خیبر پختونخوا میں گورنر راج ؟تاریخ پڑھ لیں!

تحریک انصاف 27ستمبر کے احتجاج کو 4اکتوبر پر لے گئی،،، یہ چکما شاید حکومت کے لیے وقتی ریلیف ضرور ہوگا مگر اس وقت ملک میں عجیب صورتحال ہے،، ایک طرف آزاد کشمیر میں کالعدم ایکشن کمیٹی کا احتجاج جاری ہے دوسری طرف پاکستان کسان اتحاد سڑکوں پر نکلنے کا عندیہ دے رہی ہے جبکہ جماعت اسلامی کالانگ مارچ بھی مختصر وفقے کے لیے موخر کیا گیا ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ ملک کا سسٹم کیسے چلے گا اور کون چلائے گا؟ دوسری طرف اسلام آباد کے حالات دیکھیں تو یہاں کے شہری تنگ آ چکے ہیں۔ پورا شہر سیاسی احتجاجوں کے حصار میں ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس بار دارالحکومت کی طرف ایک نہیں بلکہ مختلف سیاسی اور سماجی گروہوں کے مارچ متوقع ہیں۔ حکومت اور انتظامیہ نے اس صورتحال کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات نہایت سخت کر رکھے ہیں۔ کنٹینرز کے ذریعے اہم شاہراہوں اور داخلی و خارجی راستوں کو کبھی بند کیا جاتا ہے تو کبھی کھول دیا جاتا ہے،،،جس سے عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے،،، اور حکومت اب اس حوالے سے اس کا مستقل حل سوچ رہی ہے کہ گورنر راج لگا دیا جائے،،، اگر ایسا ہوگیا تو یہ پاکستان میں پہلی مرتبہ نہیں ہوگا،،،بلکہ درجنوں بار پہلے ہی صوبوں میں ایسے اقدامات کیے جاچکے ہیںاور اب کی بار بھی شاید حالات مزید بگڑ جائیں،،، کیوں کہ گورنر راج لگانے اور مارشل لاءلگانے میں کوئی خاص فرق نہیں ہے،،، دونوں میں جمہوری طاقت کو دبانا مقصود ہوتا ہے،،، اور جب آپ اسے دباتے ہیں تو پھر وہ دب کر اُبھرتی ہے،،، اور یہ کے پی کے کا علاقہ ہے،،، یہاں بھی بلوچستان کی طرح غیور اور جنگجو لوگ ہیں،،، پنجاب کی طرح کے پرامن لوگ نہیں ہیں،،، کہ ہم دبا لیں گے،،اور وہ دب جائیں گے۔۔۔ کیوں کہ آپ یہیں سے اندازہ لگالیں کہ آپ انہیں گزشتہ ایک عرصے سے دبا رہے ہیں،، لیکن نہ یہ تحریک انصاف سے بدظن ہو رہے ہیں ، نہ عمران خان سے اور نہ ہی اینٹی اسٹیبلشمنٹ کی روش میں تبدیلی آرہی ہے۔ چلیں !آپ اسی پر ہی سوچ لیں کہ یہ لوگ اسے کب سے دبانے میں لگے ہوئے ہیں،،، کیا یہ دبا ہے؟ کیا بلوچستان کے لوگ دبے ہیں؟تو یہ غلطی نہ کریں،،، ہر وقت انا کو آڑے نہ آنے دیں،،، خدارا ! ملک کو دیکھیں،،، ان کے جو جائز مطالبات ہیں کم از کم وہ ہی مان لیں،،،جیسے سرکار اگر بانی تحریک انصاف کا علاج الشفاءہسپتال سے کروا دیتی تو اس میں کیا ہی حرج تھا؟ یا اگر آپ اُن سے اُن کے خاندان کی ملاقاتیں اور اُن کی وکلاءتک رسائی ممکن بنا دیتے ہیں تو اس میں مسئلہ ہی کیا ہے؟ لیکن آپ نے ملاقاتیں تو دور کی بات، اُن کی بہنوں کو ہی گرفتار کر لیا،،، کیا اس عمل کو دنیا بھر میں پسند کیا گیا؟ یعنی آپ اپنی انا اور ضد کی وجہ سے سب کچھ کھوتے جا رہے ہیں،،، حتیٰ کہ جو لوگ آپ کے حامی تھے،،، وہ بھی آپ سے کنی کترارہے ہیں،،، کل کو آپ نے ووٹ لینے کے لیے عوام کے پاس ہی جانا ہے،،، یعنی ہر مرتبہ جھرلو نہیں پھر سکتا،،، کبھی کبھی عوام بھی منہ زور ہو جایا کرتے ہیں۔ اس لیے سیاسی پارٹی کو عوام میں مقبولیت جیسے اقدامات کرنے چاہیے،،، ناکہ اشرافیہ کو خوش کر نے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ اشرافیہ نے تو آپ کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرکے پھینک دینا ہے،،، پھر آپ کیا کریں گے؟ عوام میں آئیں گے؟ پھر عوام بھی آپ کی بات نہیں سنے گی تو پھر آپ پچھتائیں گے۔۔۔ لہٰذا ہر وقت انا کوآگے رکھنے سے ملک تباہ ہو جائے گا،،، نہیں یقین تو خود دیکھ لیں کہ تاریخ میں جب بھی گورنر راج لگایا گیا، حالات بگڑتے چلے گئے، اس کی سب سے بڑی مثال مشرقی پاکستان کی علیحدگی دیکھ لیں،،، اُس وقت مشرقی پاکستان میں پہلا گورنر راج 1954میں اُس وقت لگایا گیا جب متحدہ محاذ نے صوبائی انتخابات میں مسلم لیگ کو بھاری شکست دی۔یہ وہاں پر جمہوری فتح تھی، مگر جب حسین شہید سہروردی، فضل الحق اور دوسرے رہنما حکومت سازی کی تیاری کر رہے تھے،تو گورنر اسکندر مرزا نے اچانک اسمبلی برخاست کر کے گورنر راج نافذ کر دیا۔اور وجہ یہ بتائی گئی کہ صوبے میں امن و امان کی بگڑتی صورت حال اور انتظامی مسائل کنٹرول سے باہر ہو گئے ہیں،،، اس حوالے سے اُس وقت کے اخبارات میں خاصی جگ ہنسائی ہوئی لیکن ہم اُس وقت بھی اچھے خاصے ڈھیٹ پن کا مظاہرہ کرتے تھے۔ کہ کہیں کسی صوبے میں مرکز کا کنٹرول نہ ختم ہو جائے اور مشرقی پاکستان میں کہیں عوامی حکومت نہ آجائے۔ اور اسی پہلے گورنر راج کے بعد پہلا موقع تھا جب بنگالیوں کو لگا کہ وفاق جمہوری حق نہیں دے رہا۔اور یہیں سے بنگالی قوم پرستی نے جنم لیا۔ پھر وہاں دوسرا گورنر راج 1958ءمیں لگا، جب صدر اسکندر مرزا نے ملک بھر میں مارشل لا نافذ کیا۔اس کے نتیجے میں مشرقی پاکستان سمیت تمام صوبوں میں گورنر راج لگا دیا گیا۔جس کے بعد صوبائی خودمختاری مکمل طور پر ختم ہو گئی۔فوجی نظم و نسق نے مقامی سیاست کو دبایا۔بنگالی عوام کو احساس ہوا کہ مرکز ان پر فوجی حکمرانی مسلط کر رہا ہے۔پھر تیسرا گورنر راج 1969ءمیں لگایا گیا جس کی بڑی وجہ وہاں پر ایوب خان کے خلاف تحریکیں چل رہی تھیں،،، ایوب نے استعفیٰ تودے دیا مگر اقتدارجیسے ہی جنرل یحییٰ خان کے پاس آیا تو انہوں نے پورے ملک میں مارشل لا کے ساتھ گورنر راج نافذ کردیا۔ جس سے مشرقی پاکستان کے عوام کو ایک بار پھر جمہوری نمائندگی سے محروم کر دیا گیا۔مشرقی پاکستان میں بار بار گورنر راج لگانے کے نتیجے میں جمہوری ادارے تباہ ہوئے، وفاق پر اعتماد ختم ہو گیا، بنگالی عوام میں احساسِ محرومی انتہا کو پہنچا اور بالآخر 1971 میں علیحدگی اور بنگلہ دیش کے قیام تک نوبت پہنچ گئی۔اور پھر یہ سب کچھ کہنے سننے میں شاید آسان لگے ، لیکن ان گورنر راجوں میں مشرقی پاکستان میں بہت سوں کو قتل کردیا گیا، ،، ہماری 90ہزار فوج کو وہاں ہتھیار ڈالنا پڑے ،جس سے ہماری خوب جگ ہنسائی ہوئی۔ اور پھر اہم ترین بات یہ ہے کہ ہم نے اس سے کبھی سبق بھی سیکھنے کی کوشش بھی نہیں کی۔ اور ہم نے بار بار بلوچستان میں گورنر راج لگا کر وہاں کے حالات بھی اس قدر خراب کردیے کہ اب سدھرنے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ یہاں گورنر راج عموماً وفاق اور صوبے کے درمیان سیاسی یا عسکری کشمکش کے وقت لگایا گیا،اور اس کے نقصانات صرف سیاسی نہیں بلکہ سماجی اور سلامتی کے لحاظ سے بھی بہت گہرے رہے ہیں۔