئے ہیں،،، مگر حکومت ہٹ دھرمی اختیار کیے ہوئے ہے،،، یا اُنہیں نیچا دکھانے کے لیے اصل مسائل سے توجہ ہٹائے ہوئے ہے۔ حالانکہ ملک پہلے ہی نہیں چل رہا، معیشت وینٹی لیٹر پر ہے، کاروبار تباہ ہوچکے ہیں، بڑے بڑے دعوے کرنے والے سائنسدان قسم کے معیشت دان جانے کدھر غائب ہو گئے ہیں۔ نہ کوئی بیان، نہ پٹرول مافیا کے خلاف کارروائی.... بس ایک ہی رٹ کہ عالمی سطح پر حالات خراب ہےں،،، اس لیے ہم کچھ نہیں کر سکتے،،، بھئی اگر عالمی سطح پر قیمتیں بڑھ رہی ہیں تو آپ لیوی ختم کر کے دیکھ لیں،،، آپ لوگ تو تجربہ کار ہیں، کئی دہائیوں سے آپ دونوں جماعتوں نے اس ملک پر حکومت کی ہے تو اب کس منہ سے اپنی بری کارکردگی کو چھپا رہے ہو؟اور پھر اگر کوئی حل نہیں نکال سکتے تھے تو لڑ جھگڑ کر حکومت کیوں لی؟ خیر یہ تو الگ بحث ہے مگر اس وقت حکومت وقت کو ہوش کے ناخن لینے چاہیئں اور معاملات کو سنبھالنے کے لیے تحریک انصاف سے بات چیت کرے، مذاکرات کرے ۔ ورنہ بقول شخصے” کسی کا کچھ جانا نہیں اور ملک کا (خاکم بدہن) کچھ رہنا نہیں! بہرحال فی الوقت مجھے تو یہ بات سمجھ ہی نہیں آرہی کہ یہ پاکستان کو کہاں لے کر جا رہے ہیں۔ پاکستان کے پلے کیا چھوڑ رہے ہیں، دوچار لوگ اپنے مفاد کے لیے ایگو بنا کر جو پاکستان کے ساتھ کر رہے ہیں، تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اگر وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے اقتدار کو درست ثابت کرنا ہے، اگر کچھ شخصیات کو ساتھ لے کر چلنا ہے ہے، اگر آپ نے ایک پارٹی پر پابندی لگانی ہے، اُس کے ورکرز پر روزانہ دسیوں مقدمات کرنے ہیں تو پھر ٹھیک ہے ایسا ہی ہوگا۔ جیسا چل رہا ہے۔ آپ بے رحم طریقے سے اپنے مطابق آئین میں تبدیلیاں کر رہے ہیں،اور یہ بات تحریک انصاف بھی خوب جانتی ہے ، کہ یہ لوگ آئینی ترامیم کے ذریعے اپنے اقتدار کو مضبوط کرنا چاہ رہے ہیں، من پسندوں بندوں کو اوپر لانا چاہ رہے ہیں تاکہ یہ مرضی کے فیصلے کروا سکیں۔ قصہ مختصر کہ جس جماعت کو اقتدار میں آنے سے روکنے کے لیے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے تو کیا وہ اپنے بچاﺅ کے لیے اوچھے ہتھکنڈے بھی استعمال کریں گے، کارکنوں کو بھی بیچ میں لائیں گے اور عوام کو بھی بیچ میں لے آئیں گے۔ ایسے میں پی ٹی آئی جائے تو کہا ں جائے؟ اور پھر جب سب کے علم میں ہے کہ نہ تو عمران خان سے ملاقات کروائی جا رہی ہے ، اور نہ اُسے انصاف دلایا جا رہا ہے،،، تو وہ اس کی شکایت کس کو کرے؟ سپریم کو رٹ کو کرے؟ وہاں تو اس کی سنوائی نہیں ہورہی۔ اور جن ججز سے خطرات ہیں کہ یہ حق پر مبنی فیصلے کرسکتے ہیں ، آپ نے اُنہیں محدود کردیا ہے۔ تو ایسے میں تحریک انصاف کیا کرے؟ کیا وہ ایسی صورتحال میں میدان خالی چھوڑ دیں؟ کہ آﺅ اور جو مرضی کرو ہمارے ساتھ؟ ہمیں جتنی ہوسکتی ہیں، سزائیں دو۔ ہمارے ساتھ سب کچھ کرو اور ہو سکتا ہے کہ پی ٹی آئی کے مزید دھڑے بھی بنا لو۔ جس طرح ایم کیو ایم یا دیگر جماعتوں کے بنائے گئے تھے۔ خیر موجودہ حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے کہ کل کو انہوں نے بھی اپوزیشن میں آنا ہے، پھر ان کا کیا حال ہوگا؟ پھر یہ لوگ ملک تک محدود نہیں رہتے بلکہ سعودیہ عرب، یو اے ای یا امریکا و برطانیہ سے شکوے شکایات کرتے ہیں کہ دیکھیں! ہم نے آپ کے لیے کیا کچھ نہیں کیا؟ مگر پاکستان میں ہمارے ساتھ یہ ظلم ہو رہا ہے۔ اور پھر یہ اپنی دفعہ جب ان کی جماعت کے وزیر اعظم کو 2017ءمیں صرف ڈسکوالیفائی کیا تھا، حالانکہ گورنمنٹ برقرار رکھی گئی۔ کیا اُس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے ہر جگہ جلسے جلوس نہیں کیے تھے؟ کیا انہوں نے ”مجھے کیوں نکالا“ کے عنوان سے لانگ مارچ نہیں نکالا تھا؟ کیا اُس وقت انہوں نے آسمان سر پر نہیں اُٹھا لیا تھا؟ اُس وقت عدلیہ کے خلاف کیا کچھ نہیں کیا گیا ؟ اداروں کے بارے میں کیا کچھ نہیں کہا گیا؟ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ کس نے متعارف کروایا؟ کیا ان کو یہ نظر نہیں آتا کہ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگانے والوں نے خود پورا الیکشن ہی چوری کر لیا۔ اگر میری بات پر کسی کو یقین نہیں تو کیا میں اُس وقت کے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کے الفاظ دہرا دوں؟ جنہوں نے ن لیگی رہنما سے کہا تھا کہ فارم 47پر بات کی تو آپ کو او رن لیگ کو منہ چھپانے کی جگہ نہیں ملے گی، کیا ان سب چیزوں کے بعد تحریک انصاف خاموش رہے؟ اور اب مخصوص نشستیں جو ایک جماعت کا حق بنتی ہیں وہ بھی نہیں دے رہے۔اُس کا کیا؟ قصہ مختصر کہ تحریک انصاف پر یقینا یہ کڑا وقت ہے، بقول شاعر دل نہ کرو یوں ب±را وقت گزر جائے گا وقت گزرتا رہا وقت گزر جائے گا لیکن کیا یہ ظلم نہیں ہے کہ ان کے کارکنان کو جو 9مئی کے کیسز میں اندر ہیں،ساڑھے تین سال سے زائد کا عرصہ ہونے کو ہے مگر اُنہیں پابند سلاسل کیا ہوا ہے، یہ آج تک اُنہیں سزائیں تو دے نہیں سکے۔ سنگجانی جلسے میں ان پر جو الزامات لگائے گئے، وہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے مضحکہ خیز قرار دیے۔ اور اب جو اسلام آباد میں ہمارا ایک پولیس اہلکار شہید ہوا ہے ، اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ، مگر یہ حالات پیدا کون کر رہا ہے؟ مظاہرین کو احتجاج کے لیے ان کو کس نے تیار کروایا؟ کیا اس کی ذمہ دار ریاست نہیں ہے؟ لہٰذاہم اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ آیا ریاست کے اہم ترین فیصلے کون کر رہا ہے؟ کس کے مفاد میں کر رہا ہے، اور یہ کیوں نہیں سوچا جا رہا کہ بھائی اس کے دیرپا اثرات کیا مرتب ہو سکتے ہیں؟ بہرکیف حکمران یہ چاہتے ہیں کہ اکثریت اقلیت کی زیادتی کے خلاف خاموش رہے؟ یہ ملکی مفاد میں ہے؟ آپ چاہتے ہیں کہ ظلم بھی ہو اور خاموش بھی رہا جائے یعنی بقول شاعر حبیب جالب کے ظلم رہے اور امن بھی ہو کیا یہ ممکن ہے؟ تم ہی کہو بہرکیف ریاست احتجاج کے لیے جگہ مختص کر دے ، تحریک انصاف پر پابندیاں لگانے کے بجائے اُس سیاسی ماحول فراہم کرے، تحریک انصاف کو بھی چاہیے کہ اُس کی صف اول قیادت احتجاج کو آئے، اور میرے خیال میں وطن عزیز کی خاطر تمام اسٹیک ہولڈرز ہوش کے ناخن لیں اور بیٹھ کر ملک کے بارے میں سوچیں ورنہ بہت دیر ہو جائے گی!