اسرائیلی انتخابات : بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ!

دو دن سے بوجوہ موبائل پاس نہیں تھا، اس لیے خبروں کا ذریعہ زیادہ تر ٹی وی رہا،،، لیکن جیسے ہی آج موبائل ہاتھ لگا تو سوشل میڈیا پر ”مبارکبادوں“ کی بھرمار تھی،،، کہ 6مرتبہ وزیر اعظم رہنے والے متنازع ترین اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا اتحاد سادہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا،،، میں یہ دیکھ کر کافی حیران ہوا کہ جس ملک کو ہم نے تسلیم ہی نہیں کیا ہوا، اُس کے بارے میں اتنی دلچسپی،،،خیر ہم نے فلسطین کے ساتھ یکجہتی کے لیے شاید نیتن یاہو کی مخالفت کی ہو،، لیکن شاید ہمیں علم نہیں کہ وہاں وزیر اعظم کوئی بھی بنے لیکن عرب ممالک اور فلسطینیوں کے حوالے سے اُن کی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی،،، اور رہی بات فلسطین کی تو انہوں نے ویسے ہی اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ کر لیا ہوا ہے،،، اور ہاں ! یہ بات بھی بتاتا چلوں کہ اسرائیل میں آج تک کوئی ایک جماعت پارلیمان (کنیسٹ) کی 120 نشستوں میں سے 61 یا اس سے زیادہ نشستیں حاصل کر کے تنہا حکومت نہیں بنا سکی، اس لیے حکومت ہمیشہ اتحادی جماعتوں کے اشتراک سے تشکیل پاتی ہے۔اور اس مرتبہ بھی صورتحال کچھ ایسے ہی ہے، جہاں وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کی اتحادی جماعتیں 53 نشستوں پر کامیاب ہوئی ہیں جبکہ ان کے اہم حریف گاڈی آئزنکوٹ کا اتحاد 48 سیٹوں پر کامیاب ہوا ہے۔ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد اسرائیلی صدر مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماو¿ں سے مشاورت کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ اس رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دیتے ہیں جس کے بارے میں ان کا خیال ہو کہ اس کے پاس اتحادی حکومت تشکیل دینے کے بہترین امکانات موجود ہیں۔کیوں کہ نامزد امیدوار کے پاس حکومت بنانے کے لیے 28 دن ہوتے ہیں۔ اگر مذاکرات مکمل نہ ہو سکیں تو وہ مزید 14 دن کی توسیع بھی طلب کر سکتا ہے۔ اور اگر تمام قوانین ناکام رہیں اور حکومت بنانے کے لیے ساری کوششیں ناکام رہیں تو انتخابات دوبارہ ہوں گے،،، اس لیے نیتن یاہو کی شکست کا جشن منانے والے پاکستانی ذرا ٹھہریں، بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ بننے سے پہلے اسرائیلی سیاست کو سمجھیں!اگر چہ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ (Likud) پہلے کی طرح پارلیمنٹ میں اپنی مضبوط پوزیشن برقرار نہیں رکھ سکی، لیکن اسے مکمل ناکامی سے دوچار بھی نہیں ہونا پڑا۔ دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں بھی حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان انتخابات کے بعد اسرائیلی پارلیمنٹ یعنی کنیسٹ میں ایک مرتبہ پھر سیاسی جوڑ توڑ، اتحاد اور اقتدار کی نئی بساط بچھنے جا رہی ہے۔ مگر پاکستان میں بعض حلقوں نے ان نتائج کو ایسے خوشی کے ساتھ قبول کیا ہے جیسے اسرائیل میں نیتن یاہو کی سیاسی مشکلات کا مطلب فلسطین کی آزادی اور اسرائیلی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی ہو۔ حقیقت مگر اس سے کہیں مختلف ہے۔ اسرائیل کے 27 اکتوبر 2026ءکو ہونے والے انتخابات کے حتمی نتائج کے مطابق نیتن یاہو کی لیکوڈ جماعت 27 نشستیں حاصل کرکے پارلیمنٹ کی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی ہے۔ اپوزیشن کے گادی آئزن کوٹ کی جماعت یاشار کو 21 نشستیں ملیں، جبکہ نیتن یاہو کے اتحادی سیاسی دھڑوں کے ساتھ مجموعی نشستوں کی تعداد 53 رہی۔ اپوزیشن اتحاد کو 48 نشستیں ملیں، جبکہ عرب جماعتوں نے تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے مجموعی طور پر 19 نشستیں حاصل کیں۔ اسرائیل کی 120 رکنی پارلیمنٹ میں حکومت بنانے کے لیے 61 نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یوں کوئی بھی سیاسی اتحاد واضح اکثریت حاصل نہیں کر سکا۔ گویا نیتن یاہو کو سیاسی دھچکا ضرور لگا ہے لیکن ان کی جماعت نہ تو ختم ہوئی ہے اور نہ ہی اسرائیلی سیاست میں اس کی اہمیت کم ہو کر رہ گئی ہے۔ بہرحال یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اسرائیل میں نیتن یاہو کی جگہ کوئی دوسرا وزیراعظم آ جائے تو فلسطین کے حوالے سے اسرائیل کی پالیسی تبدیل ہو جائے گی؟ کیا غزہ کے عوام کو درپیش مشکلات ختم ہو جائیں گی؟ کیا مغربی کنارے میں آبادکاری کا سلسلہ رک جائے گا؟ کیا فلسطینیوں کو ان کی آزاد ریاست مل جائے گی؟ اور کیا اسرائیل خطے میں اپنی عسکری بالادستی کے تصور سے دستبردار ہو جائے گا؟ بدقسمتی سے ان سوالات کے جوابات اتنے سادہ نہیں ہیں۔اسرائیل کی سیاست کو سمجھنے کے لیے یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ وہاں سیاسی جماعتوں کے درمیان اختلافات ضرور ہیں، لیکن قومی سلامتی، فوجی طاقت، فلسطینی ریاست کے قیام اور خطے میں اسرائیلی مفادات کے تحفظ جیسے معاملات پر ایک وسیع سیاسی اتفاقِ رائے بھی موجود ہے۔ بائیں بازو کی جماعتیں ہوں، مرکز کی سیاسی قوتیں ہوں یا دائیں بازو کی جماعتیں، ان کے درمیان طریق? کار کا فرق تو دکھائی دیتا ہے، لیکن فلسطین کے معاملے میں بنیادی ریاستی سوچ میں بہت زیادہ تبدیلی نظر نہیں آتی۔ اسرائیل کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہاں مختلف ادوار میں مختلف سیاسی جماعتیں اقتدار میں آتی رہی ہیں۔ 1993ء میں وزیراعظم یتزحاک رابن کی حکومت نے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کے ساتھ اوسلو معاہدے پر دستخط کیے۔ اس معاہدے سے فلسطینی خودمختاری کی امید پیدا ہوئی، لیکن آزاد فلسطینی ریاست کا قیام آج تک ایک خواب ہی ہے۔ 2005ءمیں وزیراعظم ایریل شیرون نے غزہ سے اسرائیلی آبادکاروں اور فوجی اڈوں کو واپس بلانے کا فیصلہ کیا، لیکن اس کے باوجود اسرائیل اور غزہ کے درمیان تنازع ختم نہیں ہوا۔ یہ دونوں مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ مختلف اسرائیلی حکومتیں بعض اہم فیصلے ضرور کر سکتی ہیں، لیکن ان فیصلوں کا مطلب اسرائیل کی مجموعی ریاستی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں اسرائیلی انتخابات کو صرف نیتن یاہو کی مقبولیت یا عدم مقبولیت کے پیمانے سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ اسرائیل میں اصل طاقت صرف وزیراعظم کے دفتر میں نہیں بلکہ ایک مضبوط ریاستی، عسکری اور سیاسی نظام میں بھی موجود ہے۔ وہاں فوج، خفیہ ادارے، دفاعی صنعت اور قومی سلامتی سے متعلق ادارے ملکی پالیسیوں پر گہرا اثر رکھتے ہیں۔ وزیراعظم تبدیل ہونے سے ان اداروں کا وجود، ان کے مفادات اور اسرائیل کے بنیادی سکیورٹی تصورات تبدیل نہیں ہو جاتے۔البتہ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ انتخابات بے معنی ہیں۔ نیتن یاہو کے مخالفین اقتدار میں آتے ہیں تو بعض معاملات میں اسرائیلی پالیسی کا انداز، سفارتی ترجیحات اور سیاسی زبان تبدیل ہو سکتی ہے۔ فلسطینی قیادت سے مذاکرات کے امکانات، امریکی حکومت کے ساتھ تعلقات، غزہ کے مستقبل اور آبادکاری کے معاملات میں بھی فرق پڑ سکتا ہے۔ لیکن یہ توقع رکھنا کہ صرف وزیراعظم تبدیل ہونے سے اسرائیل فلسطینیوں کے حقوق تسلیم کر لے گا اور اپنی کئی دہائیوں پرانی پالیسیوں سے دستبردار ہو جائے گا، زمینی حقائق سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔ نیتن یاہو کے سیاسی مستقبل کا معاملہ بھی ابھی ختم نہیں ہوا۔ ان کی جماعت 27 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت ہے اور ان کا سیاسی اتحاد 53 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ اگرچہ یہ تعداد حکومت بنانے کے لیے ناکافی ہے، لیکن اتحادی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات اور سیاسی سمجھوتوں کے ذریعے اقتدار میں واپسی کا راستہ اب بھی موجود ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن کو بھی 61 نشستوں کی اکثریت حاصل کرنے کے لیے عرب جماعتوں یا دیگر سیاسی قوتوں کے ساتھ معاملات طے کرنا ہوں گے۔ اگر کوئی بھی فریق حکومت بنانے میں ناکام رہا تو اسرائیل ایک مرتبہ پھر نئے انتخابات کی طرف جا سکتا ہے۔ لہٰذا ابھی سے نیتن یاہو کی سیاست کا جنازہ نکال دینا قبل از وقت ہوگا۔ لہٰذاہمیں اسرائیلی انتخابات کے نتائج پر ضرورت سے زیادہ خوش ہونے کے بجائے اپنے قومی مفادات اور سفارتی ترجیحات پر توجہ دینی چاہیے۔ ہماری فلسطین کے ساتھ تاریخی، اخلاقی اور اصولی وابستگی اپنی جگہ، لیکن کسی دوسرے ملک کے انتخابی نتائج کو اپنی کامیابی سمجھ لینا دانش مندی نہیں۔ پاکستان میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو نیتن یاہو کے انتخابی نقصان کو فلسطینیوں کی فتح قرار دے رہے ہیں، حالانکہ ابھی اسرائیل میں نئی حکومت تک تشکیل نہیں پائی۔ یہ کچھ ایسا ہی ہے جیسے بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ! نہ شادی ہماری، نہ دلہا ہمارا، نہ بارات سے کوئی تعلق، مگر خوشی ایسی جیسے سارا معاملہ ہماری مرضی سے طے ہوا ہو۔ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ فلسطین کا مسئلہ کسی ایک اسرائیلی وزیراعظم کا مسئلہ نہیں بلکہ کئی دہائیوں پر محیط ایک سیاسی، تاریخی اور انسانی بحران ہے۔ 1948ءسے لے کر آج تک اسرائیل میں کئی حکومتیں تبدیل ہوئیں، کئی وزرائے اعظم آئے اور گئے، لیکن فلسطینیوں کو ان کے بنیادی حقوق اور آزاد ریاست دینے کا وعدہ پورا نہیں ہوا۔ اقوام متحدہ کی متعدد قراردادیں منظور ہوئیں، عالمی عدالت انصاف نے بھی فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی قبضے کے حوالے سے اہم قانونی مو¿قف اختیار کیا، مگر عملی طور پر فلسطینی عوام کی مشکلات کم نہیں ہو سکیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ اسرائیل میں نیتن یاہو جیتا یا ہارا، اصل سوال یہ ہے کہ کیا نئی اسرائیلی حکومت فلسطینیوں کو انسان سمجھتے ہوئے ان کے حقوق تسلیم کرنے کے لیے تیار ہوگی؟ کیا وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی قوانین کا احترام کرے گی؟ کیا وہ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے سنجیدہ مذاکرات کرے گی؟ اور کیا عالمی طاقتیں اسرائیل کو بین الاقوامی قانون کا پابند بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گی؟پاکستان کو جذباتی نعروں اور دوسرے ملکوں کے انتخابی نتائج پر جشن منانے کے بجائے ایک مو¿ثر، مستقل اور اصولی فلسطین پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔ ہمیں سفارتی سطح پر فلسطینی عوام کے حق خودارادیت، آزاد ریاست اور عالمی قوانین کے احترام کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے۔ کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کے مسائل دوسروں کے انتخابات میں شکست و فتح کے جشن منانے سے حل نہیں ہوتے، بلکہ مضبوط خارجہ پالیسی، مسلسل سفارتی کوششوں اور قومی ترجیحات کے تعین سے حل ہوتے ہیں! لہٰذا اسرائیل میں کوئی بھی جماعت اقتدار میں آئے، پاکستان کو اپنی امیدوں کا مرکز اسرائیلی سیاست دانوں کو نہیں بلکہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق اور عالمی انصاف کے اصولوں کو بنانا ہوگا۔ نیتن یاہو کی سیاسی مشکلات پر خوشی منانے والوں کو یہ ضرور سمجھنا چاہیے کہ ایک وزیراعظم کی شکست اور ایک قوم کی آزادی دو بالکل مختلف معاملات ہیں۔ اسرائیل میں چہرے بدل سکتے ہیں، حکومتیں تبدیل ہو سکتی ہیں، اتحاد ٹوٹ سکتے ہیں، لیکن جب تک ریاست کی بنیادی پالیسی نہیں بدلتی، فلسطینیوں کی قسمت بدلنے کی امیدیں محض خوش فہمی ہی رہیں گی۔