اور پھر سندھ اور پنجاب میں بھی تین تین مرتبہ گورنر راج لگے مگر یہ بھی مارشل لاﺅںکا نتیجہ رہے جس نے سیاسی اور جمہوری نظم کو مزید کمزور کیا۔اور پھر یہ بات تو طے ہے کہ پاکستان میں اکثر گورنر راج سیاسی اختلافات یا حکومت گرانے کے لیے استعمال ہوا۔اس سے سیاست میں بداعتمادی اور انتقام کی فضا پیدا ہوئی۔کیوں کہ جب سیاسی نظام معطل ہوتا ہے تو انتظامی مشینری غیر مو¿ثر ہو جاتی ہے۔افسران غیر یقینی صورتِ حال میں فیصلے لینے سے گریز کرتے ہیں، اور ترقیاتی منصوبے رک جاتے ہیں۔اور سب سے اہم بات کہ گورنر راج عوامی رائے کے برخلاف ہوتا ہے، اس سے احتجاج، ہڑتالیں اور بدامنی بڑھ جاتی ہے۔ بہرکیف جہاں پر بھی زندگی میں گورنر راج لگایا گیا ہے، کیا وہاں پر بہتری ہوئی ہے؟ یقینا جس نے بھی ایسا کیا اُس نے اپنی حکومت کو کمزور کیا تھا، وہ طاقتور نہیں ہوئی تھی،،، اور ویسے بھی جیسا میں نے کہا کے پی کے ،،، زمینی اور کلچرکے حساب سے پنجاب سے مختلف ہے،،، کیوں کہ ایک تو وہ پہاڑی علاوہ ہے، دوسرا آپ اُن کے گھروں میں راتوں کو گھس نہیں سکتے، اور نہ ہی اُن کے خاندان کو نقصان پہنچا سکتے ہیں،،، یا ہراساں کر سکتے ہیں۔ وہاں پھر غیرت کا مسئلہ آڑے آئے گا،،، اور یہ ملک کو آگ میں دھکیلنے کے مترادف ہو گا،،، الغرض آپ تحریک انصاف کو خود مقبولیت دے رہے ہیں،،، کیوں کہ آپ اُسے عوام سے ہمدردی کا ووٹ لے کر دینا چاہتے ہیں،،، اور عوام بھی اُسے ہی ووٹ دیتی ہے، جس پر ظلم ہو رہا ہو،،، نہیں یقین تو تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں،،، کہ جو سلوک آج تحریک انصاف کے ساتھ ہو رہا ہے،،، یہی سلوک ضیاءدور میں پیپلزپارٹی کے ساتھ 11سال تک ہوتا رہا،،، تو کیا وہ اقتدار سے آﺅٹ ہو گئی؟کیا مقتدرہ اُسے دبانے میں کامیاب رہی؟ وہ پھر بھی اقتدار میںآئی اور بار بار آئی۔ اُس وقت بھی جو لوگ ذہنی طور پر پیپلزپارٹی چھوڑ چکے ہوتے تھے،،، یہ اُن کو بھی گرفتار کر لیتے تھے،،، آج بھی جن لوگوں کا دھرنے سے تعلق ہی ہوتا،،، اُنہیں بھی حفظ ماتقدم کے طور پر گرفتار کر لیتے ہیں،،،جس کی وجہ سے وہ اپنی پارٹی کے ساتھ پکا ہو جاتا ہے،،، لہٰذاکسی پر ظلم کر کے اُس کا راستہ کبھی روکا نہیں جا سکتا،،، مذاکرات کا راستہ تلاش کریں،،، اپنی انا کی ضد سے باز رہیں،،، ملکی مفاد میں فیصلے کریں،،، اور رہی بات کے پی کے کی تو اب اگر کے پی کے میں حالات بگڑتے ہیں تو زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا، پی ٹی آئی کی حکومت ختم کر کے گورنر راج لگا دیا جائے گا،،، اس طرح تو پی ٹی آئی کی لاٹری نکل آئے گی۔ تین چوتھائی اکثریت سے بننے والی حکومت کو گھر بھیجنا اور صوبے کی بپھری عوام کو سنبھالنا مشکل ہی نہیں، ناممکن ہو جائے گا۔ اور اس کا فائدہ کس کو ہوگا؟ حکومت کو؟ قطعاََ نہیں ،،، بلکہ اس کا سارا فائدہ تحریک انصاف اور ملک دشمن عناصر کو ہوگا،،، اس لیے بہتر ہے کہ وفاق ایسے اقدامات سے اجتناب ہی کرے تو بہتر ہے ،،، ورنہ ہم تو یہی کہیں گے کہ اب پچھتائے کیا ہوت،،، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت