بے روزگاری یا مایوسی؟ملک میں ”برین ڈرین“ کا طوفان!

گزشتہ تین چار سالوں میں 2ملین نوجوانوں نے ملک کو خیر آباد کہہ کر کسی دوسرے ملک میں اپنے مستقل ٹھکانہ بنا لیا ہے،،، جبکہ نوجوانوں کے ملک چھوڑنے کے حوالے سے ہمیں یہ تسلی دی جا رہی ہے کہ اوورسیز پاکستانی ملک میں 40سے 45ارب ڈالر سالانہ بھیجتے ہیں، جس سے ملک چلتا ہے،،، اگر یہ نہ بھیجیں تو اس وقت ملک کے حالات ایسے ہوں کہ تنخواہیں دینے کے پیسے بھی نہ بچیں۔ لیکن بادی النظر میں اگر پاکستان بنانے کا مقصد دنیا کو لیبر فراہم کرنا ہی تھا،،، تو معذرت کے ساتھ پاکستان بنانے کی زحمت ہی نہ کی جاتی،،، لیکن یہ کیا کہ ایک ہنرمند فرد کو آپ تیار کرتے ہیں کہ وہ ملک کے لیے کام کرے گا،،، یہاں عوام کی خدمت کرے گا،، لیکن جب وہ یہاں کے حالات دیکھتا ہے تو وہ بیرون ملک روزگار کی تلاش شروع کر دیتا ہے،،، اور جہاں اُسے اپنا مستقبل محفوظ نظر آتا ہے وہ وہاں چلا جاتا ہے،،،اس حوالے سے اس وقت میرے سامنے ایک چشم کشا رپورٹ پڑی ہے،،، جس کے مطابق گزشتہ تین برسوں 2024 سے 2026 کے دوران مجموعی طور پر 18 لاکھ 71 ہزار 666 پاکستانی بیرون ملک منتقل ہوئے۔جن میں بڑی تعداد میں ڈاکٹر، انجینیئر، آئی ٹی پروفیشنلز، مینیجرز اور اساتذہ جیسے اعلیٰ تعلیم یافتہ اور ماہرین شامل ہیں۔اور یہ رپورٹ کسی اور نے شائع نہیں کی بلکہ وزارت برائے سمندر پار پاکستان و ترقی انسانی وسائل کی جانب سے جاری کی گئی ہے،،، تشویشناک امر یہ ہے کہ جن بچوں پر ریاست اربوں روپے لگا کر ڈاکٹر یا انجینئر بناتی ہے، اُن کی تعداد بیرون ملک جانے والوں میں سب سے زیادہ ہے،،، جبکہ دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کے میدان میں پاکستانی اپنا لوہا منوانے میں کوئی ثانی نہیں رکھتے،،، اُس شعبے میں بھی گزشتہ تین سالوں میں 40ہزارہنرمند افراد ملک چھوڑ گئے،،، لیکن ان جیسی رپورٹس کا ہمارے حکام بالا اور فیصلہ کرنے والوں کی صحت پر کیا ہی اثر پڑے گا،،، انہیں تو اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑا کہ ابھی تک آزاد کشمیر میں کیا ہو رہا ہے؟ اور کیا ہونے والا ہے،،،اور وہاں کے عوام کے مطالبات کیا ہیں؟ اور وہ کیا چاہتے ہیں؟ انہیں تو اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا کہ چین نے مقروض ممالک کی فہرست جاری کی ہے جس میں الحمد اللہ ہم نے ”فرسٹ“ پوزیشن حاصل کی ہے،،، انہیں تو اس سے بھی کوئی فرق نہیں پڑ رہا کہ جب سے یہ آئے ہیں پاکستان پر قرض دوگنا ہوگیا ہے،،، اور تو اور اس بار سموگ نے جو ہماری حالت کی ہے، اس سے تو میں خود ڈر گیا ہوں کہ اب تو واقعی یہ ملک رہنے کے قابل نہیں رہا۔ کیوں کہ جان ہے تو جہان ہے۔ کہاں پہلے سموگ کا نام تک نہیں سنا تھا، اور اب پشاور سے کراچی تک ہر شہر اس کی ضد میں آرہا ہے۔ بہرحال واپس آتے ہیں، اپنے موضوع کی طرف کہ پاکستان کے 80فیصد سے زائد نوجوان اس وقت بیرون ملک بھاگنے کے چکر میں ہیں۔ اور یہ تعداد دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے،،، جبکہ دوسرے نمبر پر سوڈان اور تیسرے پر بھارت آتا ہے،،،خیر بھارت کی آبادی سوا ارب ہے،،، اس لیے وہاں سے دس بارہ لاکھ افراد بیرون ملک بھی چلے جائیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا،،، بلکہ یہ معمول کی بات ہے،،، مگر تشویشناک صورتحال پاکستان کے لیے ہے، جہاں کاروباری طبقہ تو ویسے ہی ملک چھوڑ کر جا رہا ہے، ساتھ ”برین ڈرین“ بھی ہو رہا ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ اس ملک کا پڑھا لکھا نوجوان طبقہ بھی اس ملک سے جا رہا ہے۔ اور پیچھے بچ جانے والے وہی ہیں جنہیں یاتو بیرون ملک روزگار میسر نہیں یا وہ اُنہیں مواقع میسر نہیں ہیں۔ لیکن صورتحال اُس وقت خراب ہوجاتی ہے، جب ملک کے حکمرانوں کو اس صورتحال کا علم بھی ہو،، اور وہ اسے نظر انداز کرکے اپنے پاسپورٹ کو ”بلیو“ پاسپورٹ میں بدلنے کے لیے بل پاس کرواتے پھریں،،کاش کاش !نواز شریف‘ شہباز شریف‘ صدر زرداری‘ آرمی چیف‘ سب اس پر تشویش کا اظہار کرتے۔ پارلیمنٹ میں اس پر بحث ہوتی۔ ایک کمیٹی بنتی جو اس صورتحال کے اسباب پر غور کرتی۔ الیکٹرانک میڈیا پر مباحثے ہوتے! یہ معلوم کیا جاتا کہ ان18لاکھ افراد میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ کتنے ہیں؟ ملک پر ہولناک درجے کے اس برین ڈرین (Brain Drain) کے کیا منفی اثرات پڑیں گے؟ جانے والوں میں لیبر کلاس کتنی ہے؟ مگر لگتا ہے کہ اس ملک کا کوئی والی وارث نہیں۔ ذمہ دار افراد اور اداروں کو اس تشویشناک صورتحال کا علم ہے نہ پروا! جیسے کہہ رہے ہوں کہ کھان خصماں نوں! سانوں کی! ایک سابق وزیراعظم نے تو کھلم کھلا کہہ بھی دیا تھا کہ لوگ ملک سے باہر جاتے ہیں تو جائیں! اسی بے رحمانہ انداز میں ایک سابق صدر نے بھی امریکہ میں کھڑے ہو کر کہا تھا کہ یہ عورتیں اس لیے ریپ ہوتی ہیں کہ مغربی ملکوں میں پناہ حاصل کر سکیں! بہرحال،،، حکمران مملکت خداوند کا ”باپ“ ہوتا ہے۔ اگر باپ ہی لاتعلق ہو جائے تو بچوں کا کیا بنے گا!بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ اس ریاست کا وارث ہی کوئی اور ہے،بلکہ وہی وارث ہےں جواصل فیصلے کرتے ہیں۔ لہٰذا میں مخاطب بھی انہی فیصلہ کرنے والی قوتوں سے ہی ہوں کہ دیکھیں! فیصلے تو آپ نے ہی کرنے ہیں، تو پھر کیوں ان کٹھ پتلیوں کو آپس میں لڑاتے رہتے ہیں، ایک ہی دفعہ مستقل حکمران لے آئیں، جو آپ کی باتیں بھی مانے، اور آپ کی ہاں میں ہاں بھی ملاتا، اُن درباریوں میں شامل ہو جائے جو ایک اشارے پر ناچنا شروع کر دیتے ہیں۔ اور یہ خرابی تب سے پیدا ہونا شروع ہوئی ہے جب سے 8فروری کے الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے، اُس کے بعد سے ملک میں جینا حرام ہوا ہے، اُسی وجہ سے ملک میں ہر چیز خراب ہو رہی ہے، ہر چیز پر نحوست کے سائے چھائے ہوئے ہیں، اور ہر شخص ہاتھ میں چھری پکڑ کر کرپشن کر رہا ہے۔ اور یہ سب کچھ صرف انا کی تسکین کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ویسے یہاں یہ بات بتاتا چلوں کہ پاکستانیوں کا مسئلہ ہی یہی ہے کہ یہ اناکے چکر میں ملک بھی تباہ کر دیتے ہیں، معیشت بھی تباہ کر دیتے ہیں اور لوٹ مار بھی خوب مچاتے ہیں، خاندان تباہ کردیتے ہیں، دوست چھوڑ دیتے ہیں، اور ”انا“ بھی فضول قسم کی ہوتی ہے۔ جس کا نہ کوئی سر ہوتا ہے اور نہ پاﺅں۔ بلکہ یہ انا ایسی ہوتی ہے کہ جیسے ہی کسی طاقتور کا فون آتا ہے، یہ ساتھ ہی لیٹ جاتے ہیں۔ پھر انا ختم جاتی ہے۔ اور پھر پاکستانی قوم تو اپنے سے کمزور پر ظلم کرنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتی۔ لیکن جونہی طاقتور سامنے آتا ہے، یہ بھیگی بلی بن جاتے ہیں، اور پھر ”انائیں“ رفع دفعہ ہو جاتی ہیں۔ لہٰذاابھی بھی وقت ہے ، خدا کے لیے سب سے پہلے پاکستان کے بارے میں سوچیں، کیوں کہ اس کی بنیادیں ہل چکی ہیں، یہ گرنے کے قریب ہیں، اس پر توجہ کی ضرورت ہے، اسے عوامی ریاست بنائیں۔ اور عوام کو فیصلے کرنے دیں کہ کس کو حکمرانی ملنی چاہیے اور کس کو نہیں۔ پھر دیکھیں ملک دس سال کے اندر اندر بالکل ٹھیک ہوجائے گا۔ اور رہی بات عمران خان کی تو آپ اُس سے مذاکرات کریں، کچھ اُس کی شرائط مانیں، کچھ اُس سے اپنی شرائط پر اتفاق کروائیں۔ اور جھوٹے مقدمات ختم کردیں، آپ دیکھیے گا حالات نارمل ہونا شروع ہو جائیں گے۔ اس لیے فیصلے کرنے میں ہوش مندی کا ساتھ نہ چھوڑیں، دیرپا فیصلے کریں، کیوں کہ پاکستان ہے تو ہم ہیں، پاکستان ہے تو آپ ہیں، پاکستان ہے تو ہمیں عیاشیاں بھی ہیں، ہمارے ”کاروبار“ ہیں، یہ نہیں ہوگا تو کچھ حاصل نہیں ہوگا، نہ ہمیں کہیں سے کوئی پلاٹ دے گا، اور نہ ہی ہمیں جزیرے خریدنے کے لیے کوئی پیسے دے گا۔ اور خدا کے لیے آزمائے ہووﺅں کو بار بار نہ آزما ئیں اسی میں سب کی بہتری ہے، انہی لوگوں نے آدھا ملک گنوا دیا، انہی لوگوں نے کرپشن کے نت نئے راستے تلاش کیے، بلکہ 30سال ہم نے مارشل لاءکے بھی دیکھ لیے، سب نے دیکھ لیا کہ مارشل لاﺅں سے بھی ملک نہیں چل سکتے، اگر چل سکتا ہوتا تو 10،10سال جو مارشل لاءلگے ہیں اُس میں ملک ترقی کر جاتا۔ سب نے دیکھ لیا کہ مارشل لاءنے کرپٹ سیاستدانوں کو ملک میں کرپشن کرنے کے گرُسکھائے، ورنہ 80کی دہائی سے پہلے تو کسی کو کرپشن کرنا نہیں آتا تھا۔ پھر مشرف دہشت گردی کو پاکستان میں لے آیا جس کا خمیازہ ہم آج بھی بھگت رہے ہیں، اور بدلے میں ریاست طاقت کے بل بوتے پر حکمرانی کر رہی ہے۔ پہلے جو مسنگ پرسن صرف بلوچستان میں ہوتے تھے، اب پورے پاکستان میں ہو رہے ہیں۔ بلکہ اب حالات یہ ہیں کہ بلوچستان کے 40فیصد حصے آپ سفر ہی نہیں کر سکتے۔ بلکہ خیبر پختونخوا کا حال بھی یہی ہے۔ وہاں ہر دوسرے روز درجنوں سکیورٹی آفیسرز کو شہید کیا جا رہا ہے۔ ابھی بھی تحریر لکھتے ہوئے خبر آئی کہ بنوں کی مشترکہ چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ جس سے 12سکیورٹی اہلکار شہید ہو گئے ۔ اس لیے فیصلہ سازوں کو اس پر کم از کم کوئی تھنک ٹینک بنانا چاہیے، کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ لوگ باہر کیوں بھاگ رہے ہیں، یہاں سے برین ڈرین کیوں ہورہا ہے؟ دراصل لوگ ہمت چھوڑ چکے ہیں،،، اور مایوس ہو چکے ہیں،، تبھی جہاں اُن کا بس چلتا ہے وہ وہیں چلا رہے ہیں،،، اگر ہم اپنے ہمسایہ ممالک کو دیکھ کر ہی ترقی کرنا شروع کردیں تو ہم کافی آگے نکل سکتے ہیں ،،، جیسے ہمارے ایک طرف بھارت ہے۔ وہ ہم سے کوسوں آگے نکل چکا۔ بہترین ریلوے‘ بہترین انڈر گراﺅنڈ ٹرینیں‘ آئی ٹی میں آسمان پر‘ ڈالر پچاسی روپوں میں! دوسری طرف ایران ہے جو ہولناک اور مسلسل عالمی پابندیوں کے باوجود ہم سے آگے ہے۔ لوگ خوشحال ہیں۔ بجلی سستی ہے۔ ساری معیشت‘ تمام کاروباری سرگرمیاں دستاویزی (Documented) ہیں۔ اور تو اور ایک امریکی ڈالر‘ اڑسٹھ افغانی میں مل رہا ہے۔ ہمارا یہی حال رہا تو بہت جلد افغانستان بھی ہمارے مقابلے میں معاشی دیو بن جائے گا۔ اور ہم دیکھتے رہ جائیں گے!