بے حس معاشرے میں CCDکے ”فل فرائی“ اقدامات!

لائبہ کیس کے بارے میں سنا تو بہت افسوس ہوا، افسوس اس مرحوم ایجنٹ پر ہوا، کہ وہ کس طرح معصوم لوگوں کو لوٹتے ہیں،،، اسے ہمارے اداروں نے مقابلے میں پار کردیا،،،میرا غصہ تھوڑا ٹھنڈا ہوا،،، پھر گزشتہ روز 13 سالہ یتیم بچے کو گاڑی کے نیچے کچلنے کے واقعہ کی فوٹیج دیکھی تو رات بھر سویا نہ جا سکا،،،بے چینی اس لیے بھی تھی کہ ہم غصے اور طاقت کے نشے میں کتنے بے حس ہو جاتے ہیں کہ پھر کچھ نہیں سوچتے کہ جو اقدام وہ کرنے جا رہے ہیں، اس کے آفٹر ایفیکٹس کیا ہو سکتے ہیں،،،خیر پھر اگلی صبح خبر آئی کے سی سی ڈی نے اس ملزم کو بھی "فل فرائی" کر دیا،،، اس اقدام کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے پورا سوشل میڈیا بھرا پڑا تھا،،، مجھے بھی بطور معاشرے کا رکن ہلکی سی خوشی ہوئی،،، لیکن پھر سوچا کہ بہتر ہوتا عدالتی نظام مضبوط ہوتا اور یہ سزائیں عدالتوں کے ذریعے عمل میں لائی جاتی تو زیادہ بہتر ہوتا، کیوں کہ اس طرح کے پولیس مقابلوں سے معاشرے میں کبھی بھی امن و امان قائم نہیں ہوتا بلکہ ماضی کی طرح اور ان جیسے واقعات کی آڑ میں زیادہ تر مقابلوں میں بے گناہ شہریوں کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے، جن کی تحقیقات بھی نہیں کی جاتی،،، اور ویسے بھی میرا پنجاب آج کل ماورائے عدالت اقدامات کرکے دنیا کو پچھاڑ رہا ہے، اور حکام یہ سمجھ رہے ہیں کہ انہوں نے پنجاب بھر سے 80فیصد جرائم کا خاتمہ کر لیا ہے، لیکن شاید انہیں یہ علم نہیں کہ ا±نہوں نے سینکڑوں ایسے قاتل پیدا کر دیے ہیں، جو بدلے کی آگ سینے میں لیے انتقام لینا چاہ رہے ہیں۔ ہم ہر روز سنتے ہیں کہ آج سی سی ڈی نے فلاں کو پار لگا دیا اور فلاں شخص کو ا±س کے ساتھیوں نے ہی مار دیا،،، شاید یہ اقدام کئیوں کے لیے فرحت بخش ہوں مگر کسی مہذب ملک میں ایسا ہونا تباہ ک±ن ہوتا ہے،،، اور لوگ انگشت بدنداں ہوتے ہیں کہ کیسے ممکن ہے کہ ایک فورس کے پاس عدالتی اختیارات بھی چلے جائیں کہ وہ خود ہی منصف بن کر فیصلے کرنے شروع کردے کہ کس کو پکڑنا کر پار لگانا ہے اور کس کو چھوڑنا ہے،،، آپ سی سی ڈی کی حالیہ ایک کارروائی دیکھیں،،، جس کے بعد آپ خود فیصلہ کیجئے گا کہ آیا اس فورس کا ہونا ضروری ہے یا نہیں یا یہ محض پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہی ہے؟ ابھی چند مہینے پہلے ایک ایسا ہی واقعہ دنیا بھر میں ہمارے لیے بدنامی کا باعث بنا تھا،،، آپ کو نعمان قیصر تو یاد ہوگا،،،جو ایک پاکستانی نڑاد تاجر تھے جو بارسلونا، اسپین میں مقیم تھے اور وہاں کاروبار کرتے تھے۔ وہ اسپین کے شہری بھی تھے اور پاکستان میں خاندانی تنازعات کی وجہ سے قتل کے الزامات کا سامنا کر رہے تھے۔ نعمان پر الزام تھا کہ انہوں نے اپنے بہنوئی کے قتل کا منصوبہ بنایا، جو سہراب سائیکلز کے مالک محمد امجد قاضی کا نوجوان بیٹا(معاذ) تھا۔ سرکار نے اُن کا ریڈ وارنٹ نکالا، اور اسپین حکام کے حوالے کر دیا، اسپین پولیس نے نعمان قیصر کو ہر ہفتے پولیس اسٹیشن میں حاضری کا پابند کیا، اور مکمل انکوائری بھی بھگتتے رہے،،، اسی دوران ا±نہوں نے پاکستان کی عدالتوں سے بھی رجوع کیا ، اور پھر انہوں نے اسپین سے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا تاکہ عدالتوں میں پیش ہوکر کیسز کا سامنا کرسکیں،،، لاہور میں ان کے خلاف 3 مقدمات درج تھے۔ 2 مقدمات ناصر آباد پولیس اسٹیشن میں درج تھے، جبکہ ایک مقدمہ لاہور کے کاہنہ پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا۔ا±ن پر الزام تھا کہ مقتول معاذ کے قتل میں ملوث ملزم نعمان ضمانت کے بعد فرار ہوگئے تھے۔ ملزم نعمان 2023 میں منصوبہ بندی کے تحت معاذ کو قتل کروانے سے پہلے خود اسپین چلے گئے تھے۔پولیس رپورٹس کے مطابق نعمان نے اسپین میں بیٹھ کر شوٹرز کی مدد سے معاذ کو قتل کروایا۔ ملزم نے 2023 میں نصیر آباد تھانے کی حدود میں اجرتی قاتلوں کی مدد سے معاذ کو قتل کروایا۔ واقعہ میں ملوث دونوں اجرتی قاتلوں کو عمر قید کی سزا سنائی جا چکی ہے۔لیکن وہ جیسے ہی پاکستان پہنچے تو سی سی ڈی کے ریڈار پر آگئے،،،اور مارے گئے! چلیں مان لیا کہ سی سی ڈی نے بہترین کام کیے،،، لیکن کیا کرائم کنٹرول ہوگئے؟ ان کی شرح تو پہلے سے بھی بڑھ چکی ہے، ہر شخص خود کو موت کی وادی میں لے جا نے کی تاک میں بیٹھا ہے،،، ظاہر ہے جس کا بندہ آپ ماورائے عدالت مار دیں گے، تو بدلے کی آگ اُس کے سینے میں تب تک جلتی رہے گی جب تک وہ اسے کسی کے خون سے نہ بجھا دے،،، اورویسے بھی اعدادو شمار چیک کر لیں کہ ایک سال میں جرائم 11فیصد بڑھ گئے ہیں ناکہ کم ہوئے ہیں،،، اس کی وجہ بے روزگاری یا مہنگائی ،،، کچھ بھی ہوسکتی ہے،، لیکن بقول شخصے یہ ادارے محض سیاسی اشرافیہ کے تحفظ کے لیے قائم ہیں،،، جس سے ایک مخصوص طبقے کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے،،، اور پھر قصور ہماری عوام کا بھی ہے کہ وہ ہر اُس ماورائے عدالت قتل پر واہ واہ کرتے اور تالیاں بجاتے ہیں جو اداروں کے ہاتھوں ہوتا ہے،،، یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے نانا پاٹیکر کی ایک فلم آئی تھی، اب تک چھپّن، جس میں نانا پاٹیکر نے ایک ایسے پولیس افسر کا کردار ادا کیا تھا جو انڈر ورلڈ کے خاتمے کیلئے قانون کو جوتے کی نوک پر رکھتا ہے اور مجرموں کو چن چن کر جعلی مقابلوں میں مارتا ہے۔ فلم میں پولیس مقابلوں کی گنتی کسی کرکٹ میچ کے اسکور کارڈ کی طرح دکھائی جاتی ہے کہ ’اب تک چھپن ہو گئے، اب ستاون ہونے والے ہیں‘۔ عوام سینما ہالز میں ایسی فلموں پر تالیاں بجاتے ہیں، سیٹیاں مارتے ہیں اور اپنے ذہنوں میں یہ بٹھا لیتے ہیں کہ اصل ہیرو وہی ہے جو عدالت جانے کی زحمت کیے بغیر ملزم کے ماتھے کے بیچوں بیچ گولی مار دے۔جب ہم سب کے ذہن ایسے بن گئے ہوں تو پھر اس قسم کی وارداتیں ہمیں اچھی ہی لگیں گی،،، لیکن دنیا بھر میں اسے بڑا معیوب سمجھا جاتا ہے،،، لہٰذا جب تک پولیس مقابلوں کا یہ ماڈل چلے گا، کبھی سانحہ ساہیوال ہوگا تو کبھی سانحہ چکوال۔ یہ پورا ماڈل اِس مفروضے پر کھڑا ہے کہ موقع پر موجود پولیس والا انصاف اور ہوشمندی کے تمام تقاضے پورے کرکے اصل مجرم کو کم سے کم طاقت استعمال کرکے فوری طور پر کیفرکردار تک پہنچائے گا۔ بہرکیف میں یہ نہیں کہتا کہ ملزم نے قتل نہیں کیا ہوگا، یا یہ نہیں کہہ رہا کہ مدعی پارٹی نے پیسہ لگایا ہوگا،،، میں صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آخر کیوں ہمارے ادارے سسٹم سے باہر رہ کر کھیل رہے ہیں،،، اور کیا کسی نے سوچا کہ اس کے دیرپا نتائج کیا ہوسکتے ہیں؟ کہ جنہیں آپ بندے مارنے کی کھلی چھٹی دے رہے ہیں،،، جب آپ ا±ن پر سے ہاتھ ا±ٹھا لیں گے،،، یا ا±ن کے چیف تبدیل ہو جائیں گے،،، تو جو ا±ن کو ”عادت“ پڑ گئی ہے،،، وہ کیسے جائے گی؟ پھر ہو گا یہ کہ ایک تو یہ لوگ سیاسی لوگوں کے ہتھے چڑھیں گے،،، اور سیاسی لوگ انہیں اپنے مخالفین کو مارنے ، ڈرانے ، دھمکانے یا بھتہ لینے کے لیے استعمال کریں گے،،، یا یہ لوگ را? انوار یا عابد باکسر بن کر خود سے بھی اکا دکا مقابلے کرکے ہاتھ صاف کریں گے،،، اور پھر جب ان سے پوچھا جائے گا کہ انہوں نے فلاں بے گناہ شخص کو کیوں مارا تو یہ کہیں گے کہ جہاں اتنے لوگ آپ کے کہنے پر مارے،،، وہاں ایک دو کو مارنا تو ا±ن کا بھی حق بنتا ہے۔ اور پھر سی سی ڈی تو پنجاب کی حد تک بنایا گیا ادارہ ہے،،، کیا ملزمان اب تک پنجاب کی حدود میں بیٹھے ہوں گے،،، کیا وہ سندھ ، بلوچستان یا کے پی کے میں فرار نہیں ہو جائیں گے،،، اور پھر جب یہ لوگ واپس آئیں گے تو کیا یہ مزید جرائم پیشہ نہیں ہوں گے؟ کیا یہ بین الصوبائی ملزمان نہیں بن جائیں گے۔۔۔ کیا قارئین کو یاد نہیں ہے کہ جب پنجاب میں ایلیٹ فورس بنائی گئی تھی تو بتایا گیا تھا اس کا کام سنگین جرائم میں ملوث اور رہزنی، اغوائ برائے تاوان اور ڈکیتی کرنے والوں کے خلاف ایکشن لینا ہوگا۔ شروع میں کام اچھا ہوتا ہے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ہر نئے ونگ پر روائتی پولیس کا رنگ چڑھ جاتا ہے۔اور اب یہی ایلیٹ فورس کی بڑی تعداد وزرائ، ا±ن کی فیملیز، جج صاحبان، بیوروکریٹس، اور دیگرز کے ”پروٹوکولز‘ کے لیے استعمال کی جا رہی ہے۔ بہرکیف پولیس کے پاس موجود بندوق کا مقصد انتہائی ضرورت کے وقت اس کا استعمال ہونا چاہیے، نا کہ رات کے اندھیرے میں ”پولیس مقابلوں“ کے ذریعے کوئی ”اسکور“ پورا کیا جائے ،کون جانے مجرم قرار دے کر قتل ہونے والا واقعی مجرم تھا بھی یا نہیں اور ایسی کیا نوبت آ گئی تھی کہ اسے عدالتی کارروائی سے گزار کر سزا دینے کے بجائے موقع پر قتل کرنا ہی ضروری تھا؟اور ویسے بھی ن لیگ کے دور میں جعلی پولیس مقابلوں کے حوالے سے ملک کے طول و عرض میں ایک تاریخ بکھری پڑی ہے۔نہیں یقین تو آپ خود تاریخ ا±ٹھا کر دیکھ لیں،،، کیوں کہ بقول شاعر آپ ہی اپنی اداوﺅں پہ ذرا غور کریں ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی لہٰذاحکام بالا سے دست بستہ گزارش ہے کہ معاشرے میں امن لانا ہے تو عدل و انصاف کے نظام کو مضبوط بنانا ہو گا۔ورنہ لوگ یونہی ماورائے عدالت ”فرائی “ہوتے رہیں گے اور ہم خوشی کے شادیانے بجاتے رہیں گے۔۔۔ اور سب سے بڑھ کر معاشرے میں بے حسی بڑھتی رہے گی!