” بلیو “‘پاسپورٹ کے لیے ”محمود و ایاز“ ایک ہوئے!

محمود غزنوی ایک مشہور مسلمان حکمران تھے، جبکہ ایاز ان کے درباری اور غلام کے طور پر مشہور ہوئے۔ فارسی ادب اور برصغیر کی روایات میں ایاز کو وفاداری، سادگی اور اپنے آقا سے تعلق کی علامت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔محمود غزنوی کے دربار میں اختلاف رائے بہت کم ہوتا تھا،،، کیوں کہ روایات کے مطابق محمود غزنوی جابر، سخت گیر اور عوام پر بھاری مالی بوجھ لادنے والا حکمران تھا،،، اس لیے اُس کے درباری(ایاز) ہمیشہ اُس کی غلط باتوں پر بھی اختلاف رائے قائم نہیں کرتے تھے،،، لہٰذابعد ازاں اُسے سیاست میں حوالے کے طور پر بھی یاد کیا جانے لگا ،،، جیسے جب دو ایسے سیاسی رہنما یا گروہ جو پہلے الگ ہوں، اختلافات بھلا کر ایک ہو جائیں تو طنزیہ یا علامتی انداز میں کہا جا سکتا ہے کہ ”محمود و ایاز ایک ہو گئے۔“،،، پھر علامہ اقبال ؒ نے بھی اسے اپنے اشعار میں ذکر کیا کہ ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز اب آجائیں ہمارے پارلیمنٹیرینز اور سینیٹرز کی طرف ،،، اس وقت ملک بھر میں ہنگامی صورتحال ہے،،، نہ کہیں امن و امان ہے، نہ معیشت بہتر ہے، سیاحت ختم ہو چکی ہے، سیاست ختم ہو چکی ہے،،خارجہ و داخلہ پالیسیوں کا کسی کو علم نہیں، کرپشن عروج پر ہے،،، سیاسی پکڑ دھکڑ عروج پر ہے،،، آدھے سے زائد پاکستان پر سیمی مارشل لاءلگ چکا ہے،،، جبکہ باقی ماندہ پاکستان میں ریاست دھڑلے سے من مانیاں کر رہی ہے،،، مہنگائی اس قدر ہے کہ غریب آدھی فرسٹریشن کا شکار ہو چکا ہے،،، قصہ مختصر کہ وطن عزیز تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے،،، جبکہ ہمارے اراکین ایوانِ بالا نے رواں ہفتے دو ڈھائی گھنٹے اس موضوع پر بحث کی کہ جناب! ہمارے بیوی بچوں اور والدین کے لیے تاحیات بلیو پاسپورٹ جاری کیے جائیں،،، اور پھر انہوں نے اس بل کو منظور کروا کر ہی دم لیا،،، یعنی پاکستان کے ایوان بالا (سینیٹ) نے ’پاسپورٹ ایکٹ 1974‘ میں ترمیم کا بل اتفاقِ رائے سے منظور کیا جس کے تحت قومی اسمبلی اور سینیٹ کے سابق ارکان کو عہدہ ختم ہونے کے بعد بھی تاحیات آفیشل (بلیو) پاسپورٹ رکھنے اور استعمال کرنے کا حق حاصل ہو جائے گا۔لہٰذااس بل کے پاس ہونے میں ساری اپوزیشن اور حکومت(یعنی محمود و ایاز) اکٹھے نظر آئے،،، حتیٰ کہ تحریک انصاف کے سینیٹرز نے بھی اس کے حق میں ووٹ دیا،،، حیرت اس بات پر ہوئی کہ حکومتی سینیٹرز جن میں وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ، طلال چوہدری اور دیگر ارکان اس کی مخالفت کرتے نظر آئے،،، اور کہتے رہے کہ ”بلیو پاسپورٹ آفیشل حیثیت کی علامت ہے۔ بچوں کو اپنا کیریئر خود بنانے دیں، پاسپورٹ کے رنگ سے عزت نہیں بڑھتی۔ ہم سابق سرکاری افسران کے بچوں کا بھی بلیو پاسپورٹ ختم کرنے کی حمایت کریں گے۔“ اس پر وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ جب پاکستان کسی دوسرے ملک سے ویزا فری انٹری کی بات کرتا ہے تو وہ بلیو پاسپورٹ کی زیادہ تعداد پر سوال اٹھاتے ہیں،،، آگے چلنے سے پہلے بتاتا چلوں کہ اس بلیو پاسپورٹ اور ڈپلومیٹنگ پاسپورٹ کی اہمیت کیا ہے،،، تو اسے ایسے ہی سمجھ لیں کہ جیسے ہمارے پاس گرین پاسپورٹ ہے تو اس پاسپورٹ پر پوری دنیا میں محض دو ممالک مالدیپ اور نیپال ویزا فری انٹری دیتے ہیں،،، لیکن اگر آپ کے پاس بلیو پاسپورٹ یا ریڈ پاسپورٹ ہوگا تو آپ کا 55سے زائد ممالک ویزا فری انٹری دیں گے،،، اب سوال یہ ہے کہ بلیو پاسپورٹ کن کن لوگوں کو دیے جاتے ہیں؟ اس حوالے سے گزٹ آف پاکستان کے نوٹیفکیشن M-302/L-7646 کے مطابق بلیو پاسپورٹ ان شہریوں کو دیا جاتا ہے جو کہ سینیٹرز، ایم این ایز، صوبائی وزیر، سپریم اور ہائی کورٹ کے جج یا پھر وہ سرکاری نمائندے ہوں، جنہیں سرکاری کام کاج کے لیے بیرونِ ملک سفر کرنا ہو۔تاہم تین سال پہلے بلیو پاسپورٹ کے اہل افراد میں حیران کن حد تک اضافہ کر دیا گیا ہے۔ اور ایک اندازے کے مطابق ا س وقت 50ہزار سے زائد افراد کے پاس بلیو پاسپورٹ ہے،،، کیونکہ سابق اراکین پارلیمنٹ جنہوں نے کم از کم اپنی ایک ٹرم پوری کی ہو، وہ اور ان کی بیویاں بھی تاحیات بلیو پاسپورٹ رکھ سکتے ہیں۔سابق گورنر، سابق صدر کشمیر و گورنر گلگت بلتستان، سپریم کورٹ، ہائی کورٹ، کشمیر ہائی کورٹ و سپریم کورٹ، اپیلٹ کورٹ گلگت بلتستان و چیف کورٹ کے ریٹائرڈ جج صاحبان اور ان کی بیویاں بھی تاحیات اس پاسپورٹ کے اہل ہیں۔اسی طرح گریڈ 20 کے وہ افسران جو کنٹریکٹ پر بیرون ملک سفر کرتے ہیں یا پھر سینیٹ و قومی اسمبلی کے گریڈ 17 کے افسران جنہوں نے سرکاری دورے پر بیرون ملک جانا ہو تو انہیں بھی مخصوص وقت کے لیے بلیو پاسپورٹ دیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ سٹیٹ بینک کے گورنر و ڈپٹی گورنر، کمپیٹیشن کمیشن آف پاکستان کے ممبران، ارسا کے ممبران، گریڈ 17 سے 21 تک کے وہ سرکاری و مسلح افواج کے افسران جو سرکاری کورس کے سلسلے میں بیرونِ ملک جا رہے ہوں اور اس کا دورانیہ نو ماہ سے زیادہ ہو تو انہیں اور ان کے بیوی بچوں کو بھی بلیو پاسپورٹ دیا جاتا ہے۔ خود مختار اداروں اور کارپوریشنوں کے سربراہان جو مستقل ہوں یا کنٹریکٹ پر لگائے گئے ہوں اور ان کا عہدہ گریڈ 20 کے مساوی ہو تو انہیں آفیشل ورک کے لیے بیرون ملک جانے پر بلیو پاسپورٹ دیا جائے گا۔پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان کے سربراہان جو صدر اور وزیراعظم کے ساتھ سرکاری دورے پر جا رہے ہوں وہ بھی بلیو پاسپورٹ لے سکتے ہیں۔ نادرا کے ملازمین جن کی تعیناتی بیرون ملک پاکستانی سفارت خانوں میں ہو، انہیں بھی یہ پاسپورٹ ملے گا۔ اس کے علاوہ کچھ دفاعی اداروں کے ملازمین کو بیرون ملک سفر جس میں انہیں پیشہ ورانہ خدمات سر انجام دینی ہوں کو بھی یہ پاسپورٹ مل سکتا ہے۔ اب یہ بھی بتاتا چلوں کہ جن بلیو پاسپورٹ رکھنے والوں کو جن ممالک میں ویزہ فری انٹری کی اجازت ہے اُن میں ارجنٹائن، آسٹریا، آذربائیجان، بحرین، بنگلہ دیش، بیلا روس، بیلیزی، بوسنیا ہرزیگووینا، برونائی دارالسلام، سائپرس، چیک ریپبلک، کیوبا، ڈنمارک، فن لینڈ، جارجیا، ہنگری، انڈونیشیا، ایران، چین و ہانگ کانگ، قزاقستان، کویت، کرغیزستان، لاﺅس، ملائیشیا، مراکو، میکسیکو، مالٹا، ناروے، رومانیہ، روس، سنیگال، سربیا، سالوک ریپبلک، جنوبی کوریا، تیونس، ترکی، متحدہ عرب امارات، ویتنام اور یمن وغیرہ شامل ہیں۔ بہرکیف بقول شخصے اس عظیم قانون سازی پر سب ارکان پارلیمنٹ کو بہت بہت مبارک ہو۔ تاحیات بلیو پاسپورٹ کے ذریعے وہ بغیر ویزا مذکورہ ممالک میں داخل ہو سکیں گے یہ سہولت ان سب دوستوں کے بہت کام آئے گی جو آجکل تو سرکاری بینچوں کا حصہ ہیں لیکن کچھ عرصہ کے بعد سرکار میں نہیں رہیں گے اور ہماری پرانی روایت کے مطابق سیاسی انتقام کا نشانہ بنیں گے لیکن بلیو پاسپورٹ پاکستان سے فرار میں انہیں بہت مدد دیگا،،، لیکن ایک بات تو طے ہے کہ سیاست میں وہی لوگ آتے ہیں جو گھر سے رج چکے ہوتے ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ جس طرح ان کی اپنی زندگیاں بہت اچھی اور آسان ہیں‘ اسی طرح انہیں اس معاشرے کے دیگر طبقات کا طرزِ زندگی بہتر بنانے کیلئے بھی کوشش کرنی چاہیے۔ انکے ساتھ جو ظلم اور زیادتی ہو رہی ہے، اسکے خلاف کھڑا ہونا چاہیے۔ ان سب کو انصاف ملے‘ اچھی تعلیم ملے اور ان کے بچوں کا مستقبل اچھا ہو۔ میرے نزدیک یہی اس بندے کی تعریف تھی جو سیاستدان بنتا تھا۔ اس پوری سوچ میں کہیں یہ شامل نہ تھا کہ اسے اقتدار درکار تھا‘ یا اسے اپنے جیسے عام لوگوں پر حاکم بننا تھا‘ یا ان کے پیسے پر عیاشی کرنی تھی‘ یا اپنے اور اپنی اولاد کیلئے بے تحاشا مراعات حاصل کرنی تھیں‘ یا اندھا دھند ترقیاتی فنڈز کے نام پر پیسہ کمانا تھا۔ بہرحال ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ کیا دنیا کی کسی اور پارلیمنٹ میں ارکان کو اپنے لیے بلیو پاسپورٹ حاصل کرنے کی خاطر ڈیڑھ دو گھنٹے تک لڑتے دیکھا یا سنا ہے؟ یقینا نہیں سنا ہوگا،،، کیونکہ دنیا میں انسانیت ہے اور ہم میں انسانیت برائے نام رہ گئی ہے،،، کیوں کہ یہ لوگ کبھی عوام کے حقوق کے لیے اکٹھے نہیں ہوئے،،، لیکن جیسے ہی ہمیں اپنی مراعات کی منظوری کروانی ہو، خواہ وہ ٹی اے ڈی اے کے لیے ہو ، اپنی تنخواہوں میں اضافے کے لیے ہو، الاﺅنسز میں اضافے کے لیے ہو، بیرون ممالک کے دوروں کے لیے ہو یا بلیو پاسپورٹ کے اجرا ءکے لیے ،،، تو ہم ایک صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں،،، جو ہماری اجتماعی بے حسی کی عکاسی کرتی ہے،،، اس لیے ہمیں یہ سوچنے کا فائدہ ہی نہیں ہے کہ ہم بے حس کیوں ہیں؟ یا ہم چلتی گاڑی کے نیچے کسی یتیم بچے کو کیوں کچل دیتے ہیں،،، یا کسی سکوٹی پر جاتی ہوئی خاتون کو نیچے گرا کر اُس پر سرعام تشدد کرتے ہیں،، یا کسی کو باہر بھجوانے کے لےے اُس سے لاکھوں روپے بٹورتے ہیں،،، یا کسی کی ذرا سے غلطی پر اُسے مرنے مارنے پر اُتر جاتے ہیں،،، یہ بے حسی ہمیں حکمرانوں سے تحفے میں ملتی ہے،،، جو ہمارے لیے شاید آئیڈیل ہونے چاہیے تھے،،، لیکن افسوس صد افسوس وہ ہمارے اس قدر بے حس ثابت ہو رہے ہیں کہ آنے والی نسلیں بھی شایداس کا خمیازہ بھگتیں گی!